1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان میں افغان مہاجرین، وطن واپسی سے انکار

پاکستان اور بالخصوص صوبہ خیبر پختونخوا میں قیام پذیر افغان مہاجرین میں 92 فیصد واپس جانے کے لیے تیار نہیں جبکہ حکومت کی جانب سے انہیں ورک پرمٹ دینے اورٹیکس کے دائرہ کار میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

default

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے تعاون سے دس سال کے دوران 3.6 ملین افغان واپس اپنے ملک جا چکے ہیں تاہم حالات مزید خراب ہونے کی وجہ سے 92 فیصد افغان مہاجرین واپس جانے کیلئے تیار نہیں۔

پاکستان میں مجموعی طورپر پچیس لاکھ افغان مہاجرین رہائش پذیر ہیں، جن میں سے سترہ لاکھ رجسٹرڈ ہیں۔ خیبر پختونخوا میں بارہ لاکھ سے زیادہ افغان جبکہ دارالحکومت پشاور اور اس کے نواح میں پانچ لاکھ سے زیادہ مہاجرین قیام پذیر ہیں، جن میں سے ایک لاکھ 74 ہزار 665 رجسٹرڈ افغان مہاجرین ہیں جبکہ بعض اب بھی کیمپوں کے کچے گھروں میں رہائش پذیر ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی رضا کارانہ واپسی کے پروگرام کے تحت اب تک تین اعشاریہ چھ ملین افغان مہاجرین واپس جا چکے ہیں تاہم اطلاعات کے مطابق مراعات حاصل کرنے کے بعد ان میں سے زیادہ تر لوگ دوسرے راستوں سے واپس پاکستان پہنچ جاتے ہیں۔ مارچ 2011ء سے شروع کیے جانے والے اقوام متحدہ کے پروگرام کے تحت اب تک نو ہزار پانچ سو پچاسی افراد خصوصی مراعات لے کر افغانستان گئے ہیں۔

Afghanische Flüchtlinge in Pakistan

پشاور اور اس کے نواح میں پانچ لاکھ سے زیادہ مہاجرین قیام پذیر ہیں

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے رضا کارانہ واپسی کا پروگرام 2002ء میں شروع کیا تھا۔ پشاورمیں 28 سال سے مقیم کابل کے رہائشی یوسف نے اپنے ملک جانے اور ٹیکس دینے کے بارے میں ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ افغانستان کے صرف تین صوبوں میں نسبتاً امن ہے، باقی میں نہ امن ہے اور نہ کاروبار۔ ان کا کہنا ہے ”یہاں آئے ہوئے 28 سال ہوگئے ہیں۔ پختونخوا اور افغانستان میں ایک جیسے حالات ہیں، یہاں تو کبھی کبھی بم دھماکہ ہوتا ہے، جو افسوسناک ہے لیکن افغانستان میں تو ہر جگہ بد امنی ہے۔ وہاں کے صرف تین صوبوں میں امن ہے۔ کابل، مزار شریف اور ہرات میں نسبتاً امن ہے لیکن باقی افغانستان میں امن نہیں ہے۔ لوگ گھر سے باہر نہیں نکل سکتے۔ میری نظر میں اُن افغان مہاجرین پر ٹیکس لگایا جائے، جن کا بڑا کاروبار ہے۔ ہم تواتنا کماتے ہیں کہ گھر بھی نہیں چل سکتا۔ جو سرمایہ دار ہیں، بے شک ان سے ضرور ٹیکس لیاجائے ۔“

اقوا م متحدہ کے مہاجرین کے ادارے کے تحت رضا کارانہ واپسی کا پروگرام مارچ سے اکتوبر تک جاری رہتا ہے۔ اس سال مارچ سے شروع کیے گئے اس پروگرام کے اکسٹھ دنوں میں 2023 خاندان واپس جا چکے ہیں۔ اس پروگرام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے پاکستان افغانستان اور یواین ایچ سی آر کا اجلاس کابل میں چار سے سات مئی تک جاری رہے گا، جس میں پاکستان کا پانچ رکنی وفد وزیر سیفران شوکت اللہ کی سربراہی میں شریک ہے۔

رضا کارانہ طورپر واپس جانے والوں کو اقوام متحدہ کی جانب سے 150ڈالرکیش اور 117ڈالرز شارٹ ٹرم گرانٹ دیا جاتا ہے۔ افغان کمشنریٹ کے ذرائع کے مطابق 90 ہزار سے زائد افغان مہاجرین نے پاکستانی شہریت اور ورک پرمٹ کیلئے درخواست دے رکھی ہے، جس میں موقف اختیار کیا ہے کہ یہاں قیام کے دوران رجسٹرڈ افغان مہاجرین کے ہاں پیدا ہونیوالے 1539بچوں کو پشاور کا پیدائشی سرٹیفکیٹ دیا گیا ہے۔

اسی طرح افغان مہاجرین کیلئے تجدیدی کارڈ کی شرح سے بھی غیر رجسٹرڈ مہاجرین کی واپسی میں دلچسپی کا اندازہ لگا یا جا سکتا ہے ۔ پشاور اور پختونخوا کے دیگر شہروں میں مقیم افغان مہاجرین زیادہ تر کاروبار سے وابستہ ہیں۔ پشاور میں قالین سازی کی صنعت، نوادرات، ہوٹل، الیکڑانکس اور گارمنٹس کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔

رپورٹ: فریداللہ خان پشاور

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM