1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان میں انتہاپسندی کے خلاف جنگ، امریکی کوششوں میں اضافہ

سلطان محمود گجر اسلامی عسکریت پسندوں کا ایک پکا حامی تھا۔ اس نے پاکستان، افغانستان اور بھارت میں عسکری کارروائیوں میں مصروف کئی تنظیموں کو بہت سا چندہ بھی دیا، تاہم ایک مذہبی عالم سے ملاقات کے بعد اس کی کایا پلٹ گئی۔

default

پاکستان میں ایک مدرسے میں 40 روزہ لیکچر دیا جاتا ہے۔ سلطان محمود گجر نے بھی یہی تعلیم 40 روز مسلسل حاصل کی اور اس کے دل سے عسکریت پسندوں سے محبت جاتی رہی۔

اس اسلامی مدرسے میں فضل الرحمان نامی عالم اپنے طالب علموں کو یہ بتاتے ہیں کہ عسکریت پسندوں کی کارروائیاں کس طرح اسلامی تعلیمات سے متصادم ہیں۔ 46 سالہ پراپرٹی ڈیلر سلطان محمود گجر نے بعد میں کہا کہ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ انتہا پسند عسکری تنظیمیں کس کس طرح قرآن اور دیگر مذہبی تعلیمات کو توڑ مروڑ کر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ ’اب میں کبھی انہیں جہادی نہیں پکاروں گا۔ یہ قرآنی تعلیمات اور جہاد کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔‘

NO FLASH Pakistan Hakimullah Mehsud und Anhänger

پاکستان میں طالبان سمیت متعدد عسکری تنظمیں دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث رہی ہیں

فضل الرحمان اس مدرسے میں تقریباً 400 طلبہ کو روزانہ کی بنیاد پر دو گھنٹے تعلیم دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اپنے طالب علموں کو اپنے لیکچرز کی ڈی وی ڈیز بھی دیتے ہیں تاکہ وہ اپنے حلقہ احباب میں انہیں تقسیم کریں۔ تاہم فضل الرحمان کو مالی مشکلات کا سامنا بھی ہے۔

امریکہ نے اسی مقصد کے لیے پاکستان میں بنیادی سطح پر ایک ایسا پروگرام متعارف کروایا ہے، جو پاکستان میں اعتدال پسند رجحان کے حامل مدرسوں اور مذہبی رہنماؤں کی مالی معاونت کرے گا تاکہ انتہاپسند قوتوں کو کم علم افراد کو غلط سمت میں لے جانے سے روکا جا سکے۔ اس حوالے سے اسلام آباد میں قائم امریکی سفارتخانہ بنیادی نوعیت کا کردار ادا کرے گا۔

فضل الرحمان نے بتایا کہ اسے فی الحال اس پروگرام کے تحت کسی طرح کی کوئی مالی اعانت حاصل نہیں ہوئی ہے اور وہ اپنا کام نیک جذبے اور سچی لگن کے ساتھ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا اس سلسلے میں انہوں نے امریکی سفیر کیمرون منٹر سے ملاقات کی ہے تاکہ انہیں اپنے کام میں آسانی کے لیے کچھ مالی مدد حاصل ہو۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: امجد علی

DW.COM