1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان میں بجلی کا بحران شدت اختیار کر گیا

کئی کئی گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ سے عوام سخت اذیت کا شکار ہیں۔ گزشتہ کئی روز سے گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ساتھ لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں بھی اضافہ ہوا جس کے باعث کئی علاقوں میں لوگوں نے رات کھلے آسمان کے نیچے گزاری۔

default


کراچی میں اس وقت بجلی کی طلب 2400 میگاواٹ ہے جب کہ کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کو لگ بھگ 900 میگاواٹ سے زائد بجلی کی کمی کا سامنا ہے جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں بارہ گھنٹے سے زائد لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔ کراچی شہر کے تقریبا تمام علاقے اس وقت لوڈ شیڈنگ کا شکار ہیں۔

کے ای ایس سی کے مطابق بن قاسم پاور یونٹ کے تین ٹربائنزخرابی کے باعث بند ہیں جبکہ باقی ٹربائنز کو فرنس آئل کی بجائے گیس پر چلایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے پلانٹ پوری صلاحیت سے کام نہیں کر پا رہا۔

واپڈا کے مطابق ملک بھر میں بجلی کی طلب اور رسد میں 5000 میگا واٹ کا عدم توازن ہے۔

منگل کے روزسب سے طویل دورانیہ کی لوڈ شیڈنگ سیالکوٹ میں ہوئی جہاں بجلی 16گھنٹے بند رہی۔ ملتان میں 12گھنٹے اور لاہور میں 10 گھنٹے تک بجلی غائب رہی۔ کچھ علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 14 گھنٹے یا اس سے بھی زائد رہا۔ پنجاب میں فورٹ عباس کے علاقے کھچی والا میں مظاہرین نے واپڈا کا دفتر نذرآتش کر دیا۔ سیالکوٹ، بھلوال، گجرانوالہ، ساہیوال اور سرگودھا میں مظاہرین نے بجلی کی بندش کے خلاف سڑکیں بلاک کر دیں۔ پاکپن میں خواتین نے بجلی کی بندنش کے خلاف جلوس نکالا۔ اوکاڑہ میں احتجاج کے دوران مشتعل مظاہرین نے کوئٹہ ایکسپریس کے شیشے توڑ دیے۔

Pakistan Demonstration gegen Preissteigerungen in Lahore

بلوچستان بھی لوڈ شیدنگ سے بری طرح متاثر ہے۔ کوئٹہ الکیٹرک سپلائی کمپنی کے مطابق کوئٹہ میں چھ گھنٹے جبکہ دیہی علاقوں میں 12 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کرنا پڑ رہی ہے۔

ضلع بولان ، سبی، نصیر آباد، جعفر آباد، خضدار، قلات، مستونگ، نوشکی، لورا لائی اور ژوب میں بھی طویل لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔

اندرون ِ سندھ ،حیدرآباد، جام شورو، خیر پور ناتھن، نوشہرو فیروز، ٹھٹھہ، سکھر، لاڑکانہ، شکار پور، جیکب آباد اور کوٹری میں بھی لوڈشیڈنگ سے عوام شدید پریشانی کا شکار ہیں۔

پشاور میں بھی بجلی کی بندش پر مظاہرین نے واپڈا کے خلاف زبردست نعرے بازی کی اور سڑکوں پر ٹائر جلا کر سڑکیں بلاک کر دیں۔ اس کے علاوہ صوبہ سرحد کے علاقوں سوات، کوہاٹ، مردان، چارسدہ، نوشہرہ، مانسہرہ اور بالا کوٹ میں بھی طویل لوڈ شیڈنگ سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

ملک بھر میں جاری بجلی کے بحران سے صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں پر بھی انتہائی منفی اثرات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔