1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان: مسیحی اسکول پر حملہ، متعدد افراد گرفتار

پاکستانی صوبہ پنجاب کے شہر گوجرانوالہ کے نواح میں مشتعل ہجوم نے ایک مسیحی اسکول پر حملہ کر کے اس کی املاک کو نقصان پہنچایا۔ ان مشتعل افراد کا الزام تھا کہ مسیحی آبادی نے قرآن کی توہین کی۔

default

پویس کے مطابق پانچ سو افراد کے ایک گروہ نے ضلح گوجرانوالہ کے ایک علاقے میں مبینہ طور پر قرآن کی توہین کے الزام میں چرچ پر بھی حملے کی کوشش کی، جسے پولیس نے ناکام بنا دیا۔ ان افراد نے الزام عائد کیا کہ انہیں ایک قریبی مسیحی قبرستان سے قرآن کے جلائے گئے صفحات ملے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہےکہ اس واقعے کے بعد مقامی مساجد کے لاؤڈ اسپیکرز کے ذریعے مقامی مسیحی آبادی کے خلاف تقاریر کی گئیں اور لوگوں کو مشتعل کیا گیا۔ ہفتے کی صبح مشتبہ طور پر قرآن کی توہین کے خلاف مظاہرے کے لیے عوام کو جمع ہونے کے لیے کہا گیا۔ مساجد سے یہ اعلانات بھی کئے گئے کہ وہ اس سلسلے میں اپنے دیگر احباب کو بھی مطلع کریں۔

Blasphemie Gesetz in Pakistan FLASH Galerie

توہین رسالت کے قانون کے حق میں مظاہرہ کرنے والی خواتین

پولیس کے مطابق دوپہر کے وقت تقریبا پانچ سو افراد پتھروں اور لاٹھیوں کے ہمراہ ایک مسیحی مشینری اسکول کے اندر فرنیچر وغیرہ کو تباہ کرنے کے بعد ایک مقامی چرچ کی جانب بڑھنے کی کوشش کر رہے تھے تاہم انہیں پولیس نے روک دیا۔ پولیس کی جانب سے مسیحی اسکول کے فرنیچر کو تباہ کرنے کی تصدیق کی گئی ہے۔

مقامی پولیس اہلکار غلام مبشر میکن نے خبر رساں ادارے AFP کو بتایا کہ اس واقعے میں ملوث متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے تاہم علاقے میں کشیدگی بدستور موجود ہے۔

علاقے کا دورہ کرنے والے ایک سماجی کارکن ندیم انتھونی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مشتعل ہجوم کے اس حملے کے بعد متعدد مسیحی خاندان علاقہ چھوڑ کر دیگر علاقوں کی جانب نقل مکانی کر گئے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق گوجرانوالہ کے اس نواحی علاقے میں تقریبا ڈھائی ہزار مسیحی آباد ہیں۔

پاکستان میں توہین رسالت اور توہین قرآن کی سزا کے قوانین کی سختی کی وجہ سے گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ایسے واقعات عموما رونما ہو رہے ہیں۔ گزشتہ سال ایک مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو توہین رسالت کے الزام میں موت کی سزا سنائی گئی، جس پر عالمی برادری سمیت پاکستان کے اعتدال پسند طبقات میں بھی شدید تشویش دیکھی گئی۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس