1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں آٹے، چینی اور بجلی کے بعد گیس کا بحران

پاکستان میں چینی، آٹے اور بجلی کے بعد اب لوگوں کو گیس کے بحران کا سامنا ہے۔ کل سے لاہور میں روزانہ سی این جی سٹیشنوں کو بارہ گھنٹے گیس کی بندش کے فیصلے نے ایک نئے تنازعے کو جنم دیا ہے۔

default

پاکستان کو یومیہ پانچ سے چھ سو ملین کیوبک فٹ گیس کی کمی کا سامنا ہے

اس بحران سے نمٹنے کے لئے وفاقی حکومت نے پنجاب کی ٹیکسٹائل ملوں کو ہفتے میں پانچ دن گیس فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ یہ یقین دہانی پیر کے روز وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی زیرصدارت ہونیوالے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کرائی گئی۔ تاہم اجلاس میں کل سے لاہور میں روزانہ سی این جی سٹیشنوں کو بارہ گھنٹے گیس کی بندش کے فیصلے نے ایک نئے تنازعے کو جنم دیا ہے۔ اس اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کےعلاوہ ٹیکسٹائل، کھاد کی صنعتوں سے وابستہ افراد، ایل این جی اور سی این جی کےشعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے گیس کی بندش کے خلاف ٹیکسٹائل مزدوروں کے ساتھ مل کر احتجاج کرنے کی دھمکی نے کام دکھایا ہے اور اسی لیے وفاقی حکومت کو سی این جی سٹیشنوں کی گیس بند کر کے ٹیکسٹائل سیکٹر کو گیس فراہم کرنی پڑی۔ پنجاب حکومت کے ترجمان سینیٹر پرویز رشید کا کہنا ہے کہ اگر ٹیکسٹائل سیکٹر کو گیس فراہم نہ کی جاتی تو اس سے وابستہ لاکھوں مزدور بے روزگار ہو جاتے۔انہوں نے کہا۔ ’’ بنیادی طور پر ہمیں یہ شکایت تھی کہ گیس کی قلت کا سارا بوجھ پنجاب پر ڈال دیا گیا ہے۔ ہمارا وزیراعظم سے یہ مطالبہ تھا کہ گیس کی قلت کو پورے پاکستان میں تقسیم کیا جائے۔ تاکہ قلت کی وجہ سے کسی ایک صوبے کو نقصان نہ اٹھانا پڑے۔ پنجاب میں بہت بڑی صنعت ہے۔ ٹیکسٹائل ، کاغذ کے کارخانے ، انجینرنگ کی صنعت یہ سب بند ہوگئیں ہیں اور اس کے نتیجے میں مارکیٹیں سنسان ہو گئیں ہیں۔‘‘

Flash-Galerie Ungarn EU-Präsidentschaft Wirtschaft Sondersteuer

پاکستان ایران سے گیس حاصل کرنے کا متمنی ہے

اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ گزشتہ ہفتے ہونے والے اقتصادی رابطہ کونسل کے اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ملک بھر میں گیس کی یکساں فراہمی کو یقینی بنائیں۔ بیان کے مطابق وزیراعظم نے وزارت پٹرولیم کو ہدایت کی ہے کہ وہ مائع قدرتی گیس (ایل این جی ) کی جلد درآمد کو بھی یقینی بنائے۔ تاہم اس اجلاس کے بعد سوئی ناردرن گیس کی جانب سے جو نیا شیڈول جاری کیا گیا، اس کے تحت لاہور میں سی این جی سٹیشن روزانہ صبح آٹھ سے رات آٹھ بجے تک بند رہیں گے۔

اس فیصلے کے بعد وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں شریک سی این جی ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے بھرپوراحتجاج کیا۔ سی این جی ایسوسی ایشن کے صدرغیاث پراچہ نے ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ٹیکسٹائل سیکٹر کو خوش کرنے کے لیے سی این جی سٹیشنز کو بند کر رہی ہے، جس کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔غیاث پراچہ نے کہا۔'' ہم بھی احتجاج کرینگے اور یہ بات ریکارڈ پر لائیں گے کہ تمام کی تمام سہولیات صرف ایک ہی سیکٹر کے لیے کیوں ہیں۔ اگر ٹیکس معاف کیا جا رہا ہے تو یہی وہ سیکٹرہے، آر جی ایس ٹی بھی اسی سیکٹر پر نہیں ہے اور گیس دینی ہے تو وہ بھی اسی سیکٹر کو۔ اب فیصلہ کیا جائے کہ وہ سیکٹر ایکسپورٹ کی مد میں گورنمنٹ کو زیادہ پیسے دے رہا ہے یا ہم امپورٹ کی مد میں فارن کرنسی زیادہ بچا رہے ہیں۔ یہ فیصلہ ہونا چاہیے کہ گورنمنٹ کو کس چیز میں فائدہ ہے؟ تب ہی آگے بڑھا جا سکتا ہے۔‘‘

دوسری جانب موسم سرما میں گیس کی مانگ میں زبردست اضافے نے صورتحال کو مزید گھمبیر کر دیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت ملک بھر میں یومیہ پانچ سے چھ سو ملین کیوبک فٹ گیس کی کمی کا سامنا ہے۔ اقتصادی تجزیہ نگاروں کے مطابق ملک میں بجلی کی کمی کے بعد اب گیس کی کمی سے نمٹنا حکومت کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس صورتحال سے کس حکمت عملی کے تحت نبرد آزما ہوتی ہے۔

رپورٹ: شکور رحیم/ اسلام آباد

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM