1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں ایمر جنسی کا نفاذ اور بین الاقوامی رد عمل

بین الاقوامی سطح پر اس کو ماورائے قانون حکومتی اقدام قرار دیا گیا ہے اور اس طرح پاکستان کو ایک بار پھر عالمی جگ ہنسائی کا سامنا ہے۔

default


پاکستان میں جنرل مشرف کی جانب سے لگائی جا نے والی ایمر جنسی کو ملک کے اندر قانونی اور سیاسی حلقے مارش لاءقرار دے رہے ہیں وہیں بین الاقوامی سطح پر اس کو ماورائے قانون حکومتی اقدام قرار دیا گیا ہے اور اس طرح پاکستان کو ایک بار پھر عالمی جگ ہنسائی کا سامنا ہے۔ جرمن وزیر خارجہ فرینک والٹر شٹائن مائر نے قانون کی معطلی اور ایمرجنسی پر گہری تشویش بیان کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جلد از جلد آئین کو بحال کرتے ہوئے سول حکومت کے ساتھ آزاد عدلیہ اور ذرائع ابلاغ کی آزادیاں بحال ہونا، جرمن حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ جرمن وزیر خارجہ کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ دہشت گردانہ کاروائیوں کے خلاف ملک کا دفاع کرے۔شٹائن مائر نے سیاسی اور دوسری گرفتاریوں پر بھی تشویش ظاہر کی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ، آزاد اور شفاف انتخابات کے لیئے ماحول کو سازگار بنایا جائے۔ یو رپی یونین کے خارجہ امور کے چیف خاوئر سولانہ نے بھی جمہوری اقدار سے پیچھے ہٹنے پر مایوس کا اظہار کیا ہے۔ سولانہ کا مزید کہنا تھا کہ مشکل حالات میں بھی ایسا کرنا، صحیح سمت پر کوئی مناسب قدم نہیں قرار دیا جا سکتا۔

برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ پاکستانی دستور سے بالا کسی حکومتی ایکشن کی حمایت نہیں کریں گے اور وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈا لیزا رائس کا کہنا ہے کہ جلد ہی پاکستان میں حکومت آئین کی سمت اپنا رخ موڑ لے گی۔البتہ وائٹ ہاوس نے اس تمام صورت حال پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ایسے امکانات بھی سامنے آئے ہیں کہ ایمرجنسی نفاذ کے بعد امریکی مالی امداد میں کمی آ سکتی ہے۔ چین کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں تشویش کے ساتھ یہ کہا گیا ہے کہ امید کی جاتی ہے کہ حکومت اور عوام اس صورت حال کا کوئی حل تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ فرانس نے حکومت اور سیاسی قوتوں کے درمیان فوراً ڈائیلاگ کے سلسلے کی ضرورت پر زور دیا تا کہ ملک کے اندر سلامتی اور جمہوریت کو فروغ مل سکے۔ سویڈن کی وزارت خارجہ نے بھی اس صورت حال کو انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے پاکستان کے اندر محاذ آرائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

بھارت، آسٹریلیا،جاپان، بنگلہ دیش اور نیپال سمیت کئی ملکوں سے مایوسی کا اظہار سامنے آیا ہے اور اس سے خطے کے حالات پر منفی اثرات کے پیدا ہوسکنے کا خدشہ بیان کیا گیا ہے۔ میڈیا پر پابندیوں کے اعلان پر صحافیوں کی عالمی تنظیم کی جانب سے مذمتی بیان جاری کیا گیا ہے۔