1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان: فلائٹ آپریشن بحال، مذاکرات شروع

پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائینز(پی آئی اے) کی نجکاری کے خلاف کی جانے والی ہفتے بھر کی ہڑتال کے بعد فلائٹ آپریشن پوری طرٖح شروع ہو گیا ہے۔

آٹھ دن تک جاری رہنے والی اس ہڑتال کے دوران دو احتجاجی ملازمین نامعلوم افراد کی گولی لگنے سے ہلاک ہو گئے تھے۔ اس دوران نو سو سے زائد پروازوں کی منسوخی سے پی آئی اے کو اربوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔ بدھ کے روز ہونے والی ایک اور پیش رفت میں پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز نے اپنے کرایوں میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے عمرہ زائرین کے لیے لاہور سے کرایہ 54 ہزار پانچ سو روپے، کراچی سے چوالیس ہزار پانچ سو 44500 روپے اور لاہور سے کراچی کا یکطرفہ کرایہ کسی ٹیکس کے بغیر ساڑھے سات ہزار روپے مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

DW.COM

بدھ کے روز لاہور میں پی آئی اے کے ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ایک وفد نے اپنے چئیرمین سہیل بلوچ کی قیادت میں پنجاب کے وزیر اعلی میاں شہباز شریف سے ملاقات کی اور انہیں پی آئی اے کے احتجاجی کارکنوں کے مطالبات سے آگاہ کیا۔ وزیر اعلی پنجاب نے ان کے مطالبات غور سے سنے اور انہیں یقین دہانی کروائی کہ قطر کے دو روزہ دورے پر گئے ہوئے وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کی وطن آمد کے بعد انہیں ان مطالبات پر حکومتی مؤقف سے آگاہ کیا جائے گا۔

تین گھنٹے تک جاری رہنے والی اس ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل بلوچ کا کہنا تھا، ’’ ہمیں شہباز شریف پر بھروسہ ہے اور ہم مطمئن ہو کر جا رہے ہیں۔‘‘ اس موقع پر وزیر اعلی پنجاب کو احتجاجی ورکروں کے خلاف کیے جانے والے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ وزیر اعلی پنجاب نے وفد کے ارکان کو بتایا کہ پی آئی اے کے معاملات میں حتمی فیصلہ وزیر اعظم نواز شریف کریں گے اور ان کی وطن آمد کے بعد انہیں ان مطالبات سے آگاہ کیا جائے گا۔

پی آئی اے کے امور پر نظر رکھنے والے ایک مقامی صحافی سعید بلوچ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ یہ مذاکرات درحقیقت احتجاجی ورکروں کو واپسی کا محفوظ راستہ دینے کے لیے ہیں۔ ان کے بقول حکومت کارکنوں میں پھوٹ ڈال کر اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر دباو بڑھا کر صورتحال کو اپنے قابو میں لانے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ اب مذاکرات صرف اس بات پر ہو سکیں گے کہ پی آئی اے کے احتجاجی ورکروں کو دئے گئے نوٹسز کیسے واپس ہوں اور نجکاری کب اور کیسے کی جائے گی۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں پی آئی اے کے احتجاجی کارکنوں کو ہراساں کرنے کی اطلاعات ملتی رہی ہی۔ ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی رہنما سطوت سلیم نے بتایا کہ انہیں پچھلے کئی دنوں سے خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کی طرف سے ہراساں کیا جاتا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بدھ کے روز ان سمیت پی آئی اے کے 54 کارکنوں کو نوکریوں سے نکالے جانے کے حوالے سے شوکاز نوٹسز موصول ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلائٹ سروس، کیٹرنک، ٹریفک، انجینرنگ اور دیگر شعبوں کے ورکروں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور کسی کو نہیں معلوم کہ حکومت اب احتجاج کرنے والوں کے ساتھ کیا سلوک کرے گی۔

Pakistan Gewalt bei Protesten Polizei und Streik von Pakistan International Airlines

پاکستان کے مختلف شہروں میں پی آئی اے کے احتجاجی کارکنوں کو ہراساں کرنے کی اطلاعات ملتی رہی ہی

سینیئر صحافی خالد فاروقی نے بتایا کہ پی آئی اے ایک وفاقی محکمہ ہے اور اس کے ورکروں کے ساتھ صوبہ پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف کے مذاکرات سے دوسرے صوبوں میں کوئی اچھا پیغام نہیں گیا ہے۔ ان کے بقول یہ عمل ملکی معاملات پر ایک خاندان کی چھاپ کو بھی ظاہر کرتا ہے لیکن ان کے بقول موجودہ حکومت میں وزیراعظم نواز شریف کے بعد سب سے طاقتور شخصیت شہباز شریف ہی ہیں اور ورکروں کا بھی یہی خیال تھا کہ صرف شہباز شریف ہی ان کی آواز وزیر اعظم تک پہنچا سکتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں خالد فاروقی کا کہنا تھا کہ شہباز شریف میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ پی آئی اے کے معاملے میں نواز شریف کی مرضی کے خلاف ان سے کوئی بات منوا سکیں۔ انہیں نواز شریف کی طرف سے دئے گئے فریم ورک کے تحت ہی کام کرنا ہوگا۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ شہباز شریف کی حیثیت ایک پوسٹ مین سے زیادہ نہیں ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ پی آئی اے کے کارکنوں کی پسپائی کے بعد اب سٹیل مل اور دیگر اداروں کی نجکاری بھی حکومت کے لیے کرنا آسان ہوگا۔ وزیراعلی پنجاب کے دفتر میں موجود اہلکاروں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اس ملاقات کے حوالے سے رات گئے ایک ہینڈ آوٹ جاری کیا جائے گا۔