1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں اقوام متحدہ کے دفاتر بند

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک کے دفتر پر خودکش حملے کے بعد اسلام آباد، راولپنڈی اور پشاور میں عالمی تنظیم کے تمام دفاتر غیر معینہ عرصے کے لئے بند کر دیئے گئے ہیں۔

default

اس کے ساتھ ہی وزارت داخلہ نے ملک بھر میں اقوام متحدہ کے اداروں، غیر ملکی سفارتخانوں اور غیر ملکی غیر سرکاری تنظیموں کی سیکیورٹی مزید سخت کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ دوسری جانب اسلام آباد دھماکے کی تحقیقات کےلئے حسب معمول ایک اعلیٰ سطحی کمیشن بھی تشکیل دے دیا گیا ہے۔

Pakistans Innenminister Rehman Malik auf PK zum Tod des Talibanführers Mehsud

پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک

پیر کے روز جائے حادثہ کے دورہ کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ یہ کارروائی انہی شکست خوردہ عناصر کی طرف سے ہے جو اس وقت فوجی آپریشن کے ڈر سے چھپتے پھر رہے ہیں: ’’ہماری تمام کارروائیاں بالکل ٹھیک ہیں، سیکیورٹی الرٹ ہے، چند دن کی بات ہے پہلے جس طرح قوم نے ہمارا ساتھ دیا اسی طرح تعاون جاری رکھیں، ہم انشاء اللہ باقی شدت پسندوں کے خلاف بھی اسی طرح کارروائی کریں گے جیسے ہم نے سوات، باجوڑ، اور مہمند ایجنسی میں کی ہے۔‘‘

خیال رہے ورلڈ فوڈ پروگرام پر حملہ ایک ایسے وقت پر ہوا ہے جب تحریک طالبان کے نئے امیر حکیم اللہ محسود پاکستانی اور امریکی دعوؤں کے برعکس زندہ، صحیح سلامت ذرائع ابلاغ کے سامنے پیش ہوئے ہیں۔ حکیم اللہ محسود سے ملاقات کرنے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے سابق امیر بیت اللہ محسود کی موت کا بدلہ لینے کی دھمکی بھی دی تھی۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ حکیم اللہ کے زندہ ہونے کی تصدیق کے صرف ایک دن بعد ہی اسلام آباد کے حساس علاقے میں خودکش حملے سے بظاہر حکومت کے طالبان کے خلاف کامیابیوں کے بلندوبانگ دعووں کو دھچکا پہنچا ہے۔ سابق سیکریٹری داخلہ تسنیم نورانی کا کہنا ہے کہ عوام کا اعتماد بحال کرنے کےلئے بڑے شہروں کی سیکیورٹی یقینی بنانے کی غرض سے ہنگامی اقدامات کرنے ہوں گے:

’’میرے خیال میں اس وقت بڑے شہروں اور خاص کر اسلام آباد جہاں پر اس قسم کے واقعات سب سے زیادہ متاثر کرتے ہیں ہم اگر ان بڑے شہروں کی سیکیورٹی یقینی بنالیں تو اس سے عوامی اعتماد کو بحال رکھا جا سکتا ہے۔‘‘

خیال رہے کہ 20ستمبر 2008ء کو میریٹ ہوٹل پر ہونے والے حملے کے بعد عالمی ادارہ برائے خوراک پر حملہ اسلام آباد میں دوسری بڑی کارروائی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس سال کئی خودکش حملے ہو چکے ہیں، جن کی اکثریت کا نشانہ سیکیورٹی فورسز اور سرکاری اہلکار اور تنصیبات تھیں۔

رپورٹ: امتیاز گل

ادارت: عاطف توقیر