1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں بدعنوانی کے خلاف مہم کا فیصلہ

پاکستان میں جعمرات سے ملک بھر میں انسدادِ بد عنوانی کی مہم شروع کر دی گئی ہے۔ پاکستانی حکومت کے مطابق اس بات کا فیصلہ حکومت اور ملکی معیشت کو بد عنوانی سے لاحق خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔

default

رحمان ملک کو بھی اپنے خلاف کرپشن کے الزامات کا سامنا ہے

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک، جنہیں خود بھی اپنے خلاف کرپشن کے الزامات کا سامنا ہے، نے بتایا کہ اس مہم کا آغاز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’ایسے افسران جو شہری انتظامیہ، وفاقی محکمہء محصولات، واٹر اینڈ پاور ڈویلوپمنٹ اتھارٹی، محکمہء پاسپورٹ یا قومی گیس کمپنیوں سے تعلق رکھتے ہوں اور بد عنوانی میں ملوث پائے گئے، ان کے خلاف فوری طور پر کارروائی کی جائے گی۔‘

Parkistan Politik Musharraf

پرویز مشرف اپنےدور اقتدار کےخاتمے کے بعد سے بیرون ملک مقیم ہیں

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رحمان ملک نے ملک میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی کا اعتراف کیا اور کہا: ’’دنیا بھلے کچھ بھی کہے، لیکن ہمیں سب سے پہلے اپنے گھر پر توجہ دینی ہے۔ ہاں، ہمارے ملک میں بہت بڑے پیمانے پر کرپشن موجود ہے۔‘‘

انہوں نے مزید بتایا کہ انسدادِ بد عنوانی کا یونٹ، ٹیلی فون، ای میلز اور ایس ایم ایس کے ذریعے موصول ہونے والی تمام شکایات پر کارروائی کرے گا۔ اس کے علاوہ کرپشن کی اطلاع دینے والوں کو انعامات بھی دئے جائیں گے۔ مزید یہ کہ انسدادِ بد عنوانی کے ذ‌مہ دار اہلکار مختلف محکموں میں متعین کئے جائیں گے تاکہ وہاں فوری طور پر بدعنوان عناصر کا پتہ چلایا جا سکے۔

کئی بین الاقوامی تنظیموں کے مطابق 2008ء میں سابق صدر پرویز مشرف کی فوجی حکومت کے اختتام کے بعد سے ملک میں بدعنوانی میں جو اضافہ شروع ہوا، وہ ابھی تک جاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس صورتحال نے پاکستان سے متعلق بین الاقوامی سطح پر بڑا منفی تاثر چھوڑا ہے، جس کے باعث نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی واقع ہوئی بلکہ پاکستان کو ملنے والی مالی امداد بھی متاثر ہوئی ہے۔

گزشتہ ماہ بدعنوانی پر نظر رکھنے والے بین الاقوامی ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی جانب سے بدعنوانی کے لحاظ سے مختلف ممالک کی جو درجہ بندی جاری کی گئی تھی، اس میں کُل 178 ریاستوں کی فہرست میں پاکستان 143ویں نمبر پر تھا۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس