1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان میں بجلی، پانی اور آٹے کا بحران

پاکستان میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے تنگ آئے ہوئے عوام کو اب کئی علاقوں میں اشیائے خورد و نوش کی قلت اور ان کی قیمتوں میں ہونے والے حالیہ اضافے کی شکل میں ایک اور سنگین بحران کا سامنا ہے۔

default

آٹے، بجلی اور چینی کا بحران: لمبی قطار، لمبا انتظار!

ماہِ رمضان کے آغاز سے بھی پہلے سے خاص طور پر پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے پنجاب میں حالات کافی تکلیف دہ صورت اختیار کر چکے ہیں اور لوگوں کیلئے آٹے اور چینی کا مقررہ نرخوں پر حصول مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ مختلف شہروں میں چلچلاتی دھوپ میں سرکاری نرخوں پر آٹا اور چینی حاصل کرنے والے خواہشمند لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں نظر آ رہی ہیں۔

شدید گرم موسم میں روزہ دار بوڑھے، بچے، جوان اور خواتین صبح سویرے سرکار کی طرف سے فراہم کئے جانے والے سستے آٹے کے حصول کی امید پر ان لائنوں میں لگتے ہیں اور ان میں سے بہت سے لوگ کئی گھنٹوں کے انتظار کے بعد مایوس اور نامراد ہو کر واپس اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ چھینا جھپٹی میں کئی کمزور یا بزرگ خواتین موقع پر ہی بے ہوش بھی ہو جاتی ہیں۔

Frauen, die aus einem Lastwagen Mehl kaufen

پاکستان میں خواتین چینی اور آٹا خریدنے کے لئے قطار میں

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ سرکاری ٹرکوں پر آنے والے چینی اور آٹے کے تھیلے با اثر لوگ لے جاتے ہیں جبکہ پولیس اہلکار، سیاسی کارکن اور دکانداروں کے کارندے یہ آٹا حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ غریب آدمی کے ہاتھ سوائے کھوکھلے سیاسی وعدوں کے کچھ نہیں آتا۔

اگرچہ حکومت کی طرف سے یو ٹیلیٹی سٹور ز اور رمضان بازاروں کے ذریعے عوام کو سستے نرخوں پر کھانے پینے کی اشیاء فراہم کرنے کے بلند بانگ دعوے کئے جا رہے ہیں لیکن عام طور پر یہ سرکاری دعوے محبوب کے وعدوں کی طرح کبھی حقیقت کا روپ نہیں دھار پاتے۔ سرکاری اہلکاروں کی طرف سے رمضان بازاروں میں چھاپے مارنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ کئی دکانداروں نے اپنی دکانوں پر 47 روپے فی کلو گرام کے حوالے سے چینی کی فروخت کے نرخ تو آویزاں کر رکھے ہیں لیکن سرکاری حکام کے چھاپوں کے بعد عملی طور پر چینی پچپن روپے سے لے کر ساٹھ روپے فی کلو گرام تک بیچی جا رہی ہے۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان میں چینی کے بہت سے کارخانے حکومت اور حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی اہم سیاسی شخصیات کے ہیں۔ شوگر ملوں کے مالکان میں ہمایوں اختر، پرویز الہیٰ، جہانگیر ترین، عامر سلطان چیمہ، نصرا ﷲ دریشک اور شریف برادران جیسی نمایاں سیاسی شخصیات بھی شامل ہیں۔ اسی لئے بعض حلقوں کی طرف سے یہ سوال بھی اٹھا یا جا رہا ہے کہ عوام کے دکھ میں ہلکان ہو کر بیان داغنے والے یہ سیاسی رہنما اپنی شوگر ملوں سے چینی کی سپلائی بہتر بنانے پر توجہ کیوں نہیں دیتے۔

SCHWEIZ ITALIEN STROMAUSFALL p178

پاکستان میں گھنٹوں تک بجلی کی معطلی اب روز مرہ کا معمول ہے

عوامی دکھوں کے خاتمے کے بلند بانگ دعوے کر کے بر سر اقتدار آنے والے پنجاب کے تاجر وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے جمعے کے روز اخبارات میں ایک خط شائع کرایا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ کم وسیلہ طبقات کو زندگی کی سختیوں سے محفوظ رکھنے کی ذمہ داری حکومت، انتظامیہ، صنعت کار، تاجروں اور پورے معاشرے پر عائد ہوتی ہے۔

جمعے کی دو پہر شہباز شریف ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور قریباً چالیس گاڑیوں کے قافلے کے ہمراہ، جس میں ایک ایمبو لینس بھی شامل تھی، سخت ترین حفاظتی انتظامات میں آٹے اور چینی کی فراہمی کا جائزہ لینے کیلئے لاہور شہر کے دورے پر نکلے۔ جب وہ اپنے گھر سے چند کلو میٹر دور چونگی امر سدھو کے قریب پہنچے تو انہیں سڑک کے کنارے سرکاری آٹے کا ایک ٹرک کھڑا نظر آیا، جہاں شدید دھوپ میں ڈیڑھ کلو میٹر لمبی قطار میں کھڑے لوگ آٹے کے حصول کا انتظار کر رہے تھے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے پہلے وہاں رکنا چاہا لیکن صورتحال کی نزاکت کو بھاپنتے ہوئے وہ اس منظر کو نظر انداز کر کے غریب عوام کے اس ہجوم کے پاس سے گزر گئے۔ یاد رہے کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے انتظامیہ کو آٹے اور چینی کی سپلائی بڑھا کر لمبی لمبی قطاریں ختم کرنے کی ہدایات جاری کر رکھی ہیں۔

BdT Pakistan Lebensmittelausgabe in Lahore

ہر عام پاکستانی مہنگائی سے تنگ آچکا ہے

اپنے اس"سرپرائز وزٹ" کے دوران وہ نشتر کالونی کے مین بازار پہنچے اور ایک کریانے کی دکان پر کھڑے ہو کر دکان دار سے پوچھا کہ وہ کس قیمت پر چینی بیچ رہا ہے۔ اس پر دکاندار نے بتایا کہ وہ سنتالیس روپے فی کلو گرام کے حساب سے چینی فروخت کر رہا ہے۔ اس پر وزیر اعلیٰ خوش ہوئے اور انہوں نے میڈیا کو مخاطب کر کے کہا کہ ’’دیکھئے!چینی بازار میں سینتالیس روپے فی کلو گرام کے حساب سے بک رہی ہے۔‘‘ ایک صحافی کے سوال پر وزیر اعلیٰ پنجاب کو بتایا گیا کہ چونکہ چینی اس ریٹ پر عام دستیاب ہے اس لئے اس دکان پر گاہکوں کا رش نظر نہیں آ رہا ہے۔

ایک دوسری دکان پر وزیر اعلیٰ پنجاب کو ایک شخص نے چیخ چیخ کر بتانے کی کوشش کی کہ انہیں سینتالیس روپے فی کلو گرام کے حساب سے چینی کی فروخت کا بتا کر غلط معلومات دی جا رہی ہیں۔ چینی اصل میں پچپن روپے کلو بیچی جا رہی ہے۔ شوگر مل کے مالک پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے اس شخص کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے وہاں موجود لوگوں سے پوچھا کہ وہ کون شخص ہے، جو ابھی کہہ رہا تھا کہ چینی سنتالیس روپے کلو مل رہی ہے۔ اس پر ایک نوجوان نے اپنا ہاتھ کھڑ اکر دیا ۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے اس نوجوان کو اپنے پاس بلایا کہ میگا فون میں یہ بات میڈیا والوں کو بتاﺅ کہ چینی سنتالیس روپے کلو مل رہی ہے۔

اگرچہ وزیر اعلیٰ کا یہ دورہ انتہائی خفیہ بتایا گیا تھا اور وزیر اعلیٰ کے سٹاف کے مطابق اس دورے کے روٹ کی اطلاع کسی کو بھی نہیں تھی لیکن اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا کہ وہاں آ کر شہبازشریف کے حق میں نعرے لگانے والے مسلم لیگی کارکنوں کو اس دورے کی اطلاع کیسے ملی تھی۔

Im Flüchtlingslager Mardan Pakistan Menschen flohen aus dem Swat Tal

پاکستان کے زیادہ تر غریب شہریوں کو پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں

اس سوال کا جواب بھی کسی کے پاس نہیں تھا کہ اگر چینی سنتالیس روپے فی کلو کے حساب سے عام دکانوں پر دستیاب ہے، تو پھر لوگ سرکاری ٹرکوں کے سامنے لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے ہونے پر کیوں مجبور ہیں۔

وزیر اعلیٰ کے نشتر کالونی سے چلے جانے کے بعد وہاں جمع ہونے والے لوگوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ عوامی مسائل کے حل کیلئے صحیح طرز عمل اپنانے کی بجائے اس طرح کے حکومتی ڈرامے افسوس ناک ہیں۔ ان کے مطابق اس علاقے میں پچپن روپے کلو کے حساب سے چینی فروخت کی جا رہی ہے۔ اِس کے برعکس وزیر اعلیٰ پنجاب نے میڈیا کے ساتھ دو دکانوں کا دورہ کر کے صوبے کے عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ صورتحال بالکل ٹھیک ہے۔

سیاسی حلقوں کے مطابق تاجر برادری سے تعلق رکھنے والے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کو تو یہ بات سمجھنی چاہےے کہ ذرائع ابلاغ پر پراپیگنڈہ کے ذریعے آٹے اور چینی کے بحران پر قابو نہیں پایا جا سکتا بلکہ اس کیلئے سپلائی اور ڈیمانڈ کی صورتحال کا بہتر بنانا ضروری ہے۔

رپورٹ: تنویر شہزاد

ادارت: امجد علی