1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان میں امریکی ایمبیسی کی سیکیورٹی کمپنی کے دفتر پر چھاپہ

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک سیکیورٹی فرم کے دفتر پر چھاپے کے دوران پولیس نے اسلحہ برامد کیا ہے۔ اِس معاملے کی چھان بین جاری ہے۔

default

پاکستانی پولیس نے امریکی سفارت خانے کو سیکیورٹی فراہم کرنے والی ایک مقامی کمپنی کے دفاتر پر چھاپہ مارا ہے۔ حکام نے بتایا کہ ہفتہ کی صبح کی گئی اس کارروائی کے دوران غیرقانونی اسلح برآمد کر کے دو افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

Pakistan Innenminister Rehman Malik Pressekonferenz in Islamabad

پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک

پولیس نے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک گھر پر چھاپہ مارا، جہاں نجی سیکیورٹی کمپنی انٹررِسک کا دفتر قائم ہیے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس گھر میں ہتھیار چھپائے جانے کے بارے میں معلومات ملی تھیں۔ اس کارروائی کے دوران اکسٹھ بندوقیں اور دس پستول جبکہ سینکڑوں گولیاں قبضے میں لے لی گئیں۔

ایک پولیس اہلکار رانا اکرم نے اسلام آباد میں صحافیوں کو بتایا کہ انٹررِسک کے مالک کے خلاف دھوکہ دہی کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جو ریٹائرڈ فوجی کیپٹن ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس کارروائی کا امریکی سفارت خانے سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اسلام آباد میں رہائش پذیر غیرملکیوں کو سیکیورٹی فراہم کر رہے تھے۔ رانا اکرم نے مسلمانوں کے مذہبی تہوار عیدالفطر سے قبل اسے معمول کی ایک کارروائی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دارالحکومت میں متعدد غیرملکی موجود ہیں اور انہیں سیکیورٹی فراہم کرنا ضروری ہے۔

رانا اکرم کا یہ بھی کہنا تھا کہ چھاپے کے دوران کمپنی ان ہتھیاروں کے لائسنس پیش کرنے میں ناکام رہی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ غیرقانونی ہیں۔

اُدھر پاکستان میں امریکی سفارت خانے نے تصدیق کی ہے کہ انٹررِسک سمیت متعدد مقامی سیکیورٹی کمپنیوں کے ساتھ امریکی مشنز کو تحفظ فراہم کرنے کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ سفارت خانے کے ترجمان رِک سنیلسائر کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں انٹررسک ضروری اجازت ناموں کے ساتھ کام کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انٹررسک کے ساتھ معاہدہ رواں برس کے اوائل میں کیا گیا تھا۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان میں اس سے کہیں بڑی کمپنیاں سفارت خانے کے ساتھ معاہدے میں ہیں۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق انٹررسک کے خلاف یہ کارروائی ان خبروں کے بعد ہوئی ہے، جن کے مطابق وزارت داخلہ وزیر اعظم کی خصوصی اجازت سے اس کمپنی کو انتہائی جدید رائفلز کے لئے لائسنس جاری کر چکی ہے۔ امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے ان اجازت ناموں کی منظوری کے لئے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیر داخلہ رحمان ملک سے ملاقات کی تھی۔ یہ ہتھیار اگرچہ امریکی سفارت خانے کی ملکیت ہیں، تاہم انہیں استعمال کے لئے انٹررسک کے عملے کو دیا جانا مقصود تھا۔

Terroralarm in London Zeitungsleser in Pakistan

پاکستانی ذرائع ابلاغ میں بلیک واٹر سے متعلق خبریں گردش کرتی رہیں

پاکستان میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے 'بلیک واٹر' کے نام سے جانی جانے والی سیکیورٹی کمپنی کو استعمال کرنے کے الزام بھی لگتے رہے ہیں۔ تاہم امریکی حکام ان الزامات کی تردید کر چکے ہیں۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ میں حالیہ دنوں میں ایسی خبریں گردش کرتی رہی ہیں، جن میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد میں قائم امریکی سفارت خانہ سیکیورٹی کمپنی Xe کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے، جسے بلیک واٹر کہا جاتا تھا۔ اس کمپنی کو عراق میں تعینات امریکی سفارت کاروں کے تحفظ کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، تاہم وہاں اس پر شہری ہلاکتوں میں ملوث ہونے کے الزام لگے تھے۔

پاکستانی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تمام نجی سیکیورٹی کمپنیوں کا سروے کیا جا رہا ہے اور اس دوران ان کے پاس موجود ہتھیاروں کے لائسنس میں دیکھے جا رہے ہیں۔

DW.COM