1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

پاکستان میں بمباروں کے خلاف ’موسیقی کا ہتھیار‘

پاکستان میں شدت پسندوں کے حملوں نے آہوں اور سسکیوں کو تو جنم ضرور دیا، لیکن ان کے پس منظر میں ایک غیرمعمولی رسم بھی چل نکلی ہے، موسیقی جس کا محرک ہے۔

default

یہ رسم نوجوان لیکن دولت مند پاکستانیوں نے چلائی ہے، جو دہشت گردی، انتہاپسندی اور سیاسی بحران کے نرغے میں لپٹے اپنے ملک پاکستان کو مثبت راہ پر ڈالنا چاہتے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس مقصد کے لیے لندن کی منسٹری آف ساؤنڈ پاکستان میں موسیقی کے پروگراموں کا اہتمام کر رہی ہے۔ اس منسٹری کی جانب سے اینٹوں کے بھٹے پر حال ہی میں منعقدہ ایک پروگرام کے ڈی جے فیصل بِگ کا کہنا ہے کہ یہاں ایسا لگتا ہے کہ جیسے پاکستان میں نہیں، بلکہ کہیں اور ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کم از کم یہ وہ پاکستان تو نہیں لگتا، جسے آپ ذرائع ابلاغ کے ذریعے جانتے ہیں۔

اس کے منتظمین نے لندن کے معروف نائٹ کلب کو ایک رات کے پروگرام کے لیے ایک ڈی جے بھیجنے پر قائل کیا ہے۔ یہ پروگرام پاکستان میں سیاسی موضوعات پر اظہارِ خیال اور ذہنی دباؤ سے چھٹکارے کی وجہ بن رہا ہے۔

NO FLASH Anschlag Quetta Pakistan

پاکستان کو دہشت گردی کی کارروائیوں کا سامنا ہے

ملک کا ثقافتی دارالحکومت لاہور اس سرگرمی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ وہاں رائے ونڈ روڈ پر مسلمان اسکالروں کے تبلیغی مرکز اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اسٹیٹ کے قریب فارم ہاؤسز میں متعدد لوگ ہر ہفتے کی رات رقص و موسیقی کے ساتھ بسر کرتے ہیں۔

وہاں منسٹری آف ساؤنڈ کے پروگرام کے ایک شریک طاہر علی کا کہنا ہے: ’’یہ ہے پاکستان، میرا پاکستان، بدلتا ہوا پاکستان، اب اور دھماکے نہیں، دہشت گردی کی اور کارروائیاں نہیں، ہمارا معاشرہ بدل رہا ہے۔‘‘

اپنے کزن عمیر کے ساتھ اس پروگرام میں شریک زوبیہ کہتی ہیں: ’’آپ دیکھیں گے، ایک دِن آئے گا، جب پورا پاکستان بدلے گا، ہم اپنے معاشرے کو بدلیں گے، ہم انقلاب لائیں گے اور ہم انتہاپسندی سے چھٹکارا پائیں گے۔‘‘

 

رپورٹ: ندیم گِل / اے ایف پی

ادارت: افسر اعوان

DW.COM