1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں امریکی فوجی عملے میں کمی پر اتفاق

خبر رساں ادارے دی ایسوسی ایٹڈ پریس نے امریکی حکام کے حوالے سے منگل کو بتایا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان پاکستان میں موجود امریکی فوجیوں کی تعداد محدود کرنے پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے۔

default

یہ خبریں ایک ایسے وقت سامنے آئی ہیں، جب دونوں ملک تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پاکستانی سرزمین پر امریکی فوجیوں کی موجودگی پاکستان میں بے انتہا غیر مقبول ہے اور اِس طرح کے جذبات میں پاکستانی سرزمین کے اندر ہونے والے خصوصی امریکی فورسز کے اُس حملے کے بعد سے اور زیادہ شدت آ چکی ہے، جس میں القاعدہ کے سربراہ اُسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

امریکی اور پاکستانی حکام کے مطابق نئے سمجھوتے کے تحت پاکستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد کم کر دی گئی ہے اور آئندہ 100 سے لے کر 150 تک امریکی فوجیوں کو ہی پاکستان میں قیام کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ تعداد اب تک کے مقابلے میں تقریباً آدھی ہے۔ خصوصی آپریشنز کی تربیت دینے والے عملے کی تعداد 140 سے کم ہو کر 10 سے بھی نیچے چلی جائے گی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اِس عملے کے ارکان کو پاکستانی سرزمین پر سرگرم عمل رہنے کی اجازت دینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں اقوام کے درمیان برف پگھل رہی ہے کیونکہ ابھی چند مہینے پہلے تک پاکستان مطالبہ کر رہا تھا کہ امریکی فوجیوں کے ساتھ ساتھ ان تمام تربیت کاروں کو بھی ملک چھوڑ کر چلے جانا چاہیے۔

وزیر دفاع لیون پنیٹا نے واشنگٹن میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت ’جس حد تک ہو سکا، پاکستانیوں پر دباؤ ڈالے گی کہ وہ سرحد کے پاکستانی حصے کی جانب حالات کو اپنے کنٹرول میں لائیں‘

وزیر دفاع لیون پنیٹا نے واشنگٹن میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت ’جس حد تک ہو سکا، پاکستانیوں پر دباؤ ڈالے گی کہ وہ سرحد کے پاکستانی حصے کی جانب حالات کو اپنے کنٹرول میں لائیں‘

منگل کو سرکردہ امریکی عہدیداروں نے ایک بار پھر پُر زور انداز میں پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستانی سرزمین پر موجود حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرے کیونکہ یہ گروپ افعانستان میں موجود امریکی دستوں کے لیے ایک سنگین خطرے کی حیثیت رکھتا ہے۔

وزیر دفاع لیون پنیٹا نے واشنگٹن میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت ’جس حد تک ہو سکا، پاکستانیوں پر دباؤ ڈالے گی کہ وہ سرحد کے پاکستانی حصے کی جانب حالات کو اپنے کنٹرول میں لائیں‘۔ پنیٹا نے کہا:’’ہم مسلسل یہ بات کہتے رہے ہیں کہ اِس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ حقانی گروپ کے ارکان سرحد پار کر کے آتے رہیں، ہمارے دستوں پر حملے کرتے رہیں، افغانستان پر حملے کرتے رہیں اور پھر واپس اپنے محفوظ ٹھکانوں میں چلے جائیں۔ یہ ناقابل برداشت ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہمارا پیغام اُن تک پہنچ گیا ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے۔ ‘‘ پنیٹا کے مطابق امریکہ پاکستان سے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ کچھ دہشت گردوں کی نہیں، تمام کی مخالفت کرے۔

امریکی حقانی نیٹ ورک کو وردگ صوبے میں ایک اڈے پر ہونے والے اُس بم حملے کے لیے قصور وار قرار دیتے ہیں، جس میں 77 امریکی فوجی زخمی ہو گئے تھے۔ اِس کے علاوہ امریکہ کے خیال میں تیرہ ستمبر کو کابل میں امریکی سفارت خانے اور نیٹو کے ہیڈ کوارٹر پر حملے کے پیچھے بھی حقانی گروپ ہی کا ہاتھ ہے۔

جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین ایڈ مرل مائیک مولن نے واشنگٹن ہی میں ایک اور جگہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے اندر حقانی گروپ کے محفوظ ٹھکانے جنگ میں اب تک کی تمام تر کامیابیوں کے لیے خطرہ بن رہے ہیں

جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین ایڈ مرل مائیک مولن نے واشنگٹن ہی میں ایک اور جگہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے اندر حقانی گروپ کے محفوظ ٹھکانے جنگ میں اب تک کی تمام تر کامیابیوں کے لیے خطرہ بن رہے ہیں

پنیٹا سے پہلے جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین ایڈ مرل مائیک مولن نے واشنگٹن ہی میں ایک اور جگہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے حقانی گروپ کی طرف سے درپیش سنگین خطرے کا ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان کے اندر اس گروپ کے محفوظ ٹھکانے جنگ میں اب تک کی تمام تر کامیابیوں کے لیے خطرہ بن رہے ہیں:’’اِس (گروپ کے) سلسلے میں پاکستان کی طرف سے کسی کارووائی کے بغیر ہم اپنی اجتماعی کوششوں میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔‘‘

مولن نے کہا کہ پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کو حقانی گروپ کے عسکریت پسندوں کے ساتھ اپنے تمام تر روابط ختم کرنا ہوں گے۔ مولن کے مطابق گزشتہ ہفتے اسپین میں اُنہوں نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے ساتھ اپنی ملاقات میں اُنہیں اِس حوالے سے پوری وضاحت کے ساتھ امریکہ کے موقف سے آگاہ کر دیا:’’یہ اب ایک نیا پیغام ہے لیکن ایسا پیغام ہے، جسے وہ (جنرل کیانی) واضح طور پر سمجھتے ہیں۔ اور میرے خیال میں اس پر ہمیں بار بار زور دیتے رہنا چاہیے۔‘‘

رپورٹ: خبر رساں ادارے / امجد علی

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس