1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں حفاظتی بندوں میں شگاف ، محکمہ آبپاشی پر الزام

پاکستان میں گزشتہ برس آنیوالے سیلاب کے دوران حفاظتی بندوں میں شگاف ڈالنے کے ذمہ دار محکمہ آبپاشی کے متعلقہ حکام ہیں۔ یہ انکشاف سپریم کورٹ کے حکم پر بنائے گئے کمیشن نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کیا ہے۔

default

عدالت نے گزشتہ سال دسمبر میں یہ کمیشن قائم کیا تھا اور اسے ان الزامات کی تحقیق کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی، جن کے تحت معروف قانون دان فخر الدین جی ابراہیم ، مسلم لیگ (ق) کی رہنماء ماروی میمن اور دیگر افراد نے سندھ میں با اثر افراد کی جانب سے اپنی زرعی زمینوں اور دیگر املاک کو بچانے کے لیے غیر قانونی طورپر حفاظتی بندوں میں شگاف ڈالنے کا مرتکب قرار دیا تھا۔

تاہم کمیشن نے کسی بھی سیاسی یا اہم شخصیت کو ذاتی مفاد کے لیے حفاظتی بند میں شگاف ڈالنے سے بری الذمہ قرار دیا ہے۔ اس کمیشن کے سربراہ سابق چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا اعظم خان تھے جبکہ دیگر ارکان میں فتح خان خجک سابق چیف سیکرٹری بلوچستان، سندھ سے اے ڈبلیو قاضی اور پنجاب سے سابق وفاقی سیکرٹری خواجہ ظہیر احمد نےشامل تھے۔

Flutkatastrophe in Pakistan

کمیشن نے کسی بھی سیاسی یا اہم شخصیت کو ذاتی مفاد کے لیے حفاظتی بند میں شگاف ڈالنے سے بری الذمہ قرار دیا ہے

کمیشن کی جانب سے تحقیقات کی بنیاد ان 13سوالات ہی کو بنایا گیا، جو سپریم کورٹ نے سیلاب کے دوران نقصانات ان کے ذمہ داروں اور متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی کے حوالے سے اٹھائے تھے۔ اس مقدمے کی ایک درخواست ماروی میمن نے تحقیقاتی رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ڈوئچے ویلے کو بتایا ’’ یہ انصاف کا سلسلہ صحیح راہ پر ہے اور میں امید کرتی ہوں کہ کل اچھے احکامات جاری کئے جائیں گے کیونکہ یہ واضح ہو گیا ہے اور چیف جسٹس صاحب نے کہا ہے کہ کافی کرپشن ہوئی ہے۔ میں نے پٹیشن دائر کی تھی کہ سیلاب میں مجرمانہ غفلت کی وجہ سے زیادہ نقصان ہوا ہے، جو یقیناً ثابت ہوئی ہے۔‘‘

تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیلاب سے قبل ناقص مرمت، دریائی پٹی میں نجی پشتوں کی تعمیر، بیراجوں پر پانی کے بہاؤ کا درست اندازہ نہ لگانا، متعلقہ عملے کی نا اہلی اور بندوں کی حفاظت کے لیے منظور شدہ سرکاری طریقہ کار پر عملدرآمد نہ کرنا بھی بند ٹوٹنے کی بڑی وجہ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چیف انجینئر گدو بیراج اور ایکسین کی جانب سے بروقت حفاظتی تدابیر اختیار نہ کر نے کی وجہ سے سندھ اور بلوچستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں میں یہ افراد براہ راست ملوث ہیں۔ ان کے خلاف سندھ ہائیکورٹ کے تحت تحقیقات ہونی چاہئیں۔ رپورٹ کے مطابق صوبائی محکمہ موسمیات کی جانب سے موسم کے حوالے سے رپورٹس بھی تاخیر کا شکار رہیں اور ان میں تضاد بھی پایا گیا۔

نقصانات کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 855 ارب روپے کا نقصان ہوا، جن میں 65 فیصد لوگوں کا نجی نقصانات شامل ہیں۔ یہ نقصان قومی مجموعی پیداوار کا 5.8 فیصد بنتا ہے۔ متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی کے حوالے سے کمیشن نے کہا ہے کہ مختلف علاقوں کو مناسب توجہ نہیں دی جا سکی تاہم اس کے باوجود حکومت اور این جی اوز نے متاثرین کی بحالی کے لیے بھرپور تعاون کیا۔

Pakistan Flutkatastrophe Überschwemmung Folgen Jamshoro

855 ارب روپے کا نقصان ہوا، جن میں 65 فیصد لوگوں کا نجی نقصانات شامل ہیں، رپورٹ

رپورٹ میں صوبائی محکمہ آبپاشی کا گزشتہ 10سال کا آڈٹ کرانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فیڈرل فلڈ کمیشن اور قومی آفات سے نمٹنے کے ادارے کو مستحکم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ ماروی میمن کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ اب اس عدالتی حکم تر عملدرآمد کا ہے، جو سپریم کورٹ اس رپورٹ کے نتائج کی روشنی میں کل (منگل) کو جاری کرے گی۔‘‘اب ہماری پوری کوشش ہو گی کہ کسی بھی طریقے سے یہ حکومت ان احکامات پر عملدرآمد کرائے۔ یہ بہت ضروری ہے کیونکہ آگے بھی سیلاب آ رہے ہیں اور ہمیں اپنے لوگوں کی حفاظت کرنی ہے۔ یہ حکومت کرپٹ اور نا اہل ہے، جو ثابت ہو چکا ہے۔ ''

DW.COM