1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں اقلیتوں کا قومی دن

پاکستان میں آج اقلیتوں کا قومی دن منایا جا رہا ہے۔ حکومتی دعووؤں کے مطابق ملک میں اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے بہتری آ رہی ہے۔ ناقدین کے مطابق اقلیتوں کو آج بھی امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔

جمعرات کے روز پاکستان میں اقلیتوں کا قومی دن مناتے ہوئے ملک بھر میں خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا جبکہ لاہور پریس کلب میں ’’قائد اعظم کے پاکستان اور اقلیتوں‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے بانی پاکستان کے پیغام پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔

ادھر سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے ایک گرجا گھر اور ایک مندر میں جا کر بین المذاہب رواداری کا پیغام دیا۔ سندھ کے 55 سالہ وزیر اعلیٰ نے اپنی سالگرہ بھی اقلیتی برادری کے ساتھ منائی، چرچ میں سالگرہ کے گیت گائے گئے اور سوامی نرائن مندر میں ان کی سالگرہ کا کیک کاٹا گیا۔

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا تعلق اس پیپلز پارٹی سے ہے، جس نے اپنے دور حکومت میں یہ فیصلہ کیا تھا کہ پاکستان میں ہر سال گیارہ اگست کو اقلیتوں کے قومی دن کے طور پر منایا جائے گا۔ اس دن کو 11 اگست کو منانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بانی پاکستان قائد اعظم نے 11اگست 1947ء کو کی جانے والی اپنی ایک مشہور تقریر میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی بات کی تھی۔

اس موقع پر قائد اعظم نے نئے ملک پاکستان کے اقلیتی باشندوں کو مخاطب کر کے کہا تھا، ’’اس مملکت پاکستان میں آپ آزاد ہیں۔ اپنے مندروں میں جائیں، اپنی عبادت گاہوں میں جائیں، آپ کا تعلق کسی مذہب، ذات پات یا عقیدے سے ہو، کاروبارِ مملکت کا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔‘‘ قائداعظم نے یہ بھی کہا تھا کہ ہم اس بنیادی اصول سے آغاز کر رہے ہیں کہ ’’ہم سب ایک ہی مملکت کے شہری ہیں اور برابر کے شہری ہیں‘‘۔

پاکستان کے صدر ممنون حسین اور وزیر اعظم نواز شریف نے بھی اقلیتوں کے قومی دن کے حوالے سے پیغامات جاری کیے ہیں۔ ان پیغامات میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح تقاریر کے روشنی میں تمام مذاہب کے لوگوں کو بلا امتیاز مساوی حقوق فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

لاہور کی سڑکوں پر اقلیتوں کے قومی دن کے موقع پر لاہور شہر کو رنگ برنگے پرچموں، بینروں اور ہورڈنگز سے سجایا گیا۔ پنجاب حکومت کے محکمہ انسانی حقوق و اقلیتی امور کی طرف سے مال روڈ پر لگائے جانے والے بینروں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پنجاب حکومت نے تین سالوں میں اقلیتی برادری کے تین ہزار اقلیتی طلبہ کو خصوصی اسکالرشپ فراہم کیے ہیں۔ رواں سال محکمہ انسانی حقوق و اقلیتی امور کا مجموعی بجٹ ایک ارب ساٹھ کروڑ روپے مختص کیا گیا ہے۔ پنجاب حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق اقلیتی برادری میں گزشتہ چار سالوں کے مذہبی تہواروں (کرسمس، ہولی، بساکھی وغیرہ) کے لیے ایک سو ملین سے زائد رقم فراہم کی گئی۔

Pakistan Veranstaltung zum Tag der Minderheiten

لاہور میں مرکزی تقریب کا اہتمام الحمرا آرٹس سینٹر میں کیا گیا، جس میں سکھوں، ہندووں اور مسیحی برادری سمیت اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی

پنجاب میں سرکاری ملازمتوں میں اقلیتوں کے لیے پانچ فیصد کوٹہ لازمی قرار دیا گیا ہے اور اب تک پانچ ہزار سے زائد نوجوانوں کو خصوصی کوٹے پر سرکاری اداروں میں نوکریاں دی گئی ہیں۔

سول سوسائٹی نیٹ ورک کے سربراہ عبداللہ ملک کے مطابق پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیمیں اقلیتوں کی حالت زار کے حوالے سے آواز اٹھاتیں رہی ہیں، اقلیتی برادری کے لوگوں کی طرف سے ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھے جانے، ملازمتوں کے مساوی مواقع نہ ملنے جبکہ صحت، تعلیم اور دیگر سہولتوں کی عدم دستیابی کی شکایات ملتی رہتی ہیں۔

ایک مسیحی شحص طالب مسیح نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے امیر افراد کی حالت تو پھر بھی کچھ بہتر ہے لیکن پسماندہ علاقوں میں رہنے والی غریب اقلیتی آبادی کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سندھ کے بعض علاقوں سے غیر مسلم شہریوں کی پاکستان سے نقل مکانی کی خبریں بھی آتی رہی ہیں۔ لیکن ان سارے مسائل کے باوجود حکومتی شخصیات کا اصرار ہے کہ پچھلے کچھ عرصے میں صورتحال میں بہتری آ رہی ہے۔

ادھر لاہور میں پہلی مرتبہ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کی خدمات پر مبنی بینرز بھی لگائے گئے ہیں تاکہ اقلیتی برادری کی پاکستان کے لیے خدمات کو اجاگر کیا جا سکے۔

ان شخصیات میں جسٹس رانا بھگوان داس (پاکستان کے پہلے ہندو چیف جسٹس)، جوگندر ناتھ منڈل (تحریک پاکستان کے اہم رہنما اور پنجاب اسمبلی کے اسپیکر)، سی اے گبن (قائداعظم کے ساتھی)، ماسٹر فضل الہٰی (ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی)، جمشید کاکوباد (ہلالِ امتیاز پانے والے نامور سفارت کار)، کالن ڈیوڈ (پرائیڈ آف پرفارمنس کا اعزاز پانے والے آرٹسٹ)، دیوان بہادر ایس پی سنگھا (سیاستدان)، ڈاکٹر روتھ فاو(پاکستان میں ٹی بی کے خاتمے کے لیے خدمات سرانجام دینے والی جرمن خاتون)، ایف ای چوہدری (پاکستان میں فوٹو جرنلزم کے بانی)، ڈاکٹر میرا فیلبوس (ممتاز ماہرِ تعلیم)، باپسی سدھوا (معروف ناول نگار، ستارہ امتیاز)، چیف جسٹس اے آر کارنیلئس (پاکستان کے چوتھے چیف جسٹس)، ایئر کموڈور نذیر لطیف (ستارہ جرات)، میجر جنرل ریٹائرڈ نیول کھوکھر (ہلالِ امتیاز)، گروپ کیپٹن (ر) سیسل چوہدری (1965 کی جنگ کے ہیرو، ستارہ جرات) اور ونگ کمانڈر میرون لیزلی مڈل کوٹ(ستارہ جرات پانیوالے پاکستان کی فضائیہ کے پائلٹ) شامل ہیں۔

Protest von pakistanischen Christen nach Anschlägen auf Kirchen in Lahore

اقلیتی امور سے متعلق قانون سازی اور مسائل پر بحث کے لیے پنجاب اسمبلی میں ابھی تک قائمہ کمیٹی ہی نہیں بن سکی

لاہور میں مرکزی تقریب کا اہتمام الحمرا آرٹس سینٹر میں کیا گیا، جس میں سکھوں، ہندووں اور مسیحی برادری سمیت اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو کر تے ہوئے پنجاب کے صوبائی وزیر برائے انسانی حقوق و اقلیتی امور خلیل طاہر سندھو نے بتایا کہ اقلیتوں کا قومی دن منانے کا مقصد پاکستانی قوم کو اقلیتی برادری کی خدمات کے حوالے سے آگاہی فراہم کر نا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات حقیقت ہے کہ پاکستان میں اقلیتیں شدید مسائل سے دوچار رہی ہیں۔ اگرچہ صورتحال اب بھی مثالی نہیں ہے لیکن حالات میں بہتری کی کافی کوششیں نظر آرہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آج کے پاکستان میں تھرپارکر کا اسسٹینٹ کمشنر فیصل خرم مسیح، نیب کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر رابعہ جانسن، ننکانہ صاحب کا ایس ڈی او مدن لعل اور بہت سے دوسرے بچے کئی دیگر اہم محکموں میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

ان کے بقول اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے بہت سے بچے سول جج کے طور پر بھرتی ہوئے ہیں اوران کی ایک بڑی تعداد پولیس میں سب انسپکٹر کے طور پر کام کر رہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آج بھی صدر اور وزیر اعظم بننے کے لیے مسلمان ہونے کی قانونی شرط موجود ہے، جسے ان کے خیال میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا، ’’آج بھی پاکستان میں اقلیتوں کو معاشرے کی طرف سے امتیازی رویے کا سامنا کر نا پڑتا ہے۔ نفرت انگیز تقاریر اور بعض قوانین کا غلط استعمال بھی اقلیتوں کے لیے مشکلات کا باعث بنتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد مسجدوں، مندروں اور گرجا گھروں کو بلا تفریق نشانہ بنا رہے ہیں، اس لیے ہم سب کو بھی مل جل کر پاکستان کو محفوظ اور مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی چاہیئں۔

مقامی صحافی عاصم شہزاد کے مطابق صورتحال بہتر تو ہو رہی ہے لیکن اتنی نہیں جتنی حکومتی لوگ بتا رہے ہیں۔ ان کے بقول پنجاب میں اقلیتی امور کے محکمے کو بنے ہوئے 13 سال ہو گئے ہیں لیکن حکومتی عدم دلچسپی کا یہ حال ہے کہ اقلیتی امور سے متعلق قانون سازی اور مسائل پر بحث کے لیے پنجاب اسمبلی میں ابھی تک قائمہ کمیٹی ہی نہیں بن سکی۔