1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان ممبئی حملوں سے متعلق مزید سوال نہ اٹھائے: پی چدم برم

بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے کہا ہے کہ ممبئی حملوں سے متعلق پاکستان کو کافی ثبوت فراہم کئے جا چکے ہیں اور ساتھ ہی اُمید ظاہر کی ہے کہ اسلام آباد حکومت اب نئے سوال نہیں اٹھائے گی۔

default

بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم

Mumbai Schießerei

ممبئی ریلوے اسٹیشن پر حملے کے بعد کا منظر

پی چدمبرم منگل کو ایک نیوز کانفرنس کے دوران ممبئی حملوں سے متعلق سوالات کے جواب دے رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس نومبر کے ممبئی حملوں سے متعلق ایک اور ڈوسیئر پاکستان کے حوالے کیا جاچکا ہے۔ بھارتی وزیر نے الزام عائد کیا کہ پاکستان حملوں کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی میں تاخیر کر رہا ہے۔

بھارتی شہر ممبئی میں گزشتہ برس چھبیس نومبر کو مختلف مقامات پر حملوں میں کم از کم ایک سو ساٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ بھارت نے حملوں کے لئے پاکستان کو ذمہ دار قرار دیا تھا، جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات ایک مرتبہ پھر کشیدہ ہو گئے۔

تاہم پاکستان نے ان حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے تسلیم کیا تھا کہ ان میں پاکستان کے ریاستی نہیں بلکہ غیرریاستی عناصر ملوث ہیں، جن کے خلاف حکومت کارروائی کرے گی۔ اس حوالے سے نئی دہلی کی جانب سے فراہم کردہ معلومات پر اسلام آباد حکومت نے بعض نکات پر وضاحتیں طلب کیں۔

Hafiz Mohammed Saeed 2009

کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ محمد سعید

منگل کی نیوزکانفرنس کے دوران پی چدمبرم کا مزید کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے رویے سے مایوس ہیں اور اس کی دو وجوہات ہیں، ایک تو اسلام آباد حکومت کی غیرسنجیدگی اور اس کے علاوہ ’’سرحد پار دہشت گردوں کے ٹھکانے بھی موجود ہیں۔‘‘ چدمبرم نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ممبئی حملوں کے ذمہ دار پاکستان میں ہی موجود ہیں۔

بھارت نے پاکستان کو ان حملوں سے متعلق ایک ڈوسیئر بائیس اگست کو روانہ کیا تھا۔ نئی دہلی حکام کالعدم پاکستانی تنظیم لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ محمد سعید کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کے لئے اسلام آباد حکومت پر زور دے رہے ہیں۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ ممبئی حملوں میں حافظ سعید کے ملوث ہونے کے کافی ثبوت موجود ہیں۔

دریں اثناء پاکستان میں ممبئی حملوں کے الزام میں گرفتار پانچ افراد کے خلاف عدالتی کارروائی جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے ان کے وکیل صفائی نے بتایا تھا کہ انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت نے اس حوالے سے مقدمہ ایک ہفتے کے لئے مؤخر کر دیا ہے۔ اس کیس کی اگلی سماعت پانچ ستمبر کو ہوگی۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: گوہر نذیر گیلانی

DW.COM