1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان: لہلہاتے کھیت لیکن غذا ناکافی

غیر سرکاری تنظیموں اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے تعاون سے تیار کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی کل آبادی کا 48.6 فیصد حصہ غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے۔ حکومتی حلقے اس رپورٹ میں پیش کئے گئے اعداو شمار کو مسترد کر رہے ہیں۔

default

’’ پاکستان میں غذائی عدم تحفظ‘‘ کے نام سے تیار کی گئی اس رپورٹ کے مطابق ملک کے کل ایک سو اکتیس131 اضلاع میں سے 80 غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں جبکہ ان میں سے بھی 45 اضلاع کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے۔ اسلام آباد میں اس رپورٹ کے نمایاں نکات کے اجراء کے موقع پر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک کے نمائندے وولف گانگ ہیر بینگرنے کہا کہ انہیں اس بات پر زیادہ تشویش ہے کہ کم قوت خرید کے سبب گزشتہ برس کے مقابلے اس برس لوگوں نے مجموعی طور پر 10 فیصد کم خوراک کا استعمال کیا ہے۔

مسٹر ہیربینگر کا یہ بھی کہنا تھا کہ غذائی عدم تحفظ شدت پسند رجحانات میں اضافے کا بھی ایک سبب ہے اوربقول ان کے حکومت کو اس صورتحال پر قابو پانے کےلئے ہنگامی نوعیت کے اقدامات درکار ہیں۔

BdT Pakistan Essen in Ramadan

خوراک و زراعت کے وفاقی وزیر نذر محمد گوندل غذائی عدم تحفظ کے متعلق ان اعدادو شمار کو درست نہیں مانتے

پاکستان کی غیر سرکاری تنظیم ادارہ برائے پائیدار ترقی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد سلہری کے مطابق رپورٹ کی تیاری کے دوران یہ بات واضح طور پر سامنے آئی کہ جن علاقوں میں عسکریت پسندی ہے وہاں غذائی قلت کا تناسب بھی دیگر اضلاع کی نسبت زیادہ ہے'' یہ بات قابل ذکر ہے شدت پسندی سے زیادہ متاثرہونے والے اضلاع جہاں پرلوگ جنگی صورتحال سے دوچار ہیں خواہ وہ سرحدی قبائلی علاقے ہوں یا بلوچستان کے اضلاع وہاں لوگوں کو غذائی قلت کا سب سے زیادہ سامنا ہے خاص طور پر لوئر دیر، اپر دیر یہ وہ اضلاع ہیں جو عسکریت پسندی سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور یہاں پر غذائی قلت بہت زیادہ ہے‘‘

خوراک و زراعت کے وفاقی وزیر نذر محمد گوندل غذائی عدم تحفظ کے متعلق ان اعدادو شمار کو درست نہیں مانتے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت نے بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اجراء سمیت ایسے متعدد اقدامات کئے ہیں جن کی وجہ سے عام لوگوں کا معیار زندگی بلند ہوا ہے''

BdT Pakistan Erdbeben Opfer in Ziarat

اس ضمن میں ایک نیشنل فوڈ سیکیورٹی اسٹریٹجی ترتیب دینے کا بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے

رپورٹ میں جس طرح پیش کیا گیا ایسی صورتحال بالکل بھی نہیں ہے حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں براہ راست تعاون کا طریقہ کا اختیار کیا ہے اور یہ وہ سماجی خدمات ہیں جن کا رواج ترقی یافتہ ممالک میں موجود ہے جبکہ یہ پاکستان میں پہلی دفعہ متعارف ہوا ہے اس کے بعد بیت المال، عشرو زکوۃ ہے یہ وہ ادارے ہیں جو براہ راست غریبوں کی امداد میں مصروف عمل ہیں۔‘‘

اس موقع پر موجود مختلف غذائی ماہرین نے بھی اس بات پر زور دیا کہ حکومت غذائی قلت کو صرف انسانی مسئلہ کے طور پر ہی نہ دیکھے بلکہ اس معاملے کو قومی سلامتی کے تناظر میں دیکھتے ہوئے ایک نیشنل فوڈ سیکیورٹی اسٹریٹجی ترتیب دی جائے تا کہ لوگوں میں غذائی عدم تحفظ کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ دہشتگردی اور شدت پسندی کے عوامل پر بھی قابو پایا جا سکے۔

رپورٹ : شکور رحیم

ادارت : عدنان اسحاق