1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں جنرل کیانی کی ملازمت میں توسیع پر ملا جلا ردعمل

فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کے حکومتی فیصلے پر پاکستان میں ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کئی ماہرین اگر اس پر تنقید کر رہے ہیں تو کئی اسے اچھا قدم بھی قرار دے رہے ہیں۔

default

جمہوری حکومت کے ہاتھوں فوجی سربراہ کی سروس کی مدت میں توسیع

حکومتی اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں نے جنرل کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا ہے۔ اس کے برعکس اپوزیشن جماعت مسلم لیگ نواز کے ترجمان صدیق الفاروق نے دبے الفاظ میں پاکستان پیپلز پارٹی کو متنبہ کیا ہےکہ وہ فوجی سربراہ کی ملازمت کے عرصے میں توسیع کوسیاسی لین دین کے طور پر استعمال نہ کرے۔

Pakistan Ministerpräsident Yousaf Raza Gilani

گیلانی کے بقول یہ توسیع ضروری تھی

پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے جمعے کے روز بھی چیف آف آرمی سٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع کے فیصلےکا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں موجودہ پالیسیوں کے تسلسل کے لئے جنرل کیانی کی سروس کے عرصے میں اضافہ ضروری تھا۔

ملکی مسلح افواج کے سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی حمایت کرتے ہوئے دفاعی امور کے معروف تجزیہ نگار میجر جنرل (ر) جمشید ایاز نے ڈوئچے ویلے کو بتایا: ’’جنرل کیانی بین الاقوامی سطح پر جو کام کر رہے ہیں، اس کے تناظر میں ان کے امریکہ، نیٹو اور یورپ کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ وہ ایک منجھے ہوئے جنرل ہیں اور سامنے رہ کر قیادت کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔‘‘

اس نقطہ نظر کے برعکس دفاعی امور کی تجزیہ کار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے ڈوئچے ویلے کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ جنرل کیانی کی موجودگی کے باوجود دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں کوئی بڑی پیشرفت سامنے آنے کا امکان نہیں ہے۔

ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے کہا: ’’جمہوری حکومت نے فوجی سربراہ کو ان کی مدت ملازمت میں توسیع دینے کا فیصلہ اس لئے کیا کہ خود جنرل کیانی بھی اس میں دلچسپی رکھتے تھے۔ وہ امریکہ کے ساتھ لابی کرنے میں مصروف تھے کہ ان کی سروس کے عرصے میں توسیع کی جائے، جو کر دی گئی۔‘‘ عائشہ صدیقہ نے یہ بھی کہا کہ ایسے فیصلوں سے فوج بحیثیت ایک قومی ادارےکےکمزور ہو جاتی ہے۔

'آج‘ ٹی وی کے ایک معروف میزبان اور سینئر صحافی طلعت حسین کے بقول اگر وزیراعظم گیلانی کی اس رائے سے اتفاق کر بھی لیا جائےکہ اشفاق پرویز کیانی کی سروس میں توسیع ناگزیر تھی، تو بھی یہ دیکھنا پڑے گا کہ آیا ’’ملک کو نازک حالات سے نکالنے کا یہ درست طریقہ ہے یا اس کی جگہ ایسی پالیسیاں ترتیب دی جائیں، جن میں اداروں کا شخصیات پر انحصار کم ہو۔‘‘

طلعت حسین نے جمعے کے روز ایک گفتگو میں ڈوئچے ویلے کو بتایا: ''وزیراعظم کی جانب سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ موجودہ غیر معمولی حالات کب تک ٹھیک ہو جائیں گے۔‘‘

اسی د وران پاکستانی وزیر اعظم گیلانی نے جمعے ہی کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’’اب صدر، وزیراعظم، چیف جسٹس اور آرمی چیف، سبھی کے عہدوں کی مدت 2013 میں مکمل ہو گی اور سب کو آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہیئں۔‘‘

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے اس بیان پر معروف صحافی طلعت حسین نے کہا: ’’آنے والے سالوں میں جنرل کیانی کو ذاتی طور پر اور فوج کو بحیثیت ایک ادارے کے ایسے سیاسی بیانات کی قیمت چکانا پڑےگی۔‘‘

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس