1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان میں انسداد پولیو مہم کی تبدیل ہوتی صورتحال

پاکستان کا شمار دنیا کے ان دو ممالک میں ہوتا ہے، جہاں ابھی تک پولیو کے درجنوں واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ تاہم سکیورٹی کی بہتر ہوتی صورتحال اور بہتر منصوبہ بندی کی وجہ سے پولیو کے خاتمے کی مہم میں بھی بہتری آئی ہے۔

سن دو ہزار چودہ کے دوران پاکستان میں پولیو کے تین سو چھ کیسز سامنے آئے تھے، جو کہ گزشتہ ستّرہ برسوں کے مقابلے میں سب سے بڑی تعداد تھی۔ پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی مہم کی سربراہ سینیٹر عائشہ رضا فاروق کا کہنا ہے کہ رواں برس پولیو کیسز کی تعداد میں حیران کن تبدیلی واقع ہوئی ہے جبکہ ابھی تک پولیو کے صرف چالیس کیسز سامنے آئے ہیں۔ پاکستان میں انسداد پولیو کی مہم کے بارے میں عائشہ کا جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’رواں برس انسداد پولیو مہم انتہائی کامیاب رہی ہے۔ کئی جگہوں پر مداخلت کرتے ہوئے متعدد اسٹریٹیجک تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔ پولیو کیسز میں گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں برس ہم پچاسی فیصد کمی لائے ہیں۔‘‘

Pakistan Ayesha Raza Farooq Abgesandte der Regierung für Polio

پولیو کے خاتمے کی مہم کی سربراہ سینیٹر عائشہ رضا فاروق کا کہنا ہے کہ رواں برس پولیو کیسز کی تعداد میں حیران کن تبدیلی واقع ہوئی ہے

عائشہ کا کہنا تھا کہ اب بھی ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان علاقوں تک مسلسل رسائی حاصل رہے، جہاں ماضی میں پہنچنا انتہائی مشکل تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی قبائلی علاقوں میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے اور پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں کو سکیورٹی فورسز کی مدد بھی حاصل ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ماضی میں انہیں وزیرستان بیلٹ تک رسائی حاصل نہیں تھی جبکہ اب وہاں بھی صورتحال تبدیل ہوئی ہے۔

عائشہ رضا فاروق کا انسداد پولیو مہم میں لائی جانے والی دیگر تبدیلیوں کے بارے میں کہنا تھا، ’’ ہم نے گزشتہ نو ماہ کا ڈیٹا جمع کیا تو ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایسے بہت کم بچے ہیں، جنہیں پولیو کے قطرے نہیں پلائے جا رہے لیکن اہم بات جو ہم نے نوٹ کی وہ یہ تھی کہ ان مخصوص بچوں کو ہر سال ہی قطرے نہیں پلائے جا رہے تھے۔ یہ کبھی لسٹ میں آئے ہی نہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ رواں برس بچوں کی منظم طریقے سے نگرانی کی جا رہی ہے۔ اگر بچے گھر پر نہیں ملتے تو انہیں اسکولوں میں ڈھونڈا جاتا ہے یا پھر دوبارہ ان گھروں تک رسائی حاصل کی جاتی ہے تاکہ کوئی بچہ پولیو کے قطرے پینے سے محروم نہ رہے۔

عائشہ بتاتی ہیں کہ پاکستان میں انسداد پولیو مہم کو سب سے زیادہ نقصان پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر ہونے والے حملوں کی وجہ سے پہنچا ہے۔ ان کے مطابق سن دو ہزار گیارہ تک انسداد پولیو مہم صحیح طریقے سے چل رہی تھی لیکن دسمبر دو ہزار بارہ کے بعد سے پولیو ٹیموں پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوا، جس کی وجہ سے پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔

وہ کہتی ہیں کہ ماضی میں جن بچوں کو پولیو کے قطرے نہیں پلائے جا سکے ان کی تعداد تقریباﹰ پانچ لاکھ تھی لیکن اب یہ کم ہو کر صرف پینتیس ہزار رہ گئی ہے۔