1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

پاکستان میں جرمنوں کی تعمیر کردہ عمارت کے لیے عالمی ایوارڈ

پاکستان کے ضلع شیخوپورہ میں جرمن ماہرین تعمیرات کی بانسوں اور کچی مٹی سے تعمیر کردہ ایک ماحول دوست عمارت کو سوئٹزرلینڈ کی ہیلسم فاؤنڈیشن نے ایشیا پیسیفک ریجن میں ایک لاکھ ڈالر مالیت کا پہلا ایوارڈ دیا ہے۔

اسکول کی زیر تعمیر ایوارڈ یافتہ عمارت

اسکول کی ایوارڈ یافتہ عمارت

سوئٹزرلینڈ کا یہ ادارہ ایسی عمارتوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جو اپنے منفرد طرز تعمیر کے ساتھ ساتھ دیرپا افادیت کی بھی حامل ہوں۔ کچی مٹی، ریت، پانی، پتوں اور بانسوں جیسے قدرتی ساز و سامان سے تیار کی جانے والی یہ دو منزلہ ماحول دوست عمارت پاکستان کے ضلع شیخوپورہ کے ایک چھوٹے سے گاوں جھاڑ مولوی میں تعمیر کی جا رہی ہے۔

اس علاقے کے ایک رہائشی آصف جاہ آج کل جرمنی میں رہتے ہیں۔ انہوں نے اس پسماندہ علاقے میں غریب لڑکیوں کی تعلیم کے لیے سلطان ٹیپو سکول نامی ایک فلاحی تعلیمی ادارہ قائم کر رکھا ہے۔ اس سکول میں کلاس رومز کی کمی تھی اور بڑی جماعتوں کے بچے کھلے آسمان کے نیچے زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے تھے۔ آج کل جرمن ماہرین تعمیرات آصف جاہ کی فیملی اور جرمنی کے فلاحی اداروں کی مدد سے یہاں دو منزلہ عمارت تعمیر کر رہے ہیں، جو چار کلاس رومز پر مشتمل ہو گی۔

یہ عمارت پورے علاقے کے لوگوں کی دلچسپی کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ لوگ دور دور سے اس عمارت کو دیکھنے کے لیے آ رہے ہیں۔ اس ہفتے لاہور کی بیکن ہاؤس یونیورسٹی کے طلبہ نے اس عمارت کا دورہ کیا۔ لاہور کی ایک بڑی تعمیراتی کمپنی نے ایسے ماحول دوست طرز تعمیر پر مبنی ایک ہاؤسنگ سو سائٹی شیخوپورہ شہر میں بنانے کے لیے جرمن ماہرین سے رابطہ کیا ہے۔

شیخوپورہ کے گاؤں میں ماحول دوست عمارت تعمیر کرنے والے جرمن ماہرینِ تعمیرات کا مقامی ماہرین کے ساتھ گروپ فوٹو

شیخوپورہ کے گاؤں میں ماحول دوست عمارت تعمیر کرنے والے جرمن ماہرینِ تعمیرات کا مقامی ماہرین کے ساتھ گروپ فوٹو

اس منفرد تعمیراتی منصوبے کے خالق جرمنی کے شہر برلن سے تعلق رکھنے والے آئی کے روزواک ہیں جو کچی مٹی سے عمارتیں بنانے کے فن میں خصوصی مہارت رکھتے ہیں، وہ اس سے قبل بنگلہ دیش، مشرقِ وُسطیٰ اور یورپ میں ایسی کئی عمارتیں بنا چکے ہیں۔

ڈوئچے ویلے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات اور تعمیراتی لاگت میں ہونے والے مسلسل اضافے کے بعد سستا، روایتی اور ماحول دوست طرز تعمیر اپنانے کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ ان کے بقول کچی مٹی اور بانسوں سے بنی ہوئی عمارتیں سیلابوں اور زلزلوں کا زیادہ بہتر مقابلہ کر سکتی ہیں۔ ان کی دیکھ بھال پر بھی بہت کم خرچ آتا ہے اور ان کی کم از کم عمر پچاس سال کے قریب ہوتی ہے۔

ان کے مطابق سخت گرمی میں ان عمارتوں میں درجہ حرارت باہر کے مقابلے میں پانچ سے آٹھ درجہ سینٹی گریڈ کم ہو جاتا ہے۔ ان کے بقول اس طرز تعمیر سے نہ صرف دم توڑتی مقامی تعمیراتی روایات کو زندہ رکھا جا سکتا ہے بلکہ اس سے تعمیراتی اخراجات پر اٹھنے والی رقم بھی دیہی آبادی کو ہی ملتی ہے جس سے دیہات میں غربت کے خاتمے میں مدد مل سکتی ہے۔

جرمن ماہر تعمیرات آج کل پاکستانی معماروں اور تعمیرات کے شعبے سے وابستہ کارکنوں کو تربیت بھی فراہم کر رہے ہیں۔ ایسی تربیت حاصل کرنے والے ایک پاکستانی ماہر تعمیرات اللہ دتہ عاصم نے بتایا کہ کچے گھروں کی تعمیر قدیم پاکستانی روایت ہے لیکن جرمن ماہرین تازہ ترین تحقیق کی مدد سے مٹی کی کوالٹی اور اس کے مناسب استعمال کو یقینی بنا کر کچے مکانوں کی مضبوطی اور پائیداری کو فروغ دے رہے ہیں۔

اس تعمیراتی منصوبے پر کام کرنے والے ایک پاکستانی معمار بشارت علی نے بتایا کہ جرمن ماہرین سے تربیت حاصل کر کے اب وہ مقامی میٹیریل سے ایسے گھر بنا کر اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔

اس عمارت کے لیے مقامی طور پر دستیاب قدرتی ساز و سامان استعمال کیا گیا ہے

اس عمارت کے لیے مقامی طور پر دستیاب قدرتی ساز و سامان استعمال کیا گیا ہے

دسویں جماعت کی صائمہ نامی ایک طالبہ نے بتایا کہ دھواں اگلنے والے بھٹوں کی اینٹوں سے تیار کیے جانے والے گھر گرمیوں میں تپ جاتے ہیں جبکہ اس ماحول دوست طرز تعمیر سے موسمی اثرات سے کافی حد تک بچا جا سکتا ہے۔

سلطان ٹیپو سکول کی پرنسپل بشریٰ پروین کا کہنا تھا کہ جرمن فلاحی اداروں کے اچھے کاموں کی تقلید کی ضرورت ہے۔ ان کے خیال میں ان کے سکول میں ماحول دوست منفرد عمارت کی تعمیر سے ایک خوشگوار تعمیراتی مثال کا قائم ہونا ان کے لیے خوشی کا باعث ہے۔

ماریہ نامی ایک جرمن آرکیٹیکٹ خاتون نے بتایا کہ اسے پاکستان آ کر اس منصوبے پرکام کرنا بہت اچھا لگا ہے۔

آنے نامی ایک جرمن ماہر تعمیرات نے بتایا کہ جرمنی سستے اور ماحول دوست گھروں کی تعمیر کے لیے ٹیکنالوجی ٹرانسفر کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اس طرز تعمیر کے فروغ کے لیے لوگوں کے مائنڈ سیٹ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: امجد علی

DW.COM