1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں آن لائن تنقید: ’حکومتی کریک ڈاؤن‘ کے خلاف تنبیہ

انسانی حقوق کی ایک سرکردہ بین الاقوامی تنظیم نے پاکستان میں انٹرنیٹ پر تنقیدی مواد شائع کرنے والے حلقوں کے خلاف ’بڑھتے ہوئے کریک ڈاؤن‘ کے خلاف خبردار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اظہار رائے کی آزادی کو یقینی بنائے۔

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے بدھ سترہ مئی کو موصولہ نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ ہیومن رائٹس واچ نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستانی معاشرے میں اظہار رائے کی آزادی کے بنیادی حق کے احترام کو یقینی بناتے ہوئے انٹرنیٹ پر تنقیدی سرگرمیوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن ختم کرے۔

 لاپتہ بلاگر عاصم سعید بازیابی کے بعد بیرون ملک روانہ

لاپتہ بلاگرز کے حق اور مخالفت میں مظاہرے کے دوران جھڑپیں

لاپتہ بلاگرز کے خلاف توہین رسالت کے مقدمے کے لیے درخواست

ڈی پی اے کے مطابق ہیومن رائٹس واچ نے اس سلسلے میں پاکستان میں وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت کی موجودہ پالیسی کو ’اختیارات کے غلط استعمال کی عکاس ریاستی مانیٹرنگ‘ کا نام دیا ہے۔

ساتھ ہی اس بارے میں ہیومن رائٹس واچ نے پاکستانی حکومت اور ملکی فوج کے متعدد حالیہ اقدامات کے حوالے بھی دیے ہیں، جو حکومت پر تنقید کرنے والے سماجی عناصر کی طرف سے انٹرنیٹ بالخصوص سوشل میڈیا پر شائع کردہ مواد کے بارے میں تھے۔

Pakistan YouTube-Internetseite blockiert (AP)

ڈی پی اے نے مزید لکھا ہے کہ پاکستانی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ابھی تین روز قبل ہی حکام سے کہا تھا کہ وہ ایسے عناصر کو تلاش کر کے ان کی نشاندہی کریں جو، وزیر داخلہ کے الفاظ میں، ملکی فوج کی ’بے عزتی‘ کرتے ہیں۔ نثار علی خان نے کہا تھا کہ ایسے تمام افراد کے خلاف فوری کارروائی کی جانا چاہیے۔

پاکستان میں بلاگرز کی گمشدگی سنجیدہ معاملہ ہے، امریکا

’لوگوں کو غائب کرنا حکومت کی پالیسی نہیں‘، چوہدری نثار

اس کے علاوہ قریب ایک ہفتہ قبل پاکستان میں ٹیلی مواصلاتی شعبے کے نگران ملکی ادارے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی یا پی ٹی اے نے بھی کئی ملین پاکستانی شہریوں کو ان کے موبائل فونوں پر بھیجے گئے ٹیکسٹ پیغامات میں خبردار کیا تھا کہ وہ نہ صرف ’توہین مذہب‘ کے زمرے میں آنے والے مندرجات کو شیئر کرنے سے باز رہیں بلکہ اگر ان کو ایسا کوئی مواد کہیں سے ٹیلی فون پر بھیجا بھی جائے، تو وہ حکام کو فوری طور پر اس کی اطلاع دیں۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اس سال اپریل کے آغاز سے اب تک ملک میں 12 ہزار سے زائد ویب سائٹس تک عام صارفین کی رسائی منقطع کر چکی ہے۔

پاکستان میں ان اقدامات کے سلسلے میں ہیومن رائٹس واچ کے ایشیا کے لیے ڈائریکٹر بریڈ ایڈمز نے بدھ کے روز کہا، ’’خود کو انٹرنیٹ پر تنقیدی رائے سے بچانا اب وہ معیار بن چکا ہے، جس کی بنیاد پر حکومتیں اب خود کو حقیقی معنوں میں جمہوری سمجھنے لگی ہیں۔‘‘

ایڈمز نے کہا، ’’آن لائن اظہار رائے پر پاکستانی حکومت کے کریک ڈاؤن سے اختلافی سوچ رکھنے والے عناصر کے لیے مزید خطرات پیدا ہو جائیں گے، خاص طور پر ایک ایسے ماحول میں جو پہلے ہی زہریلا ہو چکا ہے۔‘‘

DW.COM