1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان: لاپتہ افرادکی بازیابی کا کمیشن لاپتہ

پاکستان میں سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے بعد چھ ہفتے سے زائد کا وقت گزر جانے کے باوجود حکومت لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قائم کمیشن کی تشکیل مکمل نہیں کر سکی ہے۔

پاکستانی سپریم کورٹ، اسلام آباد

پاکستانی سپریم کورٹ، اسلام آباد

لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قائم دو رکنی کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) فضل الرحٰمن کو 2 ماہ قبل الیکشن کمیشن کا رکن تعینات کر دیا گیا تھا۔ ان کی الیکشن کمیشن میں تعیناتی کے بعد سپریم کورٹ نے حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ ان کی خالی نشست کو جلد پُر کرے تا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کمیشن اپنا کام جاری رکھ سکے۔

پاکستان میں مبینہ طور پر خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے افراد کی رہائی کے لیے سرگرم تنظیم ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی چیئر پرسن آمنہ مسعود جنجوعہ کا کہنا ہے کہ منتخب جمہوری حکومت نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالے سے نہ صرف کوئی قانون سازی نہیں کی بلکہ کمیشن کی تشکیل کے بارے میں بھی بے حسی کا رویہ اختیار کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ایسے کمیشن بنائے جا رہے ہیں، جن کے سربراہ غائب ہیں۔ پتہ نہیں کتنے مقدمات ہیں۔ تین تین مہینے سے انتظار میں ہیں کہ کب ہماری باری آئے، کب کمیشن میں ہمارا کیس لگے گا۔ چار صوبے ہیں، فاٹا ہے، کشمیر کا علاقہ ہے، ایک جج کس طرح ہینڈل کر سکتا ہے۔ لوگوں کی باری ہی نہیں آ رہی، لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے‘۔

چند سال پہلے کی اس تصویر میں آمنہ جنجوعہ پاکستانی سیاسی قائدین کے ساتھ بات چیت کر رہی ہیں

چند سال پہلے کی اس تصویر میں آمنہ جنجوعہ پاکستانی سیاسی قائدین کے ساتھ بات چیت کر رہی ہیں

آمنہ مسعود کا کہنا ہے کہ انہوں نے مزید 28 ایسے افراد کے ناموں کی ایک فہرست بھی عدالت میں جمع کرائی ہے، جنہیں مبینہ طور پر خفیہ ایجنسیوں نے اغوا کیا ہے۔ آمنہ مسعود کا کہنا ہے کہ یہ بات اور بھی تشویشناک ہے کہ ایجنسیاں اب بھی لوگوں کو غائب کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’لگاتار ہر سماعت کے بعد مَیں 10 سے لے کر 25 تک نئے مقدمات آگے پیش کر رہی ہوں کیونکہ لوگ لگا تار اغوا ہو رہے ہیں اور یہ سلسلہ رک نہیں رہا تو ان کی تعداد کیسے ایک جیسی رہ سکتی ہے‘۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے کے آغا نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت ایک ماہ میں کمیشن کی تشکیل مکمل کر لے گی۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اس وقت 138 افراد لاپتہ ہیں، جن کی تلاش کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے کالعدم مذہبی تنظیم حزب التحریر کے مبینہ طور پر خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے 5 ارکان سے متعلق مقدمے کی سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ اس مقدمے کی گزشتہ سماعت کے موقع پر عدالت نے ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔ تاہم بدھ کے روز ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس خود تو عدالت میں پیش نہ ہوئے البتہ ان کے نمائندوں نے عدالت کو تحریری طور پر آگاہ کیا کہ تنظیم کے نمائندے ان کے پاس نہیں ہیں۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل طارق جہانگیری کا کہنا تھا کہ انہوں نے عدالت میں واضح طور پر کہا ہے کہ اگر ایجنسیوں پر اغوا کا الزام لگانے والوں کے پاس کوئی ثبوت ہے تو عدالت میں پیش کیا جائے۔ عدالت اس مقدمے کا فیصلہ جمعے کے روز سنائے گی۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس