1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں امریکی فوجی کارروائی: کبھی اجازت نہیں دی، مشرف

ان میڈیا رپورٹوں کے بعد کہ کئی سال قبل امریکہ کو پاکستان میں بن لادن کے خلاف فوجی آپریشن کی اجازت دے دی گئی تھی، سابق پاکستانی صدر مشرف نے تردید کی ہے کہ ان کے دور میں واشنگٹن کے ساتھ کبھی ایسی کوئی مفاہمت ہوئی تھی۔

default

امریکی فوجی مداخلت کی درخواستوں کو ہمیشہ رد کیا، مشرف

پاکستانی دارالحکومت سے کچھ دور ایبٹ آباد نامی شہر میں امریکی خصوصی کمانڈوز نے اس ماہ کے شروع میں دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو جس آپریشن میں ہلاک کیا تھا، اس پر پاکستان میں مسلسل کی جانے والی تنقید اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والی بحث کے پس منظر میں کئی امریکی اہلکاورں کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسی کارروائی کی پاکستان نے قریب ایک عشرہ قبل ہی امریکہ کو اجازت دے دی تھی۔

اسلام آباد سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق اس پس منظر میں سابق پاکستانی صدر اور ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے واضح کر دیا ہے کہ ان کے دور میں پاکستان کا امریکہ کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ کبھی نہیں ہوا تھا کہ اگر ایسی خفیہ اطلاعات ملیں کہ بن لادن پاکستان میں ہی کہیں چھپے ہوئے ہیں، تو امریکی کمانڈوز پاکستانی سرزمین پر فوجی کارروائی کرتے ہوئے بن لادن کو گرفتار یا ہلاک کرنے کی کوئی کوشش کرتے۔

اس بارے میں پرویز مشرف کے ترجمان فواد چوہدری نے آج منگل کے روز ایسی رپورٹوں کو قطعی بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ان کی بھر پور تردید کی کہ جنرل مشرف اور سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی حکومتوں کے درمیان ماضی میں ایسی کوئی ’انڈرسٹینڈنگ‘ ہوئی تھی۔

NO FLASH Haus Osama Bin Laden

کئی سال تک ایبٹ آباد میں بن لادن اور ان کے اہل خانہ کے زیر استعمال رہنے والا وسیع تر رہائشی کمپاؤنڈ

فواد چوہدری کے بقول مشرف دور میں پاکستان نے اس بارے میں نہ تو امریکہ کے ساتھ کوئی تحریری معاہدہ کیا تھا اور نہ ہی ایسی کوئی زبانی مفاہمت ہوئی تھی۔ فواد چوہدری نے کہا کہ جنرل ریٹائرڈ مشرف نے دراصل اس بارے میں امریکہ کی متعدد درخواستوں کو ہمیشہ رد ہی کیا تھا کہ واشنگٹن کو پاکستان میں فوجی کارروائیاں کرنے کی اجازت ملنی چاہیے۔

سابق پاکستانی صدر مشرف کے اس ترجمان نے یہ وضاحتی بیان دبئی سے دیا، جہاں اس وقت خود پرویز مشرف بھی مقیم ہیں۔

امریکہ پر گیارہ ستمبر2011ء کے دہشت گردانہ حملوں کے ذمہ دار اور القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو امریکی بحریہ کے SEALS کہلانے والے خصوصی کمانڈوز کے ایک دستے نے دو مئی کو علی الصبح ایبٹ آباد میں ان کی رہائش گاہ پر کارروائی کر کے ہلاک کر دیا تھا، جس کے چند ہی گھنٹے بعد امریکی حکام نے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ کوئی بھی ملک بن لادن کی لاش کو لینے پر تیار نہیں تھا، اس لیے اسے دفنانے کی بجائے ’اسلامی طریقے سے‘ سمندر برد کر دیا گیا۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس