1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں انیسویں آئینی ترمیم کی منظوری

پاکستانی قومی اسمبلی نے آئین میں انیسویں ترمیم کا بل تقریباﹰ متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ یہ بل پارلیمان کی آئینی اصلاحاتی کمیٹی کے سربراہ سینیٹر رضا ربانی نے ایوان میں پیش کیا۔

default

ترمیمی بل کے حق میں دو سواٹھاون جبکہ مخالفت میں ایک ووٹ ڈالا گیا

ترمیمی بل کے حق میں دو سواٹھاون جبکہ مخالفت میں ایک ووٹ ڈالا گیا۔ قومی اسمبلی میں پیش کئے جانے سے قبل بدھ کے روز آئین میں انیسویں ترمیم کے مسودے کی منظوری وفاقی کابینہ نے دی۔ انیسویں ترمیم کے تحت آئین کی چھ دفعات میں چھبیس ترامیم کی جائیں گی۔ ان میں زیادہ تر اٹھارویں آئینی ترمیم کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلوں سے مطابقت رکھتی ہیں۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے حوالے سے بعض شقوں میں ترمیم کا حکم دیا تھا۔

آئین کی شق 175۔ اے میں ترمیم کے ذریعے ججوں کی تعیناتی کے لئے قائم عدالتی کمیشن میں سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد دو سے بڑھا کر چار کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ عدالتی کمیشن کی طرف سے ججوں کے ناموں کی تجویز کے بعد ان کی منظوری دینے والی پارلیمانی کمیٹی کے حوالے سےسفارش کی گئی ہے کہ قومی اسمبلی تحلیل ہونے کی صورت میں اس کمیٹی میں موجود سینیٹ کے ارکان ججوں کے ناموں کی منظوری دیں گے۔

Pakistan Parlament Ministerpräsident Yusuf Raza Gilani

ججوں کی تعیناتی کے لئے وزیراعظم کا کردار بھی شامل کرنے کی تجویز دی گئی

سینیٹر رضا ربانی کے مطابق نئی ترامیم میں ججوں کی تعیناتی کے لئے وزیراعظم کا کردار بھی شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ قومی اسمبلی میں بل کی منظوری کے بعد تمام جماعتوں نے اسے پارلیمان کی طرف سے عدلیہ کو مضبوط بنانے کے لئے ایک اہم قدم قرار دیا۔ اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے اپنی تقریر میں کہا: ’’پاکستان میں جو طریقہ کار ججوں کی تقرری کے لئے اختیار کیا گیا ہے، مجھے یقین ہے کہ آنے والے دنوں میں کئی جمہوری حکومتیں ہمارے اس طریقہ کار کی پیروی کریں گی۔ ہم نے عدالتی تقرریوں کے لئے تین اصولوں کو پیش نظر رکھا تھا، جن کے تحت تقرریاں میرٹ پر ہونی چاہئیں، شفاف ہونی چاہئیں اور ادارہ جاتی طریقے سے ہونی چاہئیں۔‘‘

آئین کی شق ایک سو بیاسی میں بھی ترمیم کے ذریعے اعلیٰ عدلیہ میں ایڈہاک ججوں کی تعیناتی کا اختیار چیف جسٹس سے واپس لے کرعدالتی کمیشن اور پھر حتمی منظوری کے لئے صدر کو بھجوانے کی سفارش کی گئی ہے۔ تاہم بعض وکلاء اس شق کی مخالفت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایڈہاک ججوں کی تقرری کا اختیار صرف چیف جسٹس کے پاس ہی رہنا چاہیے۔ سپریم کورٹ میں اٹھارویں آئینی ترمیم میں ججوں کی تقرری کے طریقہ کار کو چیلنج کرنے والے ایک وکیل اکرام چوہدری نے ایک بار پھر انیسویں ترمیم کو بھی چیلنج کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا: ’’پارلیمنٹ سے جب اس ترمیم کی حتمی منظوری ہوجائے گی تو ہم موجودہ درخواستوں میں ترمیم کریں گے اور اس کے بعد پارلیمنٹ کا قانون سازی اور آئین میں ترامیم کا استحقاق برقرار رہتا ہے۔ ان آئینی ترامیم کے اندر رہ کر جانچنا اور فیصلہ دینا یہ عدلیہ کا بنیادی فرض ہے۔‘‘

انیسویں ترمیم میں قبائلی علاقوں سے ملحقہ علاقوں ٹانک اور لکی مروت کو فاٹا کا حصہ قرار دینے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ قومی اسمبلی کے بعد اب انیسویں ترمیم کا بل ایوان بالا یعنی سینیٹ میں پیش کیا جائے گا اور وہاں سے منظوری کے بعد صدر مملکت کے دستخطوں سے آئین کا حصہ بن جائے گا۔

رپورٹ: شکور رحیم / اسلام آباد

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM