1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان: مختلف ویب سائٹس پر پھر پابندی کا امکان

پاکستانی شہر بہاولپور میں ایک عدالت نے یوٹیوب اور آٹھ دیگر ویب سائٹس پر ملک میں پابندی عائد کرنے کی سفارش کی ہے۔ ان ویب سائٹس پر پیغمبر اسلام کے خلاف متنازعہ مواد کی موجودگی کے الزامات عائد ہیں۔

default

حکومت کو پیش کی جانے والی سفارش میں کہا گیا ہے کہ یوٹیوب کے علاوہ ایم ایس این، یاہو، گوگل، اسلام ایکسپوزڈ، اِن دی نیم آف اللہ، ایمیزون اور بِنگ نامی ویب سائٹس پر پابندی لگائی جائے۔ اگر یہ احکامات نافذ کر دئے جاتے ہیں، تو پاکستان میں عوام کی بڑی اکثریت اہم سرچ انجنز اور ای میل اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام ہو جائے گی۔

مسلمان اکثریت والے ملک پاکستان کے آئین کے مطابق اسلام، پیغمبر اسلام اور دیگر مذہبی قواعد کے خلاف نشر کیا جانے والا مواد ناقابل اشاعت تصور کیا جاتا ہے۔ مشرقی پاکستانی شہر بہاولپور کی عدالت نے انتظامیہ کو یہ سفارشات منگل کے روز پیش کیں۔

Streit zwischen youtube und der GEMA

ان سائٹس پر پابندی سے پاکستانی عوام کی اکثریت کو بیرونی دنیا سے رابطوں میں شدید دشواریاں پیش آ سکتی ہیں

یہ رٹ پٹیشن بہاولپور کے ایک وکیل لطیف الرحمان کی جانب سے عدالت میں دائر کی گئی تھی۔ لطیف الرحمان نے بدھ کے روز اپنے ایک بیان میں کہا:’’ان ویب سائٹس پر اللہ، پیغمبر اسلام اور قرآن کے خلاف مواد موجود ہے۔‘‘ مسٹر رحمان نے مزید کہا کہ انہوں نے عدالت میں اس حوالے سے ’’متعدد سی ڈیز کے ذریعے بہت سارا مواد‘‘ پیش کیا، جس کی بنیاد پر عدالت نے یہ سفارشات پیش کی ہیں۔

خبررساں ادارے روئٹرز سے ٹیلی فون پر بات چیت میں لطیف الرحمان نے بتایا کہ عدالت کے جج مظہر اقبال سندھو نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو احکامات جاری کئے ہیں کہ وہ اس حوالے سے تمام تر مواد 28 جون تک عدالت میں پیش کرے۔’’انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کی وزارت کو اس کے سیکریٹری کے ذریعے یہ احکامات دئے گئے ہیں کہ وہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کے چیئرمین کو ہدایات جاری کر دیں تاکہ ان ویب سائٹس کو بلاک کر دیا جائے۔‘‘

تاہم پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اس حوالے سے ان کے ادارے کوکسی بھی قسم کا کوئی حکم نامہ موصول نہیں ہوا ہے، نہ ہی حکومت کی طرف سے ان ویب سائٹس کی بندش کی کوئی ہدایات دی گئی ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ عدالت کی طرف سے حکم نامہ موصول ہونے کے بعد یہ ادارہ احکامات کی تکمیل کرے گا۔

پاکستان انٹرنیٹ سروس مہیا کرنے والی کمپنیوں کی انجمن کے کنوینر مسٹر سراج نے اس حوالے سے اپنے ردعمل میں کہا:’’ایسے احکامات کسی تکنیکی ادارے کو لینے چاہییں نہ کہ عدالتوں کو، جنہیں اس بارے میں کوئی معلومات ہی نہیں۔اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ہائی وے کو بند کرکے پاکستان کو دنیا سے الگ کر دیا جائے۔‘‘

گزشتہ ماہ بھی ایک پاکستانی عدالت کے حکم پر ملک میں فیس بک سمیت متعدد سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس پر چند روز کے لئے پابندی عائد کر دی گئی تھی، جسے بعد میں ختم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

رپورٹ: عاطف توقیر/خبر رساں ادارے

ادارت: گوہر نذیر گیلانی

DW.COM