1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں اقلیتوں کا قومی دن

پاکستان میں منگل کے روز اقلیتوں کا قومی دن منایا گیا- وزیراعظم محمد نواز شریف نے بھی اس موقع پر اپنے پیغام میں ملکی ترقی میں اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے کردار کو سراہتے ہوئے ان کے حقوق کے تحفظ کا یقین دلایا ہے۔

پاکستان میں اس دن کو ہر سال منانے کا فیصلہ 2009ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے کیا تھا، 11 اگست کو اقلیتوں کا قومی دن قرار دینے کا مقصد دراصل 11 اگست 1947ء کو آئین ساز اسمبلی سے کی جانے والی قائد اعظم کی اس تقریر کے پیغام کو اجاگر کرنا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو مکمل آزادی حاصل ہو گی اور انہیں یکساں حقوق میسر ہوں گے اور ریاست کو ان کے مذہب سے کوئی سروکار نہیں ہو گا۔

پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست اعلی اور ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ پاکستان میں اقلیتوں نے بہت دکھ جھیلے ہیں اور ان کے لیے علامتی طور پر دن منانے کی بجائے ان کے مسائل کے حل کی طرف مؤثر پیش قدمی کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں ڈیموکریٹک سوشل فورم نے اس سال 11 اگست کو "سیکولر پاکستان ڈے" کے طور پر بھی منایا۔ اس فورم کے مرکزی رہنما لیاقت ایڈوکیٹ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کے پیش نظر لوگوں کو یہ بتانے کی شدید ضرورت ہے کہ پاکستان ایک کثیرالمذہبی ملک ہیں اور اقلیتوں کے حوالے سے قائد اعظم کے وژن کو سامنے رکھنا چاہیے۔ ان کے بقول قائد اعظم نے 11 اگست کو اپنی تقریر میں اقلیتوں کے حقوق کی بات کی تھی۔ ان کے بقول بانی پاکستان کے نزدیک پاکستان کے تمام شہری یکساں حقوق کے حامل تھے لیکن پاکستان کے آئین میں کہا گیا ہے کہ کوئی غیر مسلم شخص پاکستان کا صدر نہیں بن سکتا۔

پاکستان کے ممتاز دانشور اور سینیئر تجزیہ نگار مجیب الرحمن شامی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں ہر شخص کو اپنی بات کرنے کی آزادی ہے لیکن ان کے بقول قائد اعظم کی 11 اگست کی تقریر کو اپنی مرضی کا مفہوم دے دینا مناسب نہیں ہے۔ ان کے بقول قائد اعظم نے اپنی پوری زندگی میں ایک مرتبہ بھی لفظ سیکولراستعمال نہیں کیا " نہ جانے ہم کیوں قائد اعظم کے افکار کو سیکولر رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔"

ان کے بقول قائد اعظم نے 11 اگست کی تقریر میں اقلیتوں کے حقوق کی بات کی۔ ان کے مطابق قائد اعظم کی رائے میں پاکستانی ریاست میں غیرمسلموں کو مسلمان شہریوں کے برابر حقوق حاصل ہوں گے، غیر مسلم شہری اپنے نظریات کے مطابق زندگی گزارنے کا پورا حق رکھتے ہیں، انہیں عبادت کرنے اور عبادت گاہوں میں جانے سے نہیں روکا جا سکتا۔ مجیب شامی کے نزدیک اب یہ ساری باتیں آئین میں طے کر دی گئی ہیں اور اس آئین کی پابندی کی جانی چاہیے۔

اس سوال کے جواب میں کہ کوئی غیر مسلم شخص پاکستان کا صدر کیوں نہیں بن سکتا ان کا کہنا تھا کہ مجھے ذاتی طور پر اعتراض نہیں ہے کہ غیر مسلم کو صدر نہیں بننا چاہیے لیکن ان کے بقول آئین میں اس شق کے نہ ہونے سے بھی پاکستان میں صورتحال کی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ان کے بقول یہ بات مناسب نہیں ہوگی کہ اگر کوئی عام شہری برطانیہ میں کہے کہ اسے ملکہ یا بادشاہ کیوں نہیں بنایا جا رہا اور اس بنیاد پر وہ قرار دے دے کہ برطانوی نظام جمہوری نہیں ہے۔

پاکستان میں اقلیتوں کے قومی دن کے موقع پر سینٹر فار ہیومن رائٹس ایجوکیشن پاکستان کی طرف سے لاہور سے رواداری تحریک کا آغاز بھی کیا گیا ہے۔ اس ادارے کے سربراہ سامسن سلامت نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اس تحریک کا مقصد معاشرے میں اس سوچ کو فروغ دینا ہے کہ جب تک ہم ایک دوسرے کے مذہبی حقوق کا احترام نہیں کرتے معاشرے میں امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ اس موقع پر ہمدرد سینٹر میں ہونے والی ایک تقریب میں اقلیتی برادری کے رہنماؤں نے کیک کاٹا اور ملی نغمے گائے۔ ادھر الحمرا ہال میں ہونے والی ایک اور تقریب میں پنجاب میں اقلیتی امور کے صوبائی وزیر خلیل طاہر سندھو نے زور دیا کہ پاکستان کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے ہم سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔