1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان: میوزیم ڈے منانے کا اعلان

پاکستان میں عجائب گھروں کی بہتری کے لیے قائم کی گئی غیرسرکاری تنظیم "میوزیمز ایسوسی ایشن آف پاکستان" نے آئندہ سے ہر سال نومبر میں پاکستان میوزیم ڈے منانے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان میں نوے سرکاری اور نجی عجائب گھروں کے کیوریٹرز اور ڈائریکٹرز پر مشتمل میوزیم ایسوسی ایشن آف پاکستان (میپ) کی پہلی جنرل اسمبلی کا اجلاس پیر کو اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی "کامسیٹس" میں منعقد کیا گیا۔ جنرل اسمبلی کے شرکاء نے پاکستان میں عجائب گھروں کو درپیش مسائل کے حل، عجائب گھروں کی اہمیت سے متعلق عوام میں آگاہی پیدا کرنے کے اقدامات سمیت متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا۔اس جنرل اسمبلی میں پانچ قراردادیں بھی منظور کی گئیں۔ یہ قراردادیں میپ کی تشکیل، ایڈوائزری گروپ کے قیام اور اس کے کام کرنے کے طریقے کار سے متعلق تھیں۔

کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے محکمہ نوادرات کے سربراہ ڈاکٹر کلیم لاشاری کا کہنا تھا کہ پاکستان تاریخی طور پر ایک انتہائی اہم ملک ہے اور اس لحاظ سے اس میں عجائب گھروں کی ضرورت ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے عجائب گھروں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ "مختلف تاریخی دستاویزات اور نوادرات کو محفوظ رکھنے کے لیے جدید لیبارٹریوں کی اشد ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے اس حوالے سے ہمارے پاس بنیادی سہولیات میسر نہیں اگر کسی کے پاس لیبارٹری موجود بھی ہے تو وہ فعال نہیں ہے۔"انہوں نے مزید کہا کہ خاص طور پر کتب اور دستاویزات کو سنبھال کر رکھنے کے حوالے سے ٹیکنالوجی انتہائی اہم ہے۔

لاہور سے آنے والے صدام پیرزادہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے ذاتی حثیت میں ایک عجائب گھر قائم کر رکھا ہے، جس میں پتلیوں کی ایک بڑی کلیکشن موجود ہے۔ ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا "ہم نے سوچا کہ حکومت کی اس معاملے میں دلچسپی کم نظر آتی ہے تو ہمیں خود ہی مل کر اس کام کو آگے لیکر چلنا چاہیے اور میرے خیال میں میوزیم ایسوسی ایشن کے ملک بھر سےآ ئے ہوئے نمائندوں کا ایک چھت کے نیچے اکٹھے ہونا اور ملک میں عجائب گھروں کے احیا کے لیے سنجیدگی سے سوچ بچار کرنا ایک بڑا اور اہم کام ہے۔"

خیال رہے کہ پاکستان میں دارالحکومت اسلام آباد کے نزدیک ٹیکسلا کے تاریخی مقام پر ایک بڑا میوزیم قائم ہے، جہاں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں غیر ملکی سیاح آتے ہیں۔ اس میوزیم کی خاص بات ہزاروں سال پرانی بدھ تہذیب کی باقیات کے علاوہ اس میوزیم کے ارد گرد بدھ مذہب کی عبادت گاہوں کی موجودگی ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں مغل دور کی یادگار اشیاء کے علاہ متحدہ بر صغیر اور تقسیم بر صغیر کی تاریخ کو محفوظ کیا گیا ہے۔

اسی طرح کے پی کے اور سندھ میں سرکاری سرپرستی میں چلنے والے عجائب گھروں میں عوامی دلچسپی کی متعدد چیزیں موجود ہیں۔ تاہم ماہرین کے خیال میں مختلف وجوہات کی بناء پر وفاقی اور صوبائی حکومتیں ان عجائب گھروں کے تحفظ اور بہتری پر خاطر خواہ توجہ نہیں دے پارہی۔

میپ کانفرنس کے دیگر شرکاء میں ایک جرمن خاتون پروفیسر جولیانے اک عزیز بھی شامل تھیں۔ جولیان کامسیٹس یونیورسٹی لاہور میں آرکیٹیکچر ڈیزائن کے شعبے میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ یونیورسٹی کے پہلے میوزیم کی کیوریٹر بھی ہیں۔

ڈی ڈبلیوسے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا "عجائب گھر یقینًا کسی بھی معاشرے کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ یہاں نہ صرف اس معاشرے کی اپنی بلکہ دیگر تہذیبوں کی تاریخ کو بھی محفوظ کیا جا سکتا ہے اور پاکستان جیسے ملک میں تو اس کی اہمیت اور بھی زیادہ ہے کیونکہ میرے خیال میں یہ خطہ بہت تاریخی ہے۔" ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عجائب گھروں کے لیے اس طرح کا اقدام بہت خوش آئند ہے اور یہ اس شعبے کی بہتری کے لیے مدد گار ثابت ہوگا۔

ان کے بقول "میں نے لاہور کے میوزیم میں دیکھا کہ تصویریں جنہیں بہت سخت حفاظت کی ضرورت ہوتی ہے ان کو عام فریموں میں ڈال کر دیواروں پر ٹانکا گیا تھا۔اس پر مجھے خاصا تعجب ہوا لیکن میرے خیال میں پاکستان کو میوزیم میں انتظام وانصرام بہتر کرنے اور چیزوں کو محفوط بنانے کے لیے خاصی محنت درکار ہے، جو وہ اس بارے میں دوسرے ممالک کے تجربے سے استفادہ کر کے حاصل کر سکتا ہے۔" جنرل اسمبلی کے اختتام پر پنجاب حکومت کے محکمہ اطلاعات کے ایڈیشنل ڈائریکٹر اور میپ کے کوآرڈینیٹر میاں عتیق کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم آئندہ پانچ سالوں میں پاکستان کے عجائب گھروں کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بنانے کے لیے متعدد اہم اقدامات کرے گی۔