1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ  کی واپسی، میدان کل سجے گا

پاکستانی گراؤنڈ پر بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کے لیے ورلڈ الیون ٹیم کے پاکستان کے دورے کو ملکی کرکٹ کی تاریخ میں انتہائی اہم گردانا جا رہا ہے۔ ورلڈ الیون کی ٹیم میں سات ملکوں کے کھلاڑی شرکت کر رہے ہیں۔ 

ورلڈ الیون  ٹیم کے 13 کھلاڑی فاف ڈوپلیسی کے زیر قیادت آج پیر کی صبح سخت حفاظتی حصار میں پاکستا ن کے شہر لاہور پہنچ گئے ہیں۔ جبکہ ویسٹ انڈیز کے کھلاڑی سیموئل بدری آج رات لاہور پہنچ رہے ہیں۔ ورلڈ الیون کی ٹیم تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز بارہ، تیرہ اور پندرہ ستمبر کو پاکستان کے خلاف کھیلے گی۔

ورلڈ الیون کی ٹیم میں جن سات ملکوں کے کھلاڑی شرکت کر رہے ہیں، ان میں برطانیہ، آسٹریلیا، ویسٹ انڈیز، جنوبی افریقہ، بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیوزی لینڈ کے کھلاڑی شامل ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی اور دیگر پی سی بی حکام نے ہوائی اڈے پرکھلاڑیوں کا شاندار استقبال کیا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ورلڈ الیون کے کوچ اینڈی فلاور نے کہا ،’’ میں پاکستان پہنچ کر بہت خوشی محسوس کر رہا ہوں اور یہاں ہمارا بہت ہی پر تپاک استقبال کیا گیا ہے۔‘‘ فلاور کا کہنا تھا کہ آئندہ دنوں میں پاکستان میں بہت اچھی کرکٹ دیکھنےکو ملے گیا اور شائقین کرکٹ سیریز میں دلچسپ مقابلے دیکھیں گے۔ ورلڈ الیون کے کوچ کی حیثیت سے نمائندگی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اینڈی نے کہا کہ ورلڈ الیون کی ٹیم میں دنیائے کرکٹ کے بہترین کرکٹرز موجود ہیں‘‘۔

پاکستان میں ورلڈ الیون میچوں کے سلسلے  کا یہ آٹھواں دورہ  ہے۔ اس سے پہلے  سن سن انیس سو باسٹھ، سن انیس سو اڑسٹھ، سن انیس سو ستر، سن انیس سو اکہتر، سن انیس سو تہتر، سن انیس سو چھہتراور سن انیس سو اکیاسی میں ورلڈ الیون میچز ہوئے اور اس کے بعد ورلڈ الیون مقابلے اب 2017 میں ہونے جا رہے ہیں۔

 گزشتہ سالوں میں جتنے بھی دورے ہوئے ہیں ان میں یا تو فرسٹ کلاس میچز کھیلے گئے ہیں یا کھیلے گئے ون ڈے میچوں کو انٹرنیشنل میچز کا درجہ حاصل نہیں تھا۔ اس بار پاکستان اور ورلڈ الیون کے درمیان کھیلے جانے والے تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے ان میچوں کو انٹرنیشنل کرکٹ کا درجہ دیا گیا ہے۔

اس سے قبل سن 2015 میں پاکستا ن اور زمبابوے کی ٹیموں کے مابین محدود اوورز کی ایک سیریزکھیلی گئی تھی۔ یہ سیریز سری لنکن ٹیم پر مارچ دوہزار نو کو ہونے والے  ایک دہشت گردانہ حملے کے بعد کھیلی گئی تھی۔ سن دو ہزار نو کے دہشت گردانہ حملے میں سری لنکن ٹیم کی حفاظت پر مامور آٹھ پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے جبکہ مہمان ٹیم کے متعدد کھلاڑی بھی زخمی ہوئے تھے۔

Pakistan Lahore Cricket Stadion (DW/T. Saeed)

قذافی اسٹیڈیم سے  ہوٹل تک کے تمام راستوں پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں

پاکستان کر کٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد خان آفریدی نے لاہور میں ایک عالمی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں کہا،’’ اس دورے سے دنیا میں ایک مثبت پیغام جائے گا کیونکہ پاکستان کے لوگ کرکٹ سے بہت پیار کرتے ہیں ۔‘‘ شاہد آفریدی نے مزید کہا کہ اگر اس ورلڈ الیون میں بھارت کے بھی کھلاڑی شامل ہوتے تو اچھا ہوتا اور  اس سے دنیا کو ایک  بہتر پیغام پہنچتا۔ آفریدی نے سیریز کے انعقاد پر پی سی بی کی خدمات کو بھی سراہا۔ شاہد آفریدی بارہ ستمبر کو ہونے والا پہلا میچ دیکھنے لاہور قذافی اسٹیڈیم جائیں گے۔

وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت کے ساتھ مل کر ورلڈ الیون کے موقع پر لاہور میں انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔ قذافی اسٹیڈیم سے  ہوٹل تک کے تمام راستوں پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں جبکہ پنجاب  حکومت نےچھ ہزار پولیس اہلکار بھی تعینات کر رکھے ہیں۔

DW.COM