1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان: ’مری بریوری‘، شراب کی ترقی کرتی ہوئی صنعت

روزافزوں ترقی کی راہوں پر گامزن ’مری بریوری‘ نامی کمپنی دیگر اقسام کی شرابوں کے علاوہ سالانہ بنیادوں پر دس ملین لیٹر بیئر بھی کشید کرتی ہے تاہم پاکستان میں شراب کی مانگ کے مقابلے میں یہ مقدار کافی کم معلوم ہوتی ہے۔

اسلامی جمہوریہٴ پاکستان کے بارے میں زیادہ معلومات نہ رکھنے والے افراد کے لیے یہ بات شاید کچھ تعجب کا باعث ہو کہ راولپنڈی میں قائم فوجی ہیڈ کوارٹرز کے قریب ہی واقع اس فیکٹری کے شراب کشید کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

DW.COM

یہ امر بھی اہم ہے کہ اس جنوبی ایشیائی ملک کے ستانوے فیصد مسلمان شہریوں کے شراب پینے پر پابندی ہے تاہم اقلیتوں مثال کے طور پر ہندو اور مسیحی کمیونٹی کے لیے ایسی کوئی قانونی پابندی نہیں ہے۔

اگرچہ ’مری بریوری‘ بظاہر پاکستان کے صرف تین فیصد عوام کے لیے شراب کشید کرتی ہے لیکن زیادہ پیداوار کے باوجود اس کمپنی کے لیے طلب و رسد میں توازن رکھنا مشکل ہے۔ یہ کمپنی سن 1860 میں برطانوی راج کے وقت قائم کی گئی تھی۔ اب اس کا مالک ایک پارسی ہے۔ اس کمپنی کو مسلمان مظاہرین نے جلایا بھی، اسلامی انتہا پسندی کے دوران یہ بند بھی رہی لیکن پھر بھی اس پر قانونی طور پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی۔

ستّر کی دہائی میں پاکستان میں شراب نوشی پر پابندی عائد کر دی گئی تھی لیکن اس کے باوجود مری بریوری پاکستان کی سب سے زیادہ منافع کمانے والی کمپنوں میں سے ایک ہے۔ اسلامی انتہا پسندی کی شورش کے باوجود شراب کے اس کارخانے کی سالانہ شرح نمو میں پندرہ تا بیس فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔

بریوری سے وابستہ اعلیٰ اہلکار میجر صبیح الرحمان نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ کمپنی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کر رہی ہے، اس لیے اسے کوئی خطرہ نہیں ہے، ’’ہم پاکستان میں سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والی کمپنیوں میں سے ایک ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’یہ سب کے مفاد میں ہے کہ مری بریوری ایک قانونی بزنس کے طور پر ترقی کرتی رہے۔‘‘

مری بریوری کے بیئر کا ایک کین تین سو روپے (تین ڈالر) میں خریدا جا سکتا ہے لیکن بلیک مارکیٹ میں اس کی قیمت بیس ڈالر یا اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ پاکستان میں لوگوں کی ماہانہ تنخواہ کی اوسط تیرہ ہزار روپے (ایک سو تیس ڈالر) ہے، جس کے تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ تین سو روپے کا ایک کین عام صارف کی دسترس سے باہر ہے۔

منشیات کے عادی افراد کا علاج کرنے والے ایک ماہر طاہر احمد نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’آف لائسنس سٹورز ایسے لوگوں کو شراب فروخت کرتے ہیں، جو قوتِ خرید رکھتے ہیں، اور صرف مسلمان ہی اقتصادی طور پر اتنے مستحکم ہیں کہ وہ اتنی قوت خرید رکھتے ہیں۔‘‘

Tschechische Republik Pilsner Urquell

’مری بریوری‘ سالانہ بنیادوں پر دس ملین لیٹر بیئر بھی کشید کرتی ہے

پاکستان میں شراب نوشی کی شرح میں اضافے پر تشویش رکھنے والے اس معالج نے مزید کہا، ’’متوسط طبقہ ہی (شراب نوشی کے حوالے سے) اسلامی اخلاقیات کا لحاظ رکھتا ہے ورنہ امیری کی طرف مائل اپر کلاس کے لیے الکوحل کا استعمال ایک عام سی بات بن چکا ہے۔ مہمانوں کو شراب پیش کی جاتی ہے اور یہ سماجی طور پر ایک متوقع عمل بن چکا ہے۔‘‘

مری بریوری میں بننے والی شراب غیر ممالک میں اسمگل بھی کی جاتی ہے۔ ایک کسٹم اہلکار نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا، ’’زیادہ تر اسمگلنگ دبئی کے راستے کی جاتی ہے اور اس مقصد کے لیے سمندری راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔‘‘ شراب کے غیرقانونی بیوپاری متعلقہ حکام کو رشوت دے کر بریوری کے شراب کے کنٹینرز ہی کراچی لے آتے ہیں، جو لانچز کے ذریعے آگے اسمگل کر دیے جاتے ہیں۔