1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان میں امریکیوں کے لیے ویزوں کا تنازعہ

پاکستانی نے حالیہ کچھ عرصے میں چار سو سے زائد امریکیوں کو فوج کی جانب سے سکیورٹی کلیئرنس حاصل کیے بغیر ویزے جاری کیے ہیں۔ یہ بات فوج کی ناراضگی کا باعث بنی ہے۔

default

خبررساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ یہ ویزے گزشتہ برس کے ابتدائی عرصے میں جاری کیے گئے اور ان سے ممکنہ طور پر امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کو پاکستان میں اپنی موجودگی بڑھانے میں مدد ملی۔

اس حوالے سے تفصیلات پاکستان میں دہشت گرد گروہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی امریکی حملے میں ہلاکت کے بعد سامنے آئی ہیں۔ اس حملے کے نتیجے میں اسلام آباد اور واشنگٹن حکومتوں کے درمیان سفارتی محاذ آرائی میں مزید شدت پیدا ہوئی ہے۔

روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق ویزوں کا اجراء پاکستان حکومت میں شامل سیاسی رہنماؤں اور عسکری قیادت کے درمیان تنازعے کا باعث بنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ویزے واشنگٹن، متحدہ عرب امارات اور لندن میں پاکستانی سفارت خانوں نے اس وقت جاری کیے، جب اسلام آباد حکومت شدید امریکی دباؤ تلے تھی۔

پاکستان کے ایک سینئر سکیورٹی عہدے دار نے امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر حسین حقانی کا حوالہ دیتے ہوئے روئٹرز کو بتایا، ’2009ء کے آخر میں سات ہزار ویزوں کے اجراء کے لیے خصوصی صدارتی فرمان جاری ہوا۔ وزیر اعظم کے دفتر سے بھی یہی فرمان حقانی کو بھیجا گیا۔‘

اس اہلکار نے مزید بتایا، ’ان احکامات کی بنیاد پر تین سے چھ ماہ مدت کے ویزے آئی ایس آئی کی جانب سے معمول کی سکیورٹی کلیئرنس کے بغیر جاری کیے گئے۔‘

سکیورٹی اہلکار نے روئٹرز کو یہ بھی بتایا کہ تقریباﹰ ساڑھے چار سو ویزے سی آئی اے کو جاری کیے گئے۔

واشنگٹن میں قائم پاکستانی سفارت خانے کے ایک سینئر اہلکار نے روئٹرز کو بتایا کہ حکومت کی ویزا پالیسی کے بارے میں کسی حکومتی محکمے نے سفارت خانے سے شکایت نہیں کی۔

Asif Ali Zardari Präsident Pakistan

پاکستان کے صدر آصف زرداری

دوسری جانب صدر آصف علی زرداری کی ایک ترجمان نے اس حوالے سے بیان دینے سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے صرف یہ کہا کہ فوج کی جانب سے سکیورٹی کلیئرنس ہمیشہ درکار نہیں۔

روئٹرز کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج نے بھی اس حوالے سے مؤقف جاننے کے لیے کی گئی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ تاہم ایک سینئر سکیورٹی اہلکار نے کہا، ’ہم نے پاکستان میں سی آئی اے کے اہلکاروں کا کنٹرول کھو دیا ہے۔‘

تجزیہ کار عائشہ صدیقی کا کہنا ہے، ’فوج کے سربراہ اشفاق کیانی اور آئی ایس آئی کے سربراہ ریمنڈ ڈیوس کے کیس کے حوالے سے اتنے سرگرم کیوں تھے، یہ واضح ہے۔ کیونکہ حکومت میں سے کسی نے سی آئی اے کے اہلکاروں کی نامعلوم تعداد کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت دے دی تھی۔‘

رپورٹ: ندیم گِل/روئٹرز

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس