1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں ترک ماہر تعلیم کا پورے خاندان سمیت ’اغوا‘

پاکستان میں پاک ترک اسکولوں کے ایک سابق ڈائریکٹر اور ترک شہری کو ان کے پورے خاندان سمیت ’اغوا‘ کر لیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے پاکستانی کمیشن کے مطابق اس ترک خاندان کو ’پاکستانی اداروں کے اہلکاروں نے لاہور سے اغوا‘ کیا۔

اسلام آباد سے جمعرات اٹھائیس ستمبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق پاکستان میں پاک ترک اسکولوں کے سابق ڈائریکٹر اور ترک شہری مسعود کچماز کو ان کی اہلیہ اور دو بیٹیوں سمیت مبینہ طور پر پاکستانی ریاستی اداروں کے اہلکاروں نے لاہور سے ’اغوا‘ کر لیا۔

Bildkombo Fethullah Gülen / Tayyip Erdogan

ترک صدر ایردوآن، دائیں، اور فتح اللہ گولن

نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق لاہور میں محمد انیس نامی ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ کچماز اور ان کے اہل خانہ کو بدھ ستائیس ستمبر کی صبح ایک درجن  سے زائد اہلکار ان کی رہائش گاہ سے ایک بڑی گاڑی میں سوار کرا کے اپنے ساتھ لے گئے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مبینہ طور پر پاکستان کے ریاستی اداروں کے ان اہلکاروں میں مردوں کے علاوہ خواتین بھی شامل تھیں۔

دوسری طرف نیوز ایجنسی روئٹرز نے پاکستان میں انسانی حقوق کے احترام کے لیے کوشاں سب سے بڑے ادارے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس ترک ماہر تعلیم اور ان کے اہل خانہ کو لاہور سے مبینہ طور پر پاکستانی حکام نے ہی ’اغوا‘ کیا۔ اس تازہ واقعے سے ایک سال سے بھی کم عرصہ قبل پاکستان نے مسعود کچماز کو ملک بدر کر کے ترکی بھیجنے کی کوشش بھی کی تھی۔

ترک اساتذہ پاکستان میں ٹھہر سکتے ہیں، پشاور ہائی کورٹ

ترک اساتذہ کے حکومت پاکستان سے شکوے

پاکستان میں گولن کی تنظیم پر پابندی، ترک وزیر کا دورہ کامیاب

مسعود کچماز کے بارے میں یہ بات اہم ہے کہ وہ پاکستان میں پاک ترک اسکولوں کے نیٹ ورک کے ڈائریکٹر تھے، اور دنیا کے مختلف ممالک میں کام کرنے والے ان تعلیمی اداروں کے مبینہ طور پر امریکا میں ایک جلاوطن ترک مبلغ فتح اللہ گولن کے ساتھ رابطے بھی تھے، جن کی موجودہ ترک حکومت شدید مخالفت کرتی ہے۔

Türkische Lehrerinnen der Pak Turk School in Islamabad

پاکستان نے کئی ترک ٹیچرز کو گزشتہ نومبر میں ملک چھوڑنے کے لیے کہہ دیا تھا

ترک حکومت کا یہ الزام بھی ہے کہ ترکی میں گزشتہ برس فوجی بغاوت کی جو ناکام کوشش کی گئی تھی، اس کے پیچھے بھی مبینہ طور پر فتح اللہ گولن کی ’خدمت تحریک‘ ہی کا ہاتھ تھا۔ گولن اپنے خلاف انقرہ حکومت کے یہ الزامات مسترد کرتے ہیں۔

پاکستان میں کام کرنے والے پاک ترک اسکولوں اور وہاں تعلیم دینے والے زیادہ تر ترک اساتذہ پر موجودہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن بھی پاکستان کے اپنے کئی دوروں کے دوران شدید تنقید کر چکے ہیں۔

ترکی میں داخلی سیاسی اختلافات کے بعد انقرہ حکومت نے گزشتہ برس پاکستان سے یہ مطالبہ بھی کر دیا تھا کہ وہ اپنے ہاں تمام پاک ترک اسکول بند کر دے۔ ان اسکولوں کی طرف سے اگرچہ گولن کے ساتھ اپنے کسی بھی طرح کے رابطوں کی تردید کی جاتی ہے تاہم پاکستانی حکام نے گزشتہ برس نومبر میں ان اسکولوں کے تمام ترک اساتذہ کو ملک سے رخصت ہو جانے کا حکم بھی دے دیا تھا۔

پاکستان سے ترک اساتذہ کی ملک بدری کی وجوہات سیاسی، ایمنسٹی

صدر ایردوآن کے لیے ’تحفہ‘، ترک اساتذہ کو پاکستان چھوڑنے کا حکم

پاک ترک اسکول: ’نہ کوئی پرنسپل نکالا گیا، نہ بند ہوئے ہیں‘

مسعود چکماز کے اغوا کے بارے میں پاکستان کے ہیومن رائٹس کمیشن (ایچ آر سی پی) نے اس ترک شہری کے لاہور میں ترکی ہی سے تعلق رکھنے والے ایک ہمسائے کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ چکماز اور ان کے خاندان کے تین دیگر افراد کو قریب 20 مسلح افراد اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

ویڈیو دیکھیے 01:06

ترکی میں آئینی ریفرنڈم

بدھ کو رات گئے جاری کردہ اپنے ایک بیان میں ایچ آر سی پی نے کہا، ’’مسعود چکماز، ان کی اہلیہ اور دو بیٹیوں کو سروں پر کپڑا ڈال کر  اور ہتھکڑیاں پہنا کر ایک وین کے ذریعے ایک ایسے مکان میں پہنچا دیا گیا، جہاں کئی دیگر تفتیشی اہلکار پہلے سے موجود تھے۔‘‘

پاکستانی صوبہ پنجاب کی حکومت اور صوبائی محکمہ پولیس نے رابطہ کرنے پر اس بارے میں کچھ بھی کہنے سے احتراز کیا۔ ایچ آر سی پی نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کچماز اور ان کے اہل خانہ کو فوری طور پر رہا کرے اور انہیں ملک بدر کر کے ترکی بھیجنے سے بھی پرہیز کرے۔

مسعود چکماز اور ان کے اہل خانہ کے بارے میں یہ بات بھی اہم ہے کہ یہ پورا ترک خاندان گزشتہ قریب ایک سال سے پاکستان میں قانونی طور پر مقیم ہے۔ ایچ آر سی پی کے مطابق اس خاندان کے ہر رکن کے پاس اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ وہ دستاویزات موجود ہیں، جن کے مطابق ان تمام ترک شہریوں نے پناہ کی درخواستیں دے رکھی ہیں۔

DW.COM

Audios and videos on the topic