1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں بدترین سیلاب سے لاکھوں افراد متاثر

پاکستان میں آئے حالیہ سیلاب سے لگ بھگ دس لاکھ افراد متاثر اور آٹھ سو سے زائد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ بیشتر متاثرین تک اب بھی ہنگامی امداد نہیں پہنچ سکی ہے۔

default

فوجی ہیلی کاپٹر امدادی کارروائی میں مصروف

ہفتہ کو اقوام متحدہ کے پاکستان میں رابطہ دفتر سے جاری بیان میں یہ اندازہ لگایا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں سیلاب سے سینکڑوں دیہات اور قصبے زیر آب آگئے ہیں۔ صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت وادی سوات، ضلع شانگلہ اور ملحقہ علاقوں کا ملک کے دیگر حصوں سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

لوگ تین دن سے بے سروسامانی کے عالم میں امداد کے منتظر ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں رہائشی بستیاں، سرکاری عمارات و تنصیبات اور بازار مکمل بربادی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ مال مویشیوں کی ہلاکتوں سے متاثرہ علاقوں میں وباء پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ مون سون کی موسلا دھار بارشوں کے باعث ساٹھ پلوں کو پانی بہا لے گیا ہے جبکہ وسیع زرعی رقبہ زیر آب آگیا ہے۔

Überschwemmung in Pakistan Flash-Galerie

یہ ملکی تاریخ کا بدترین سیلاب ہے

تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد آٹھ سو سے تجاوز کرگئی ہے۔ فوج اور دیگر امدادی رضا کاروں کو بھی متاثرین تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ ہیلی کاپٹروں سے لی گئی تصاویر میں متاثرین کو گھروں کی چھتوں، درختوں اور دیگر نوعیت کے اونچے مقامات پر امداد کے انتظار میں دیکھا گیا ہے۔ بعض لوگ اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ گھر کا کچھ سامان کاندھوں پر اٹھا کر محفوظ مقامات کی جانب پیدل چل رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین کے مطابق یہ ملکی تاریخ کا بدترین سیلاب ہے۔ ان کے بقول صوبے میں آٹھ سو ہلاکتوں کی تصدیق ہوچکی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں 150 سے زائد لوگ تاحال لاپتہ ہیں۔ میاں افتخار حسین نے متاثرین کی مجموعی تعداد کا اندازہ ساٹھ ہزار ظاہر کیا ہے۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کوہستان وادی میں سیلاب کے باعث دو سو غیر ملکی بھی پھنس گئے ہیں۔ صوبائی حکومت نے متاثرین کے لئے پشاور کے سرکاری سکولوں میں عارضی کیمپ قائم کردئے ہیں۔

Überschwemmung in Pakistan

لوگ بے سروسامانی کے عالم میں امداد کے منتظر ہیں

سیلاب کے باعث پنجاب میں بھی تباہی پھیلی ہے۔ ضلع سرگودھا میں دریائے جہلم اور چناب کے کنارے پر آباد دیہاتوں سے لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جارہا ہے۔ راجن پور اور منڈی بہاؤالدین میں درجنوں دیہات زیر آب آگئے ہیں۔ پنجاب میں متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دے کر زرعی قرضے معاف کردئے گئے ہیں۔ ادھر بلوچستان کے علاقوں کوہلو اور بولان میں بھی بہت سے علاقے زیر آب آگئے ہیں۔ بلوچستان میں پچیس ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔

سیلاب سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھی تباہی پھیلی اور پاکستان کو چین سے ملانے والی شاہراہ ء قراقرم استعمال کے قابل نہیں رہی ہے۔ کشمیر میں دو روز سے جاری بارشیں تھم جانے سے منگلا ڈیم اور دریائے نیلم اور جہلم میں سیلابی صورتحال بتدریج کم ہورہی ہے۔ گلگت بلتستان میں آٹھ اضلاع متاثر بتائے جاتے ہیں جبکہ نو ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔

پاکستان کے محکمہ ء موسمیات کے مطابق خیبر پختونخوا میں معمول سے زیادہ 312 ملی میٹر بارشیں ہوئیں۔ ادارے نے وقفے وقفے سے مزید بارشوں کی پیشن گوئی کی ہے۔ رپورٹ : شادی خان سیف ادارت :عاطف بلوچ

DW.COM