1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں بھارتی مداخلت کو دنیا میں عیاں کریں گے، عاصم باجوہ

ڈی جی آئی ایس پی آر عاصم باجوہ نے کہا ہے کہ بھارتی ایجنسی’را‘ کا اہم ہدف پاک چائنہ اقتصادری راہداری تھا، وہ گوادرکو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتے تھی اور اس کام کے لیے ’’را‘‘ سے مزید 30 تا 40 ایجنٹ فعال کیے جانا تھے۔

پاکستانی فوج کے شعبہء تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹینیٹ جنرل عاصم باجوہ نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کے ہمراہ اسلام آباد میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ بھارتی ایجنٹ ’کل بھوشن یادیو‘ کی گرفتاری کا کریڈٹ انٹیلی جنس ایجنسیز کو جاتا ہے۔ کل بھوشن کو مارچ کے پہلے ہفتے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

عاصم باجوہ نے کہا کہ مہران ایئربیس پرحملےکی منصوبہ بندی بھی کل بھوشن کےعلم میں تھی، اس کے پاس امریکا، پاکستان اور ایران کی کرنسی بھی تھی اور یہ تفتان کے راستے بلوچستان آیا تھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ کل بھوشن نے کراچی میں چودھری اسلم پر حملے سے متعلق بھی بتایا اور اسے بھارتی ایجنسی’’را‘‘کےچیف، جوائنٹ سیکرٹری ہینڈل کر رہےتھے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی ایجنٹ کی گرفتاری سے بھارتی ہائی کمشنر کو آگاہ کر دیا گیا ہے اور ’را‘ ایجنٹ کے خلاف کارروائی پاکستانی قانون کےمطابق کی جائے گی۔ انہوں نے کہا، ’’بلوچ قوم پرستوں سےرابطے اور بلوچستان میں تخریبی کارروائیاں کل بھوشن کے ٹاسک تھے اور مستقبل میں گوادر پورٹ بھی کل بھوشن کا ایک ہدف تھی۔ بھارتی ایجنسی ’را‘ پاکستان میں انسانی اسمگلنگ میں بھی ملوث ہے۔‘‘

پاکستان کی فوج کے ترجمان نے کہا کہ بھارت کے خلاف ہمیں اس سے بہترین اور کھلا ثبوت کوئی اور نہیں مل سکتا کہ کیسے دوسرے ملک کی انٹیلی جنس ایجنسی پاکستان میں شدت پسند کارروائیوں میں ملوث ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران ’را‘ کے ایجنٹ کل بھوشن یادیو کے بیان کی ایک ویڈیو بھی دکھائی گئی۔ اس بیان میں اس نے کہا، ’’میں نے بلوچ علیحدگی پسندوں سےمل کر بھارت کو منصوبہ بھیجا تھا۔ میں گوادر، پسنی، جیوانی سے متعلق معلومات پہنچاتا تھا۔‘‘ کل بھوشن یادیو اس ویڈیو میں کہہ رہا ہے، ’’ہماری طرف سے بلوچ باغیوں کی فنڈنگ بھی کی جاتی تھی۔‘‘

پنجاب میں فوجی آپریشن سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا، ’’ملک میں جہاں جہاں دہشت گردوں کے سلیپر سیلز ہوں گے، وہاں وہاں کارروائی کی جائے گی۔‘‘ پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا کہ اگر کسی گروہ سے متعلق معلومات ملتی ہیں، تو ان کی روشنی میں کارروائی کی جاتی ہے۔

DW.COM