1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

پاکستان غیرقانونی تارکین وطن کو واپس لینے پر تیار

پاکستانی وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور نے یورپی یونین اور جرمنی کو یقین دلایا ہے ان کا ملک یورپ پہنچنے والے غیرقانونی تارکین وطن کو واپس لینے پر تیار ہے اور اس سلسلے میں ضروری اقدامات تیز تر کر دیے جائیں گے۔

یورپ پہنچنے والے لاکھوں مہاجرین کی وجہ سے مغربی ممالک شدید دباؤ میں ہیں اور ان مہاجرین کی جلد از جلد واپسی کے لیے ان ممالک کے ساتھ معاہدے کرنے کے خواہش مند ہیں، جہاں سے ان تارکین وطن کا تعلق ہے۔ اب پاکستانی وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے یورپی یونین اور جرمنی کو یقین دہانی کروائی ہے کہ پاکستان اپنے ایسے تمام مہاجرین کو واپس لینے پر تیار ہے، جن کی سیاسی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہوں گی۔

پاکستان اور یورپی یونین کے مابین سن 2010ء سے ایک ایسا معاہدہ موجود ہے، جس کے تحت پاکستانی مہاجرین کو واپس بھیجا جا سکتا ہے لیکن اس معاہدے پر عملدرآمد کرنا انتہائی مشکل بن چکا ہے۔ پاکستان سے یورپ پہنچنے والے پاکستانیوں میں سے صرف بیس سے پچیس فیصد افراد کی سیاسی پناہ کی درخواستیں منظور کی جاتی ہیں لیکن معاہدے پر مشکل عملدرآمد کی وجہ سے ایسا کم ہی ہوا ہے کہ سیاسی پناہ کی درخواستیں مسترد ہونے والے افراد کو واپس پاکستان بھیجا گیا ہو۔

پاکستانی خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز کا ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اب پاکستانی مہاجرین کی واپسی میں حائل مشکلات کو بہت جلد حل کر لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ چند ماہ پہلے تک پاکستانی مہاجرین کا مسئلہ کوئی زیادہ سنگین نہیں تھا اور یورپ پہنچنے والے پاکستانی تارکین وطن کی تعداد بھی زیادہ نہیں تھی۔ ان کا تصدیق کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حالیہ چند ماہ میں غیرقانونی پاکستانی تارکین وطن کی واپسی کا عمل تیز کر دیا گیا ہے، ’’پہلے غیر قانونی پاکستانی مہاجرین کی دستاویزات کی تصدیق کا عمل انتہائی سست تھا۔ دستاویزات پوسٹ کے ذریعے بھیجی جاتی تھیں، اب ہم نے اس عمل کو الیکٹرانک کر دیا ہے۔ اگر یہ بات کنفرم ہو جاتی ہے کہ ان مہاجرین کا تعلق پاکستان سے ہے، تو سیاسی سطح پر ہم انہیں فوراﹰ قبول کر لیا کریں گے۔ ‘‘ سرتاج عزیز کا ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اب سے مہاجرین کی واپسی سے متعلق تیز رفتار اور موثر طریقہ کار اپنایا جائے گا۔

Frank-Walter Steinmeier Luxemburg ASEM-Aussenministertreffen

جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر کا سرتاج عزیز کے ساتھ ملاقات کرنے کے بعد کہنا تھا کہ پاکستان مکمل طور پر تعاون کرنے کے لیے تیار ہے

یاد رہے کہ پاکستانی مہاجرین کی سیاسی پناہ کی درخواست مسترد ہونے کے بعد انہیں پاسپورٹ یا پھر شناختی کارڈ کے حصول کے پاکستان کے سفارت خانے یا پھر قونصلیٹ سے رابطہ کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ پاکستانی سفارت خانہ یا قونصلیٹ جمع کروائے جانے والے کاغذات تصدیق کے لیے پاکستان بھیج دیتا ہے اور بعض اقات اس عمل میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔

دوسری جانب پاکستانی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ یورپ سے واپس بھیجے جانے والے ایسے تارکین وطن کو جہاز سے نہیں اترنے دیا جائے گا، جن کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ یا پھر پاسپورٹ نہیں ہوں گے۔ اسلام آباد حکام کے مطابق پاکستان ان تارکین وطن کو واپس نہیں لے گا، جن کا کریمنل ریکارڈ ہوا یا پھر ان کے پاس ڈبل نیشنلٹی ہوئی۔

یورپ پاکستانیوں کے لیے قانونی امیگریشن کے راستے کھولے

دوسری جانب سرتاج عزیز نے اپنی اس خواہش کا اظہار بھی کیا ہے کہ یورپ پاکستانیوں کو قانونی امیگریشن کے مواقع فراہم کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس اچھے تربیت یافتہ افراد ہیں اور ان میں سے بہت سے پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح یورپ بھی ان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خود بھی اس وقت تیس لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے جبکہ پہلے ان کی تعداد پچاس لاکھ تھی، ’’ہمارے لیے مہاجرین کو قبول کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ مہاجرین کی وجہ سے یورپ میں پائی جانے والی بے چینی پاکستان ایسے ملکوں کے لیے ناقابل فہم ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان کے شمالی قبائلی علاقوں سے بھی لوگ یورپ پہنچ رہے ہیں اور یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ افغانستان سے ہیں، ’’ہمیں اس چیز کو واضح کرنا ہو گا اور اس کی حوصلہ شکنی بھی کرنا ہو گی۔‘‘

Serbien Grenze Mazedonien Flüchtlinge Pakistan

یورپ پہنچنے والے مہاجرین کے لحاظ سے پاکستان ساتویں نمبر پر آتا ہے

لکسمبرگ میں یورپ اور 51 ایشیائی ملکوں کے ’ای ایس ای ایم‘ اجلاس کے موقع پر جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر کا سرتاج عزیز کے ساتھ ملاقات کرنے کے بعد کہنا تھا کہ پاکستان مکمل طور پر تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگیرینی نے کہا ہے، ’’پاکستان کی طرف سے انتہائی مثبت سگنل ملے ہیں۔ اسلام آباد حکومت مکمل تعاون کے لیے تیار ہے۔‘‘

یورپ پہنچنے والے مہاجرین کے لحاظ سے پاکستان ساتویں نمبر پر آتا ہے۔ رواں برس کے آغاز سے ستمبر کے مہینے تک تیس ہزار سے زائد پاکستانی سیاسی پناہ کی درخواست دے چکے تھے، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں دو گنا ہے۔ یورپی رہنماؤں کے مطابق پاکستانیوں کی یہ تعداد زیادہ تو نہیں ہے لیکن اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو قابل تشویش ہے۔