1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں اقلیتی عائلی قوانین: ہندو میرج بل قانون بن گیا

پاکستان کی وفاقی پارلیمان نے ملک کی ہندو اقلیتی برادری کا دیرینہ مطالبہ پورا کرتے ہوئے ہندو میرج بل کے نام سے جو قانونی مسودہ منظور کیا تھا اس پر اب ملکی صدر ممنون حسین نے دستخط بھی کر دیے ہیں۔

Pakistan Karatschi Hochzeitszeremonie (DW/U. Fatima)

کراچی میں ایک ہندو شادی کی تقریب کےشرکاء دلہا اور دلہن کے ساتھ

خاص طور پر پاکستانی ہندو اقلیت سے متعلق ازدواجی شعبے میں اس قانون سازی سے اس مسلم اکثریتی جنوبی ایشیائی ملک کے ہندو شہریوں کو ان کی شادیوں اور دیگر خاندانی امور کے سلسلے میں مکمل قانونی تحفظ حاصل ہوگیا ہے۔

اس ہندو میرج بل کو گزشتہ ماہ پاکستان کی وفاقی پارلیمان کے دونوں ایوانوں کی طرف سے منظوری کے بعد وزیر اعظم نوز شریف کی ہدایت پر حمتی منظوری کے لیے ایوان صدر بھیجا گیا تھا، جس پر اب صدر مملکت ممنون حسین نے دستخط بھی کردیے ہیں۔

اس بل کی منظوری کے موقع پر وزیر اعظم نواز شریف نے پارلیمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی مذہبی اقلیتی برادریاں بھی اتنی ہی محب وطن ہیں، جتنے اس ملک کے اکثریتی طور پر مسلم شہری اور ان اقلیتوں کے جملہ حقوق کا تحفظ بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔

پاکستان میں رہنے والی سرکاری طور پر تین فیصد غیر مسلم اقلیتیوں میں سے مسیحیوں کی طرح ہندوؤں کا شمار بھی سب سے بڑی اقلیتوں میں ہوتا ہے۔ پاکستانی ہندوؤں کی سب سے بڑی تعداد صوبہ سندھ میں آباد ہے۔ ابھی تین ماہ قبل ہی صوبہ سندھ میں حکمران پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے بھی کراچی میں صوبائی اسمبلی سے ایک ہندو میرج بل منظور کرایا تھا، جس میں ہندوؤں کی مبینہ جبری مذہبی تبدیلی کی روک تھام کے حوالے سے قانون سازی کی گئی تھی۔

Pakistan Karatschi Hochzeitszeremonie (DW/U. Fatima)

ہندو میرج بل پر صدارتی دستخطوں کے ساتھ پاکستان میں ہندوؤں کی شادیوں کو ہر طرح کا قانونی تحفظ حاصل ہو گیا ہے

یہ بل سندھ اسمبلی میں بغیر کسی مخالفت کے منظور ہوا تھا تاہم پیپلز پارٹی اس بل کے حوالے سے مذہبی جماعتوں کی مخالفت برداشت نہیں کر سکی تھی۔ اسمبلی میں منظوری کے بعد یہ بل دستخطوں کے لیے صوبائی گورنر کو بھیجا جا چکا تھا لیکن پاکستان پیپلز پارٹی نے مذہبی جماعتوں کے اعتراضات کی وجہ سے پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق ملکی صدر آصف علی زرداری کی ہدایت پر یہ مسودہ گورنر ہاؤس سے واپس منگوا لیا تھا۔

پاکستان میں اس ہندو میرج بل کی منظوری کے لیے جدوجہد کرنے والے اسلام آباد میں حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار نے اس بارے میں ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بالآخر ان کی تین سال کی محنت رنگ لے آئی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اس بل کی منظوری سے ہندو برادری کو درپیش میرج سرٹیفیکیٹ سمیت کئی قانونی دستاویزات سے جڑے تمام مسائل حل ہوجائیں گے۔‘‘

Mamnoon Hussain neuer Präsident Pakistan 24.07.2013 ARCHIV (picture-alliance/AP Photo)

پارلیمانی منظوری کے بعد اب اس بل پر صدر ممنون حسین نے بھی دستخط کر دیے ہیں

اسی بارے میں معروف ہندو تاجر کھیل داس کوہستانی نے کہا، ’’پہلے ہندوؤں کی شادیوں کا سرکاری طور پر کوئی اندراج نہیں ہوتا تھا اور مہاراج سے سرٹیفیکیٹ لے کر گزارا کرنا پڑتا تھا، جو جوئے شیر لانے سے کم نہیں تھا۔ اس کے بغیر نہ تو پاسپورٹ بنتا تھا اور نہ ہی شناختی کارڈ۔‘‘

سندھ حکومت کی صوبے میں ہندوؤں سے متعلق قانون سازی کے بارے میں کھیل داس کوہستانی نے کہا، ’’پیپلز پارٹی ہمارے جذبات سے کھیل رہی ہے۔ تین صوبوں میں میرج بل نافذالعمل ہوچکا ہے لیکن سندھ میں جبری تبدیلی مذہب کی شکایات سب سے زیادہ ہونے کے باوجود اس موضوع پر قانون سازی پر تاحال بس سیاست ہی کی جا رہی ہے۔‘‘

پاکستانی ہندوؤں کی ایک مذہبی شخصیت پنڈت شام لال شرما نے اس حوالے سے کہا کہ نئے ملکی قانون میں پنڈتوں سے متعلق بھی وضاحت ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’’میں گزشتہ بیس برسوں سے شادیاں کرا رہا ہوں۔ اب تک تقریباﹰ ساڑھے تین ہزار شادیاں کرا چکا ہوں۔ لیکن ان کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ پھر بھی اس قانون سے کم از کم ایسی شادیوں کو قانونی حیثیت تو مل گئی۔‘‘

پاکستان میں ہندوؤں کے علاوہ دیگر اقلیتی برادریوں اور مسلم اکثریت کی جانب سے بھی اس ہندو میرج بل کو ایک مثبت اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام سندھ کے جنرل سیکرٹری قاری محمد عثمان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اقلیتوں کے خاندانی امور کو قانونی شکل اور تحفظ دینا بہت اچھی بات ہے۔

ان کے بقول دنیا بھر میں پاکستان میں اقلیتوں کی صورت حال سے متعلق جو منفی تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے اور جو پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، اس قانون سے اس تاثر کے تدارک میں بھی بہت مدد ملے گی۔