1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان میں بلاگنگ، خبروں کی ترسیل کا نیا رجحان

پاکستان میں انٹرینٹ بلاگنگ کے ذریعے خبروں کی ترسیل کو ممکن بنانا اب بہت آسان دکھائی دے رہا ہے۔ اِس کی مثال ایک پاکستانی نوجوان سعد خان کی بنکاک میں ہلاکت کی خبر ہے جو انٹرنیٹ بلاگنگ کے ذریعے سامنے آئی۔

default

پاکستانی ریالٹی شو کی شوٹنگ کے دوران تھائی لینڈ کے شہر بنکاک میں کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک بتیس سالہ پاکستانی نوجوان سعد خان کی گزشتہ مہینے پانی میں ڈوب کر موت واقع ہوگئی تھی۔ اِس شو کو یونی لیور پاکستان نے سپانسر کیا تھا، جس کی وجہ سے یہ خبر دو ہفتوں تک پاکستانی میڈیا پر نہیں لی گئی، تاہم انٹرنیٹ پر یہ خبر مسلسل گردش کرتی رہی۔

اطلاعات کے مطابق سعد خان اس ریالٹی شو سے تیسری قسط میں ہی باہر ہوگیا تھا، مگر 19 اگست کو شوٹ ہونے والی دسویں قسط میں اُسے ایک بار پھر سرپرائز امیدوار یا نئے چیلنچر کے طور پر دوبارہ لایا گیا۔ اس شو میں ایک بار پھر اپنی جگہ بنانے کے لئے سعد خان کو اپنے پاؤں پر 15 پاؤنڈ کا وزن باندھ کر ایک تالاب میں کودنا تھا اور اپنا ٹاسک پورا کرنا تھا، جس کے دوران پانی میں ڈوب کر اُس کی موت واقع ہوگئی۔ سعد خان اپنے پیچھے اپنی بیوی اور چار بچے چھوڑ گئے ہیں۔

Symbolbild Computer, Blog

سعد خان کی ہلاکت کی خبر انٹرنیٹ پر گردش کرتی ہوئی بالآخر میڈیا کی توجہ کا مرکز بنی

یونیولیور کی ترجمان فرشتے گیتی اسلم کے ایک بیان کے مطابق سعد خان کو لائف سیونگ جیکٹ پہننے کے لئے کہا گیا تھا، تاہم اُس نے ایسی کسی جیکٹ کو پہننے سے انکار کردیا۔ شو کی میزبان آمنہ شیخ کے مطابق سعد خان بہت فٹ، خوش مزاج اور بہادر آدمی تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک بہترین سوئمر بھی تھا۔

انٹرنیٹ بلاگرز فرشتے گیتی کے اس بیان کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ پروگرام کے پروڈیوسرز کی ذمہ داری تھی کہ وہ سعد خان کو لائف جیکٹ لازمی طور پر پہناتے۔ اُنہوں نے یونی لیور پر اس شو میں حصہ لینے والوں کے لئے مناسب لائف سیونگ کے انتظامات نہ کرنے کا بھی الزام لگایا۔

یونی لیور کو اپنی تنقید کا نشانہ بنانے والوں کا مطالبہ ہے کہ یونی لیور اب سعد خان کی فیملی کی مالی طور پر مدد کرے۔ فرشتے گیتی کا کہنا ہے کہ یونی لیور ایسی کسی بھی مدد کے لئے قانونی طور پر ذمہ دار نہیں ہے، اس کے باوجود کمپنی نے سعد خان کی فیملی سے رابطہ رکھا ہوا ہے اور وہ اُن کی ہر ممکن مدد کرنے کو تیار ہے۔

اطلاعات کے مطابق مذکورہ شو یونی لیور پاکستان کی ایک پروڈکٹ ’’کلیئر شیمپو‘‘ کو پروموٹ کر نے کے لئے تیار کیا جارہا تھا۔ اس شو کی ذمہ داری پاکستان میں اشتہارات کی ایک بہت بڑی کمپنی ’’مائنڈ شیئر‘‘ کو دیا گیا تھا، جس نے بنکاک کی ایک کمپنی ’’بینیٹن‘‘ کو اسکے انتظامات کی ذمہ داری سونپی تھی۔ اس شو کی ہدایت کاری کے فرائض ایک بھارتی ڈائریکٹر اشوک گپتا کے ذمے تھے۔ اشوک گپتا نے اس سے پہلے بھی کچھ ایسے ہی شوز ڈائریکٹ کئے ہیں۔

رپورٹ: انعام حسن

ادارت: کشور مصطفٰی