1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان غلط سمت میں جا رہا ہے: گریگور اینسٹے

گریگور اینسٹے نے جرمن تنظیم ہائنرش بوئل فاؤنڈیشن کے لیے پانچ سال تک پاکستانی شہر لاہور میں خدمات انجام دی ہیں۔ حال ہی میں ڈوئچے ویلے کے گراہم لوکاس کے ساتھ گفتگو میں اینسٹے نے پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی پر بات کی ہے۔

default

سلمان تاثیر سپردِ خاک، فائل فوٹو

گزشتہ چند برسوں سے پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی میں روز افزوں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ گزرے تین عشروں کے دوران ایسے ہزاروں نوجوان مذہبی مدرسوں سے فارغ التحصیل ہو کر نکلے ہیں، جو مغربی دُنیا کو معاندانہ نظروں سے دیکھتے ہیں اور جن کا اولین مقصد ایک ایسی ریاست کا قیام ہے، جہاں شریعت نافذ ہو۔ کئی برسوں تک مسلمان دہشت گرد تنظیمیں بڑی حد تک آزادی کے ساتھ اپنی سرگرمیوں میں مصروف رہی ہیں۔ جزوی طور پر اِن تنظیموں کو پاکستان کی خفیہ فوجی سروس آئی ایس آئی کی بھی حمایت حاصل رہی ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُس کے پاکستانی طالبان کے ساتھ گہرے روابط ہیں۔ حال ہی میں جن مشہور پاکستانی سیاستدانوں کو قتل کیا گیا، اُن میں صوبے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر بھی شامل تھے، جو توہینِ رسالت کا متنازعہ قانون ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ قتل کے اِن واقعات کے بعد ملک بھر میں اِن واقعات کے مبینہ ذمہ دار عناصر کے لیے وسیع تر عوامی تائید و حمایت دیکھنے میں آئی۔

ہائنرش بوئل فاؤنڈیشن جرمنی کی گرین پارٹی سے نظریاتی قربت رکھتی ہے، جس کے ساتھ وابستہ رہتے ہوئے گریگور اینسٹے پانچ سال تک پاکستانی شہر لاہور میں خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔ حال ہی میں جرمن دارالحکومت برلن میں اُنہوں نے پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کے موضوع پر اظہارِ خیال کیا:

ڈوئچے ویلے: پاکستان میں پانچ سالہ قیام کے بعد اِس ملک کے مستقبل کے بارے میں آپ کس نتیجے پر پہنچے ہیں؟

گریگور اینسٹے: میں کسی بھی طرح کے نتائج پر نہیں پہنچا۔ میرا ایک نقطہء نظر ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان یقینی طور پر غلط سمت میں جا رہا ہے اور میں یہ بات بھاری دل کے ساتھ کہہ رہا ہوں۔ تاہم جیسا کہ احمد رشید نے اپنی مشہور تازہ تصنیف میں کہا ہے، ابھی پاکستان ابتری کا شکار نہیں ہوا ہے لیکن یقینی طور پر اور بدقسمتی سے وہاں ایک ایسا معاشرہ وجود میں آ رہا ہے، جو مذہبی طور پر زیادہ بنیاد پرست ہے۔ ایک ایسا معاشرہ، جہاں آزاد خیال نقطہء نظر رکھنے والوں اور کھلے پن کے لیے گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے اور ایک ایسا معاشرہ اور ایسا سیاسی ماحول ہے، جو اپنی آنکھیں بند رکھے ہوئے ہے۔

Blasphemie Gesetz in Pakistan FLASH Galerie

کراچی: سلمان تاثیر کے مبینہ قاتل ممتاز قداری کے حق میں اور توہینِ رسالت کے متنازعہ قانون میں ترامیم کے خلاف مظاہرہ

ڈوئچے ویلے: سلمان تاثیر کے قتل کے بعد عام لوگوں کے رد عمل کو آپ نے کیسا پایا؟

گریگور اینسٹے: وہ ایک بہت بڑا دھچکہ تھا، سیدھے سیدھے ایک شاک تھا، خاص طور پر جس انداز میں نوجوانوں اور پڑھے لکھے طبقے نے اپنا ردعمل ظاہر کیا۔ میرا خیال ہے کہ ملک کی ممتاز یونیورسٹیوں، جیسے کہ لاہور کی یونیورسٹیوں میں پاکستانی نوجوانوں کی ذہنیت ایسی ہے، جس سے ڈر لگتا ہے۔ دوسری خوفزدہ کرنے والی چیز اُس تحریک کا ردعمل ہے، جسے ابھی دو سال پہلے تک امید کی ایک کرن کے طور پر دیکھا جا رہا تھا یعنی وکلاء کی تحریک۔ یہ بات ناقابلِ یقین ہے کہ ملک کی یہ اشرافیہ، وکلاء کی یہ تحریک، جو پاکستانی معاشرے کے اُس اعلیٰ طبقے کی نمائندگی کرتی ہے، جو قانون کی حکمرانی اور ایک زیادہ جمہوری پاکستان کی تشکیل کے لیے کوشاں ہے، گورنر تاثیر کے قاتل پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کر رہی تھی۔

تو یہ ایک دھچکہ تھا، میرے جیسے شخص کے لیے، جو پانچ کامیاب سال گزار کر پاکستان سے نکلا ہے، جس نے ایک دوست کے طور پر پاکستان کو الوداع کہا ہے۔ میرے لیے یہ ایک مکمل شاک تھا اور مجھے پاکستانی معاشرے کا یہ طرزِ عمل بالکل سمجھ میں نہیں آیا ہے۔

ڈوئچے ویلے: کیا آپ کے خیال میں حکومتِ پاکستان مذہبی انتہا پسندی کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے کافی اقدامات کر رہی ہے؟

گریگور اینسٹے: نہیں، یقیناً نہیں۔ اور مجھے خدشہ ہے کہ اندر کے دشمن پر قابو پانے میں شاید بہت تاخیر ہو چکی ہے۔ پاکستان کا اندر کا یہ دشمن اُس ذہنیت کی انتہا پسندی ہے، جس پر انتہائی نقطہء نظر رکھنے والے عسکریت پسندوں کا غلبہ ہے، ایک عسکریت پسند اقلیت، جو اکثریت پر غلبہ حاصل کیے ہوئے ہے۔ اور پاکستانی حکومت یقیناً کافی اقدامات نہیں کر رہی۔ میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں۔ گزشتہ برس، جب میں لاہور میں رہ رہا تھا اور وہاں کام کر رہا تھا، میں نے کئی ہفتوں تک یہ مشاہدہ کیا کہ ہر چوک پر ایسے بینر آویزاں نظر آتے تھے، جن میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے کر اُن کی مذمت کی گئی ہوتی تھی اور کہا گیا ہوتا تھا کہ اُنہیں ہلاک کر دیا جانا چاہیے۔ لاہور میں عوامی مقامات پر بڑے بڑے بینر تھے، جنہیں پاکستانی حکام اور لاہور کی انتظامیہ برداشت کر رہی تھی۔ تو حکومت یقیناً کافی اقدامات نہیں کر رہی۔ اور پھر ہوا کیا؟ ایک احمدی مسجد پر بم حملہ ہوا، جس میں ساٹھ سے لے کر ستر تک افراد ہلاک ہو گئے۔ تب میڈیا کا اور معاشرے کا رد عمل بڑا تباہ کن تھا، میں اسے ایک خاموش سازش کا نام دیتا ہوں۔

Blasphemie Gesetz in Pakistan FLASH Galerie

مقتول گورنر پنجاب سلمان تاثیر توہینِ رسالت کے الزام میں سزائے موت پانے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کے ساتھ

دوسری بات یہ ہے کہ میں ایک بار پھر پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ نون کی حکومت کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ اِس واقعے سے چند مہینے قبل پنجاب صوبے کے منتخب وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے اپنے ایک بیان میں پاکستان کے مقامی طالبان کی ’تحریک طالبان‘ کو یہ کہہ کر گلے سے لگایا تھا کہ ’’براہِ مہربانی میرے بھائیو! تم کیوں ہم پر حملے کر رہے ہو، آخر ہم سب ہم وطن ہیں، ہم ایک مشترکہ دشمن کے خلاف لڑ رہے ہیں، ہم اپنی مغربی سرحدوں پر امریکیوں کے خلاف نبرد آزما ہیں‘‘۔ اسے میں پاکستان کے اندر انتہا پسندی کے خلاف کسی حقیقی جنگ سے تعبیر نہیں کرتا۔

میں دیگر بیانات کا بھی حوالہ دے سکتا ہوں، مثلاً اُن بیانات کا، جو اُن ممبئی حملوں کے فوراً بعد دیے گئے، جن میں ایک تنظیم نے غالباً آئی ایس آئی کی پشت پناہی سے ممبئی میں ہوٹلوں کو نشانہ بنایا تھا۔ اور پھر کئی ایک ہفتوں تک اُن سیاسی حلقوں میں، جو بھارت پر ہی زیادہ توجہ مرکوز کیے رکھتے ہیں، یہ بحث چھڑی رہی تھی کہ بھارت کے خلاف کیا طرزِ عمل اختیار کیا جانا چاہیے وغیرہ وغیرہ۔ تو تب پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما نواز شریف کا ایک بیان تھا کہ جب ملک کی مشرقی سرحدوں پر حقیقی دشمن کے ساتھ لڑنے کی بات آئے گی تو طالبان ہمارے ہم وطنوں کے طور پر ہمارے شانہ بشانہ لڑیں گے۔ یہ ہے، جسے میں کہتا ہوں کہ پاکستانی حکومت انتہا پسندی کی جانب انتہائی کمزور رد عمل ظاہر کر رہی ہے۔

ڈوئچے ویلے: تو اس کا بنیادی طور پر مطلب یہ ہوا کہ پاکستانی طبقہء اشرافیہ کے ذہنوں پر بھارت کا موضوع اس قدر سوار ہے کہ وہ اپنے ملک میں ہونے والی یہ ساری سرگرمیاں قبول کر لیں گے؟

گریگور اینسٹے: بدقسمتی سے، ہاں۔ یہ میرا نقطہء نظر ہے۔

انٹرویو: گراہم لوکاس / ترجمہ: امجد علی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس