1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں تعلیمی شعبے کے لیے ایک ارب ڈالرز کی امداد

سابق برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن کے مطابق بین الاقوامی ڈونرز نے پاکستان میں تعلیمی شعبے کے لیے ایک بلین امریکی ڈالرز کی امداد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

default

گورڈن براؤن کے مطابق عالمی ڈونرز کی طرف سے یہ امداد اگلے تین برس کے دوران کئی ملین ایسے بچوں کو تعلیم کی سہولیات بہم پہچانے کے لیے فراہم کی جائے گی جو اسکول جانے سے محروم ہیں۔

برطانیہ کے سابق وزیراعظم گورڈن براؤن اس وقت ’گلوبل ایجوکیشن‘ یا عالمی سطح پر تعلیم کے فروغ کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے ہفتہ 29 مارچ کو پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں کہا کہ عالمی برادری پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں سہولیات کی اب تک سب سے بڑی فراہمی کے لیے سرمایہ فراہم کرے گی۔

پاکستان میں تعلیم کے لیے سالانہ ملکی بجٹ میں حال ہی میں دو گنا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ بجٹ مجموعی قومی پیداوار کے دو فیصد سے بڑھا کر رواں برس چار فیصد کر دیا گیا ہے۔

پاکستانی حکومت نے تعلیم کے لیے سالانہ ملکی بجٹ میں حال ہی میں دو گنا اضافہ کیا ہے

پاکستانی حکومت نے تعلیم کے لیے سالانہ ملکی بجٹ میں حال ہی میں دو گنا اضافہ کیا ہے

گورڈن براؤن کے مطابق عالمی برادری کی طرف سے فراہم کی جانے والی امداد کا مقصد 55 ملین سے زائد ایسے لوگوں کو تعلیم فراہم کرنا ہے جن کی عمر 10 برس سے زائد ہے اور وہ تعلیم سے محروم ہیں۔

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں ہونے والے یوتھ کنونشن سے خطاب کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورڈن براؤن کا کہنا تھا،’’یہ رقم فراہم کرنے کے وعدے متعدد عالمی اداروں اور دوست ممالک کی طرف سے کیے گئے ہیں۔‘‘

براؤن کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستانی وزیراعظم میاں نواز شریف، وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور تمام صوبوں کے وزرائے تعلیم سے ملاقاتیں کی ہیں اور وہ پورے ملک میں تعلیم کے فروغ کے لیے انتہائی پر عزم ہیں۔ ’’ہمیں ایسے متفقہ اقدامات کرنے چاہییں کہ لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کو اسکول جانے کا موقع ملے۔ ہمیں امید ہے کہ ایسی نئی تجاویز تیار کی جائیں گی جو ہر بچے کو تعلیم فراہم کرنے کی کوششوں کو مہمیز دیں گی۔‘‘

سابق برطانوی وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران ایک بڑی تبدیلی واقع ہوئی ہے اور اب لوگوں نے یہ بات تسلیم کر لی ہے کہ پاکستان کے معاشی مستقبل کا انحصار تعلیم پر ہے اور لڑکیوں میں بھی اس بات کی آگاہی پیدا ہوئی ہے کہ انہیں تعلیم کا حق ملنا چاہیے۔

تعلیم کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی گورڈن براؤن کا کہنا تھا کہ پاکستان گزشتہ کئی برس سے تعلیم کے میدان میں دنیا سے کہیں پیچھے ہے، جس کی وجہ بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد کا اسکول نہ جانا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر اگلے دو برسوں کے دوران اس حوالے سے بہتری کے لیے تیز رفتار کوششیں کی جائیں تو پاکستان دنیا میں ایک مثال بن سکتا ہے۔

ملتے جلتے مندرجات