1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں ججوں کی ممکنہ بحالی کی منسوخی سماعت ملتوی

پاکستانی سپریم کورٹ نے ججوں کی بحالی کا نوٹیفیکیشن واپس لینے کے مبینہ حکومتی فیصلے سے متعلق میڈیا رپورٹوں پر ازخود نوٹس کی سماعت پیر کے روز غیر معینہ عرصے تک کے لئے ملتوی کر دی۔

default

حکومتی وکیل نے پیر کے روز عدالت سے استدعا کی تھی کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لئے حکومت کی طرف سے قائم کردہ کمیٹی کو اپنا کام مکمل کرنے کے لئے ابھی مزید وقت درکار ہے۔

ججوں کی بحالی کا نوٹیفیکیشن ممکنہ طور پر واپس لینے کے حکومتی فیصلے سے متعلق ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں پر از خود نوٹس لیتے ہوئے اس مقدمے کی سماعت سپریم کورٹ کے ایک سترہ رکنی بینچ نے کی۔ اس موقع پر اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق نے عدالت کو بتایا کہ حکومت اسی سال سولہ مارچ کو ججوں کی بحالی سے متعلق جاری کیا گیا نوٹیفیکیشن واپس لینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔

حکومتی وکیل نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے نوٹیفیکیشن کی ممکنہ واپسی کو غیر آئینی قرار دئے جانے کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے سے صدر، وزیر اعظم اور 105 اہم حکومتی اہلکاروں کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔ پیر کے روز سماعت کے دوران اس چھ رکنی تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی گئی، جو حکومت کی جانب سے ججوں کو ممکنہ طور پر ہٹانے کے بارے میں میڈیا سے نشر ہو نے والی خبروں کی تحقیقات کر رہی ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس کمیٹی کو اپنا کام مکمل کرنے کے لئے ابھی مزید وقت درکار ہے۔ اس پر عدالت نے مقدمے کی سماعت غیر معینہ مدت تک کے لئے ملتوی کر دی۔

Pakistans neuer Präsident Asif Ali Zardari

سپریم کورٹ کے فیصلے سے صدر، وزیر اعظم اور 105 اہم حکومتی اہلکاروں کو آگاہ کر دیا گیا ہے

ادھر آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ واضح عدالتی حکم نامے نے حکومت کو اس قدر پابند کر دیا ہے کہ وہ ججوں کو ہٹانے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ اس بارے میں سابق وزیر قانون اور آئینی ماہر عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا: ’’ایک سوسے زیادہ محکموں کے سربراہان یا آئینی سربراہوں، تمام کے تمام کو آرٹیکل 190 کے تحت پابند کیا گیا ہے اور اب یہ ان کا آئینی فرض ہے کہ وہ اس فیصلے پر عمل کریں۔‘‘

دوسری جانب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی جانب سے عدلیہ کے معاملے پر اتوار کی شام کئے گئے قوم سے خطاب پر وکلاء نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ججوں کی بحالی کے لئے وکلاء تحریک کےسرگرم رہنما طارق محمود اور اطہر من اللہ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی جانب سے ججوں کی بحالی کا نوٹیفیکیشن واپس نہ لینے کی زبانی یقین دہانی ہی کافی ہے۔

تاہم سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر قاضی انور کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے عدلیہ کے ججوں کو بات چیت کے ذریعے مفاہمت کا جو پیغام دیا ہے، وہ درست نہیں تھا۔ قاضی انور نے کہا: ''میں وزیر اعظم کو بصد احترام یہ بتانا چاہتا ہوں کہ عدلیہ کوئی سیاسی پارٹی نہیں ہے۔ یہ آپ کی سیاسی حریف یا مخالف نہیں۔ ان کے ساتھ گفت و شنید سیدھی سیدھی بات ہے کہ آپ آئین کے مطابق ان کے فیصلوں پر عملدرآمد کریں۔ ان کی آپ کے ساتھ کوئی مخالفت نہیں۔ نہ یہ آپ کو ہٹا کر آپ کی جگہ بیٹھیں گے اور نہ آپ کے ہٹنے سے ان کو کوئی فائدہ پہنچے گا۔‘‘

دریں اثناء پاکستانی سپریم کور ٹ نے ججوں کی بحالی کا نوٹیفیکیشن واپس لینے کے حوالے سے خبریں نشر ہونے کے بعد جمعہ کے روز سنائے گئے مختصر عدالتی حکم نامے کا تحریری متن بھی جاری کر دیا ہے۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس