1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’پاکستان میں ایک اور پانچ ہزار کے نوٹ منسوخ کیے جائیں‘

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر عثمان سیف اللہ خان نے ایک ہزار اور پانچ ہزارروپے کے نوٹوں کو منسوخ کرنے کے لیے سینیٹ میں ایک قرار داد پیش کی ہے۔

سینیٹر عثمان سیف اللہ خان نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ قدر والے نوٹ بدعنوانی اور کالے دھن کو سفید کرنے  میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ نہ صرف پڑوسی ملک بلکہ دنیا بھر میں اب زیادہ قدر والے نوٹوں کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے۔

چند روز پہلے بھارتی حکومت نے اپنے مالیاتی نظام میں سے زیادہ قدر والے نوٹ نکالنے کا اعلان کیا تھا۔ بھارتی حکومت کے اس حیران کر دینے والے اقدام کا مقصد کرپشن اور کالے دھن کا خاتمہ کرنا اور ایسے اربوں نوٹوں کو دوبارہ بینک مارکیٹ میں لانا ہے، جو لوگوں نے جمع کر رکھے ہیں۔

سینیٹر عثمان سیف اللہ خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بھی ایسا کرنے سے لوگ بینکوں کو استعمال کرنے پر مجبور ہوں گے اور کالے دھن کو کنٹرول کرنے میں مدد مل سکے گی۔

Pakistan Rupie (AP)

پاکستان کے قریب ایک سو ملین افراد کو بینک اور مالیاتی سہولیات میسر نہیں ہیں

پاکستان میں ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں پانچ ہزار روپے کے نوٹوں کو مارکیٹ میں لایا گیا تھا۔ مالیاتی ماہرین کی رائے میں اس فیصلے کے بعد لوگوں کے لیے پیسے بینکوں کے بجائے اپنے پاس رکھنا آسان ہو گیا تھا۔

پاکستان کے اسٹیٹ بینک کے ترجمان عابد قمر نے ایکسپریس  ٹریبیون کو بتایا، ’’اس وقت اسٹیٹ بینک کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے کہ پانچ ہزار روپے کے نوٹ کو منسوخ کر دیا جائے۔‘‘

کچھ ماہرین کے مطابق  بڑی مالیت کے نوٹ ایسے علاقوں کے لوگوں کے لیے فائدہ مند ہیں، جہاں بینک کی سہولیات موجود نہیں ہوتیں۔ عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے قریب ایک سو ملین افراد کو بینک اور مالیاتی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ وہ افراد جو بڑی مالیت کی کرنسی نوٹوں کی منسوخی کے حق میں ہیں ان کے مطابق یہ ملکی  کرنسی کی قدر کو کم کرتے ہیں اور مہنگائی کا سبب بنتے ہیں۔