1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان ميں ويلنٹائن ڈے : حمايت بھی اور مخالفت بھی

محبت کے اظہار کے لیے ہر سال چودہ فروری کومنائے جانے والے ویلنٹائن ڈے کی مقبولیت جہاں پاکستانی نوجوانوں کے ایک بڑے حصے کو اپنی جانب راغب کرتی ہے، وہیں اس دن کو منانے کی مخالفت میں کئی آوازیں بھی سنائی ديتی ہیں۔

بیس سالہ عمیر ملک، پاکستان کے جنوبی اور آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے شہر کراچی کے ایک مصروف کاروباری علاقے میں واقع ایک دکان پر محبت کے اظہار کے خوبصورت لفظوں سے سجے کسی کارڈ کے انتخاب میں مصروف ہے۔ چودہ فروری کو اپنی منگیتر کو کارڈ اور پھولوں کے علاوہ چھوٹے چھوٹے کئی اور گفٹس دینے کا اپنا ارادہ بتاتے ہوئے وہ کافی خوش نظر آ رہا ہے۔

صرف عمیر ہی نہیں بلکہ وہاں موجود کئی ديگر نوجوان ویلنٹائن ڈے پر اپنے چاہنے والوں کے لیے کوئی نہ کوئی خریداری کرتے نظر آتے ہيں۔ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ان نوجوانوں کا کہنا تھا کہ کسی خوبصورت جذبے کا اظہار کسی ایک دن کا محتاج نہیں، ’’لیکن اگر ایک دن ہم اپنے چاہنے والوں کو پھول یا کوئی اور تحفہ دے کر خوشی محسوس کرتے ہیں تو اس میں کیا برائی ہے۔ یہ کام تو ویسے بھی لوگ چھپ چھپا کر سارا سال ہی کرتے ہیں۔‘‘ یہ خیالات کم و بیش ہر اس شخص کے ہیں جو اس دن کی مناسبت سے کچھ نہ کچھ کر رہے ہیں اور جن کے لیے پاکستان میں گزشتہ چند برسوں سے فروری کے مہینے کی آمد کے ساتھ ہی دکانیں محبت کے اظہار کے لیے دیے جانے والے تحفے تحائف سے سجنے لگتی ہیں۔

جہاں ایک طبقہ اس دن کو منانے کے لیے پُر جوش نظر آتا ہے، وہیں اس کی مخالفت کی مہمات بھی زور و شور سے جاری رہتی ہیں۔ اس کی جھلک کہیں کہیں سڑکوں پر لگے ان بینرز پر نظر آتی ہے، جن میں ویلنٹائن ڈے کے بجائے ’حیا ڈے‘ منانے کی ترغیب دی جا رہی ہوتی ہے یا ’حجاب ڈے‘ منانے کی دعوت دی جاتی ہے ۔تاہم یہ پہلی بار ہے کہ حکومت کی جانب سے اس دن کو منانے کی مخالفت کی گئی۔

جنوبی صوبہ سندھ کی حکومت کی جانب سے 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے کے موقع پر سمندرمیں نہانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ صرف یہ ہی نہیں بلکہ پشاور میں ضلعی حکومت نے ویلنٹائن ڈے پر پابندی کے لیے ایک قرارداد منظور کر لی ہے۔ اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ’ایک مخصوص طبقہ ویلنٹائن ڈے کے نام پر یہاں تہذیب اور اقدار کو پامال کر کے بے حیائی اور بے شرمی پھیلانا چاہتا ہے۔‘ اس لیے ویلنٹائن ڈے منانے پر پابندی لگائی جائے۔ یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی اور میڈیا رپورٹس کے مطابق انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ اس قرار داد پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ اس سے قبل ضلع کوہاٹ کے ناظم پہلے ہی شہر میں ویلنٹائن ڈے کی تقریبات پر پابندی عائد کر چکے ہیں۔ ملکی صدر ممنون حسین نے بھی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ ویلنٹائن ڈے منانے سے گریز کریں کیونکہ یہ دن اسلامی روایت کا نہیں بلکہ مغربی روايات کا حصہ ہے۔

لوگ چاہے اس دن کو منانے کے حق میں فیصلہ کريں یا اس کی مخالفت کریں، اس کا فائدہ کاروبار سے منسلک لوگوں کو ضرور ہوتا ہے۔ کراچی کے علاقے بہادر آباد میں گل فروش اور غبارے بیچنے والے محمد صادق کہتے ہیں کہ عید کے علاوہ بس یہ ایک موقع ہے جس پر ان کے کاروبار میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ شاپنگ سینٹرز ہوں یا ریستوران، ان سب پر اس دن کی خصوصیت کے پیش نظر نہ صرف مختلف پُرکشش پیکیجز پیش کیے جاتے ہیں بلکہ متوجہ کرنے کی غرض سے عوامی تقریبات کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے، جو ویلنٹائن ڈے کو عوام کے لیے خاص بنائے نہ بنائے، کاروباری حضرات کے لیے منافع بخش ضرور بنا دیتا ہے۔