1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں تاریخ خود کو بار بار دہراتی ہے

پاکستان میں عام انتخابات کے چھ مہینے بعد پاکستان کا حکمران اتحاد ٹوٹ گیا ہے۔ اِس پیشرفت کے نتیجے میں پاکستانی کی پہلے سے کشیدگی سے عبارت صورتحال اور زیادہ خراب بھی ہو سکتی ہے۔ ڈوئچے ویلے کے تھوماس بیرتھ لائن کا تبصرہ

default

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں حکومتی اتحاد سے الگ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے

حکومت سے پاکستان مسلم لیگ نون کی علٰیحدگی کا نتیجہ حکومت کے خاتمے کی شکل میں تو یقیناً برآمد نہیں ہو گا لیکن ملک میں طویل المدتی جمہوری عمل کے لئے یہ پیشرفت بلا شبہ ایک بڑا دھچکہ ہے۔ جو کچھ ہوا، اُس میں قصور نواز شریف کا نہیں ہے کیونکہ اُنہوں نے حکمران اتحاد کو بچانے کے لئے تمام تر کوششیں کیں۔ تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کے قائد آصف علی زرداری اپنے طرزِ عمل کے ساتھ تمام قابلِ برداشت حدیں پار کر گئے تھے۔

مشرف کی جانب سے معزول کئے گئے ججوں کی بحالی کا معاملہ شروع ہی سے نِزاع کا باعث چلا آ رہا تھا۔ گو مخلوط حکومت کی تشکیل کے معاہدے میں باضابطہ طور پر جج بحال کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا تھا لیکن پیپلز پارٹی نے کبھی کوئی ایسا عِندیہ نہیں دیا کہ وہ طے شُدہ سمجھوتے کو عملی شکل بھی دینا چاہتی ہے۔ رہی سہی کسر آصف علی زرداری کے اِس بیان نے نکال دی کہ سمجھوتوں میں لکھی چیزیں، قرآن یا حدیث نہیں ہوتیں کہ جنہیں بدلا نہ جا سکے۔

حکمران اتحاد کے لئے نِزاع کی ایک اور وجہ مشرف کی جانشینی پر جاری بحث ہے۔ زرداری خود صدر بننا چاہتے ہیں لیکن وہ پہلے اُن اضافی اختیارات کو ختم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں، جو مشرف نے اپنے لئے حاصل کر لئے تھے۔ ان اختیارات میں پارلیمان تحلیل کرنا بھی شامل ہے۔

سرِدست پارلیمان کے اندر ایسے موقع پرستوں کی کمی نہیں ہو گی، جو حکومت کے ساتھ تعاون کریں گے اور چھ ستمبر کو زرداری کو صدر بھی منتخب کروا دیں گے۔ ایسا کرنے والوں میں امکانی طور پر مشرف کی حامی جماعت کے بھی ارکانِ پارلیمان شامل ہوں گے۔

تاہم آیا صدر کے انتخاب کے ساتھ ہی پاکستان میں سیاسی طور پر سکون ہو جائے گا، یہ بات خارج از امکان ہے۔ تازہ حالات کو ایک نئے جمہوری دَور کا آغاز بہرحال نہیں کہا جا سکتا۔ زرداری پر بدعنوانی کے الزامات ہیں اور اُنہیں عُرفِ عام میں ’’مسٹر ٹین پرسنٹ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اُن کے خلاف مقدموں کی کارروائی محض اُن سمجھوتوں کی وجہ سے بند ہوئی ہے، جو پیپلز پارٹی نے مشرف کے ساتھ کئے تھے۔

پاکستان میں بہت سے لوگ آج یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ اگر آج زرداری آزاد عدلیہ کی راہ میں رکاوَٹ بنتے ہیں یا وہ ضرورت پڑنے پر پارلیمان تحلیل کرنے کا حق اپنے پاس محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو پھر اُن میں اور مشرف میں فرق کیا ہوا؟ پھر ایک بار اقتدار ایک ایسے شخص کے ہاتھوں میں ہو گا، جسے صرف اپنی طاقت عزیز ہو گی اور جو ہر جائز ناجائز ذریعہ استعمال کرتے ہوئے اُس طاقت کا دفاع کرے گا۔

ایسے میں آنے والے ہفتوں میں سیاسی بحث مباحثہ ایک بار پھر سڑکوں پر منتقل ہو جائے گا۔ وکلاء ایک بار پھر مظاہرے شروع کر دیں گے۔ نواز شریف کی جماعت اور دیگر سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی کے نمائندے بھی اِس احتجاج میں شامل ہوجائیں گے۔ یوں سلامتی کی صورتحال، طالبان کی جانب سے درپیش خطرات، اقتصادی بحران، مہنگائی اور بجلی کی قلت جیسے فوری حل طلب وہ نازُک معاملات ایک بار پھر نظر انداز ہو جائیں گے، جن پر حکومت کو دراصل اپنی توجہ مرکوز کرنا چاہیے تھی۔

امید کی جانی چاہیے کہ پیپلز پارٹی سڑکوں پر جاری احتجاج اور رائے عامہ کے دباؤ کے پیشِ نظر ملک میں مکمل جمہوریت رائج کرنے اور ایک آزاد عدلیہ کو رواج دینے پر آمادہ ہو جائے گی۔ یہ سمجھنا زرداری کی سادگی ہو گی کہ وہ نوے کے عشرے کی طرح پاکستان میں ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے ملک چلا سکیں گے۔ ایسا ہوا تو یہ چیز خطرناک بھی ہو گی کیونکہ سبھی یہ بات اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں جب بھی سیاسی عناصر آپس میں مفاہمت میں ناکام ہو جاتے ہیں تو اُس کا ہمیشہ ایک ہی نتیجہ برآمد ہوا کرتا ہے، فوجی بغاوت کی صورت میں۔