1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان: عيد الفطر کی تقريبات جاری، سوگ بھی طاری

پاکستان کے بيشتر حصوں ميں آج عيد الفطر روايتی منائی جا رہی ہے۔ ملک ميں حاليہ حملوں اور گزشتہ روز بہاولپور ميں پيش آنے والے حادثے کے سبب وزيراعظم نواز شريف اپنے نجی بين الاقوامی دورے کو ترک کر کے وطن واپس لوٹ آئے ہيں۔

پاکستان کے اکثريتی علاقوں ميں پير سے عيد الفطر کی تین روزہ تقريبات شروع ہو گئی ہيں۔ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے کئی مقامات پر عيد کی نماز سخت سکيورٹی تلے ادا کی گئی۔ صوبہ بلوچستان اور صوبہ پنجاب کی حکومتوں سميت آرمی چيف جنرل قمر جاويد باجوہ نے عيد کی تقريبات کو محدود رکھنے کی درخواست کی تھی۔

صدر ممنون حسين نے کئی وفاقی وزراء کی ہمراہ عيد کی نماز اسلام آباد کی فيصل مسجد ميں ادا کی۔ دريں اثناء وزير اعظم نواز شريف نے بھی اپنا دورہ برطانيہ محدود کر ديا ہے اور وہ آج صبح ہی پاکستان واپس پہنچ چکے ہيں۔ اطلاعات ہيں کہ وہ بہاولپور پہنچ گئے ہيں اور عنقريب متاثرہ علاقے و ہسپتالوں کا دورہ کريں گے۔

ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی ميں بھی چار ہزار مختلف مقامات پر عيد الفطر کی نماز ادا کی گئی۔ انسپيکٹر جنرل آف سندھ پوليس اے ڈی خواجہ نے کراچی ميں سخت سکيورٹی انتظامات کے احکامات جاری کيے ہيں۔ شہر ميں تقريباً نو ہزار پوليس اہلکار تعينات ہيں۔ اسی دوران کراچی اليکٹرک کی ترجمان سعديہ دادا نے بھی گزشتہ رور کہا تھا کہ عيد کے تين دنوں کے دوران لوڈ شيڈنگ نہيں ہو گی۔

پاکستان ميں گزشتہ ہفتے ہونے والے متعدد دہشت گردانہ حملوں اور اتوار کو پہاولپور ميں ہونے والے سانحے کی وجہ سے اگرچہ لوگ عيد منا رہے ہيں تاہم اسی دوران سوگ کی سی کيفيت بھی طاری ہے۔ بہاولپور ميں آئل ٹينکر حادثے ميں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 153 ہو گئی ہے۔ پير کی صبح بھی پہاولپور ميں ہسپتالوں کے باہر  زخمیوں اور تیماداروں کی لمبی لمبی قطاريں موجود ہیں۔