1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

”پاکستان میں تمام اہم پالیسی فیصلے پارلیمان میں ہوں گے“

پاکستان کے نو منتخب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے امریکی صدر جورج ڈبلیو بُش کے ساتھ ٹیلیفون گفتگو میں کہا ہے کہ پاکستان امریکی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کا حامی ہے لیکن اِس مسئلے سے نمٹنے کےلئے ایک وسیع تر حکمتِ عملی کی ضروت ہے اور اِس میں سیاسی حل کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ گیلانی نے پاکستان کے دَورے پر گئے ہوئے نائب امریکی وزیر خارجہ جون نیگرپونٹے اور معاون وزیر خارجہ رچرڈ باؤ‎چر کو بتایا کہ تمام اہم

یوسف رضا گیلانی صدر مشرف کے ہاتھوں اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد

یوسف رضا گیلانی صدر مشرف کے ہاتھوں اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد

پالیسی فیصلے ملکی پارلیمان کرے گی۔

پیر 24 مارچ کو نئے پاکستانی وزیر اعظم کی حلف برداری کی تقریب کے فوراً بعد امریکی صدر بُش نے اُنہیں فون پر مبارک باد دی، جبکہ اگلے ہی روز یعنی منگل کو نیگروپونٹے اور باؤ‎چر پاکستان پہنچ گئے اور اُنہوں نے مختصر مدت کے اندر اندر حکومت اور اپوزیشن کی کئی شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کر ڈالیں۔ پاکستان عوام کے کچھ طبقوں نے اِن عہدیداروں کے دَورے کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے اِس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔

دونوں امریکی عہدیداروں نے درہء خیبر کے قریب پختون قبائلی علاقے کا بھی دَورہ کیا اور قبائلی معززین کے ساتھ ملاقات کی۔ نیگروپونٹے اور باؤ‎چر کے ساتھ ملاقات میں مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف نے بھی واضح کیا کہ سلامتی کے معاملے میں اب مشرف پہلے کی طرح اکیلے ہی فیصلے نہیں کر سکیں گے۔ واضح رہے کہ یہ دونوں امریکی عہدیدار یہ یقین دہانی حاصل کرنے کے لئے پاکستان گئے ہیں کہ نئی مخلوط حکومت عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کے سلسلے میں مشرف حکومت کے وعدوں کی پاسداری کرے گی۔

یوں نئے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی انپے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد سے اپنے عہدے سے مخصوص معمول کی سرگرمیوں میں مصروف ہو چکے ہیں۔ ایک طرف وہ ٹیلی فون پر بیرونی دُنیا کے سربراہانِ مملکت و حکومت کی مبارکبادیں وصول کر رہے ہیں تو دوسری جانب اپنی کابینہ کے خدو خال کو بھی حتمی شکل دینے میں لگے ہوئے ہیں۔

ملتے جلتے مندرجات