1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں اسامہ کے سپورٹ نیٹ کا پتہ چلانے کی کوششیں

امریکہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں اسامہ بن لادن کو معاونت فراہم کرنے والے نیٹ ورک کا پتہ چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے ایبٹ آباد کے کمپاؤنڈ سے حاصل ہونے والے شواہد سے مدد لی جا رہی ہے۔

default

وائٹ ہاؤس نے منگل کو بتایا ہے کہ امریکی تجزیہ کار دہشت گردہ گروہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے ٹھکانے سے حاصل ہونے والے شواہد کی مدد سے پاکستان میں اس سے جڑے نیٹ ورک کا پتہ چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انسداد دہشت گردی کے امور پر امریکی صدر باراک اوباما کے معاون جان برینن نے اے بی سی ٹیلی وژن کے ساتھ انٹرویو میں کہا، ’معلومات کا تجزیہ جاری ہے۔‘

انہوں نے کہا، ’خطرے سے آگاہی، ممکنہ دہشت گردی کے منصوبوں سے پردہ اٹھانے کے لیے، القاعدہ کے اہلکاروں تک پہنچنے کے لیے اور اسامہ کو پاکستان میں کس طرح کا سپورٹ سسٹم حاصل رہا ہے، اس کا پتہ چلانے کے لیے معلومات کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘

جان برینن نے یہ باتیں ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی رہائش گاہ سے حاصل ہونے والی دستاویزات اور کمپیوٹر کے آلات کے تناظر میں کہی ہیں۔ بن لادن کو اسی رہائش گاہ پر پیر کو علی الصبح امریکی کمانڈو آپریشن میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

برینن نے کہا کہ امریکہ پاکستان کو بھی اس پہلو کی تفتیش میں مدد فراہم کر رہا ہے کہ اسامہ وہاں اتنے آرام سے کیسے رہتا رہا اور کیا اسے حکومتی حلقوں سے کسی طرح کی معاونت حاصل تھی۔

John Brennan / Janet Napolitano / USA

جان برینن

برینن نے کہا، ’وہ خود اس کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستانی حکومت یا عسکری انٹیلی جنس سروسز میں ایسے افراد تھے، جو بن لادن کی رہائش گاہ کا علم رکھتے تھے، اور وہ اس حوالے سے کسی طرح کی معاونت فراہم کر رہے تھے یا نہیں۔‘

برینن نے مزید کہا، ’یہ بات واضح ہے کہ اسامہ کو کچھ تو معاونت حاصل تھی، جس کی وجہ سے اسے وہ اپنے گروہ کے دیگر لوگوں کے ساتھ رابطے میں تھا۔‘

جان برینن کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں، جب امریکی سینیٹر اسامہ کی رہائش گاہ سے لاعلمی پر پاکستان پر برہمی ظاہر کر رہے ہیں۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان قریبی تعلقات کے لیے سرگرم کردار ادا کرنے والے سینیٹر جان کیری نے بھی خبردار کیا ہے، ’بن لادن کی ہلاکت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انتہاپسندوں کے ٹھکانے کس طرح افغانستان میں امن کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔‘

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس