1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

پاکستان میں بھارتی فلم ’فینٹم‘ کی نمائش پر پابندی

لاہور ہائی کورٹ نے بھارتی فلم ’فینٹم‘ کی پاکستانی سینما گھروں میں ممکنہ نمائش پر پابندی لگا دی ہے۔ ممبئی حملوں کے تناظر میں بنائی گئی اس بھارتی فلم کے خلاف متنازعہ پاکستانی مذہبی رہنما حافظ سعید نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔

default

’فینٹم‘ کی ہیروئن کترینہ کیف

آج جمعرات بیس اگست کے روز لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس شاہد بلال حسن نے اس کیس کی سماعت کی تو اس موقع پر عدالت میں حافظ محمد سعید کے وکیل اے کے ڈوگر کا کہنا تھا کہ اس فلم میں پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے منفی پراپیگنڈا کیا گیا ہے۔

بعد ازاں ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اے کے ڈوگر کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس فلم کے ٹریلر میں پاکستان میں گھس کر ایک پاکستانی شہری کی جان لینے کی جو بات کی گئی ہے، وہ پاکستان کی خود مختاری اور قانون کے منافی ہے۔ ان کے بقول اس عمل سے پاکستانی شہری کی زندگی کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں، دوسری طرف بھارتی فلم سے وابستہ لوگوں کا موقف ہے کہ اس فلم میں ایک ایسے شخص کا تذکرہ ہے، جو دہشت گردی کے الزام میں مطلوب ہے۔

اس کیس میں پاکستان کی وزارت داخلہ اور وزارت اطلاعات کو فریق بنایا گیا تھا۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت کے روبرو بتایا کہ یہ درخواست قبل از وقت دائر کی گئی ہے کیونکہ ابھی تک نہ تو کسی نے اس فلم کی نمائش کی اجازت مانگی ہے اور نہ ہی کسی کو یہ فلم دکھانے کے لیے کوئی این او سی جاری کیا گیا ہے۔

عدالت کے اس سوال پر کہ پاکستان کے گلی محلوں میں ڈی وی ڈیز اور کیبل پر دکھائی جانے والی غیر ملکی فلموں کا معاملہ کس ادارے کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، وفاقی حکومت کے وکیل نے بتایا کہ اس پر کارروائی کا اختیار پیمرا کو حاصل ہے۔ اس پر عدالت نے اپنا فیصلہ عبوری طور پر محفوظ کر لیا، جو جمعرات کی شام سنایا گیا۔ اے کے ڈوگر کے بقول اس عدالتی فیصلے کے بعد اب پاکستانی حکومت کے لیے لازم ہو گیا ہے کہ وہ ڈی وی ڈیز اور کیبل پر بھی اس بھارتی فلم کی نمائش کو روکے۔

پاکستان میں فلموں کے کاروبار پر گہری نظر رکھنے والے ممتاز ماہر ندیم مانڈوی والا نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ خصوصی گفتگو میں بتایا کہ انہیں نہیں معلوم کہ اس معاملے پر عدالت جانے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی۔ ان کے بقول موجودہ حالات میں کوئی پاکستانی بھی اس فلم کو پاکستان لا کر دکھانے کی ہمت نہیں کر سکتا۔ ’’بھارت ہر سال قریب ڈھائی سو ہندی فلمیں بناتا ہے، کوئی پاگل ہی ہو گا جو ساری فلمیں چھوڑ کر، بھاری سرمایہ لگا کر، ایک ایسی فلم پاکستان لے کر آئے، جس کی نمائش پاکستان میں فلم بینوں کی بڑی تعداد کی ناراضگی کا باعث بن سکتی ہو۔‘‘

2015 Film Phantom Katrina Kaif und Kabir Khan

’فینٹم‘ کی ہیروئن کترینہ کیف فلم کے ڈائریکٹر کبیر خان کے ہمراہ

فلموں کی تقسیم کاری اور نمائش کا طویل تجربہ رکھنے والے ندیم مانڈوی والا کا یہ بھی کہنا تھا کہ مارکیٹ کے حالات بھی فلمسازوں کو مجبور کر رہے ہیں کہ وہ متنازعہ امور میں نہ الجھیں۔ ان کے بقول پاکستان بھارت سے باہر بھارتی فلموں کی سب سے بڑی مارکیٹ بن چکا ہے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ بھارتی اداکار سلمان خان نے ’ایک تھا ٹائیگر‘ نامی اپنی فلم پر پاکستان میں پابندی لگنے کے بعد اپنے سٹاف کو ہدایت کی تھی کہ ان کی نئی فلم ’بجرنگی بھائی جان‘ میں پاکستان کے حوالے سے کوئی قابل اعتراض بات نہ ہو، ’’کترینہ کیف اور سیف علی خان کے ساتھ بننے والی ’فینٹم‘ اگر پاکستا ن میں دکھائی جاتی تو اس سے کم از کم بھارتی فلم میکرز کو آٹھ دس کروڑ روپے کی آمدن ضرور ہوتی، جس کا اب کوئی امکان باقی نہیں بچا۔‘‘

اس سوال کے جواب میں کہ آیا سینما گھروں میں شو پر پابندی کے باوجود پاکستانی یہ فلم دیکھ پائیں گے، ان کا کہنا تھا کہ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ پاکستانی حکام ڈی وی ڈیز اور کیبل پراس فلم کی نمائش کو روکنے کے حوالے سے عدالتی حکم پر کتنی سختی سے عمل درآمد کرواتے ہیں۔ ’’کارگل جنگ کے بعد تو بھارتی فلمیں سچ مچ دکھائی جانی بند ہو گئی تھیں لیکن آج کل ایسی سختی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔‘‘

DW.COM