1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان، غیر ملکی سرمایہ کاری کا ہدف پانچ ارب ڈالر

اسلام آباد کی اس خواہش کی راہ میں اگرچہ بہت سی مشکلات حائل ہیں تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ ہدف ناقابل حصول نہیں بلکہ گزشتہ عرصے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا اوسط اندازہ اتنا ہی رہا ہے۔

default

خزانے کے وزیر شوکت ترین کا استعفیٰ، دہشت گردانہ کارروائیوں کے باعث سرمایہ کاروں کا پاکستان پر عدم اعتماد اور سیاسی میدان میں کھینچا تانی کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاری پر اثر پڑنا انوکھی بات نہیں۔ گزشتہ سال اسلام آباد حکومت کو ایک دہائی کی بدترین معاشی نمو کا سامنا رہا یعنی محض دو فیصد اور غیر ملکی سرمایہ کاری بھی چار ارب امریکی ڈالر کے آس پاس ہی رہی۔

Stadt Lahore in Pakistan, Elektrizitätskrise

بجلی کا بحران بھی غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول میں ایک رکاوٹ !

پاکستانی سرمایہ کاری بورڈ Board of Investment کے چیئرمین سلیم مانڈی والا البتہ ان حالات کے باوجود پر امید ہیں۔ ’’روایتی طور پر غیر ملکی سرمایہ کاری کی جو صورتحال رہی ہے یعنی سالانہ پانچ ارب ڈالر کے آس پاس، ہم بہت جلد دوبارہ وہی حدف حاصل کرلیں گے بشرطیکہ عالمی منڈیوں میں بھی صورتحال معمول پر آجائے''۔

خبر رساں ادارے اژانس فرانس پریس سے بات چیت میں مانڈی والا نے کہا کہ معاشی مسائل محض پاکستان کی داخلی صورتحال کے باعث نہیں بلکہ ان پر عالمی بحران کے بھی واضح اثرات ہیں۔ ’’ہمارے یہاں اگرچہ توانائی متعلقہ و مالیاتی مسائل اور سب سے بڑھ کا سلامتی کا بحران موجود ہے مگر عالمی مسائل بھی بیرونی سرمایہ کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں‘‘ ۔ خطے میں بھارتی اور چینی معیشت کی تیز رفتار ترقی کے مقابلے میں پاکستانی حکام کے مطابق اسلام آباد حکومت اپنے محدود وسائل کے ہوتے ہوئے دیگر ترقی پزیر ممالک کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ واشنگٹن نے پاکستان کے لئے ’غیر فوجی‘ امداد میں تین گنا اضافہ کرکے اگلے پانچ سال تک اس کی مالیت ساڑھے سات ارب ڈالر تک کر دی ہے۔ پاکستانی حکومت اس آس میں ہے کہ اس ’نقد‘ امداد کے سہارے معاشی ترقی ممکن بنائی جاسکے گی۔

Pakistan Finanzhilfe Finanzkrise Shaukat Tareen

مستعفی وزیر خزانہ شوکت ترین

پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کرنے والے تین سرفہرست ممالک میں ساڑھے تین سو ملین ڈالر کے ساتھ امریکہ پہلے، برطانیہ ایک سو انیس ملین ڈالر کے ساتھ دوسرے اور عرب امارات ایک سو بائیس ملین ڈالر کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

اس سلسلے میں تیل و گیس کا شعبہ سرفہرست ہے جس کے بعد مواصلات، معلوماتی تکنیک اور توانائی کا شعبہ شامل ہے۔ پاکستانی حکام مواصلات سے متعلق مصری کمپنی Orascom ناروے کی کمپنی Telenor جاپانی ٹویاٹا، امریکی کوکا کولا، پراکٹر اینڈ گیمبل اور اسٹینڈرڈ چیریٹڈ بینک کوغیر ملکی سرمایہ کاری کی کامیاب مثال قرار دیتے ہیں۔ معاشی امور کے تجزیہ نگار سلمان شاہ کے مطابق ساڑھے سات ارب ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری کا ہدف قابل حصول ہے مگر سخت محنت، اس کی شرط ہے۔

رپورٹ شادی خان سیف

ادارت کشور مصطفیٰ

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات