1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان: عازمِ امریکہ مسافروں کی انتہائی سخت چیکنگ

پاکستان سے امریکہ جانے والے مسافروں کو سیکیورٹی چیکنگ کے سخت مراحل سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ ایسا امریکی حکومت کی طرف سے پاکستان سمیت چودہ ملکوں سے آنے والے مسافروں کیلئے سیکورٹی چیکنگ سخت کرنے کے اعلان کے بعد کیا گیا ہے۔

default

لاہور (پاکستان) کا علامہ اقبال ایئر پورٹ

امریکہ جانے والے پاکستانی مسافروں کو پہلے مرحلے پر چیکنگ کے تمام روایتی اور سخت مراحل سے گزارا جاتا ہے۔ ان کی گاڑیوں، سامان اور جسم کی تلاشی لی جاتی ہے۔ بعض ایئر پورٹس پر ان کے انگوٹھوں کے نشانات حاصل کئے جاتے ہیں اور ان کی تصاویر بھی اتاری جاتی ہیں۔ ان مسافروں کو ان کے جوتے، بیلٹیں اور گھڑیاں اتروا کر واک تھرو سکینرز سے گزارا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے سامان کی مینویل چیکنگ بھی کی جاتی ہے۔

ان سارے مراحل سے گزارنے کے بعد، مسافروں کو روانگی کے مخصوص حصے (ڈیپارچر لاؤنج ) میں بھیج دیا جاتا ہے لیکن یہاں سے امریکہ جانے والے مسافروں کو جہاز میں سوار ہونے کی بجائے دوسرے مسافروں سے الگ کر کے ان کی ایک مرتبہ پھر تفصیلی جسمانی تلاشی لی جاتی ہے اور ان کے دستی سامان کو بھی از سر نو چیک کیا جاتا ہے۔

امریکہ جانے والے بعض مسافروں نے ریڈیو ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ انہیں ایک مخصوص سائز کا دستی بیگ ساتھ لے جانے کی اجازت ہے اور جن مسافروں کے پاس اس سائز کے دستی بیگ نہیں ہوتے، اُنہیں یہ بیگ لے جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

Lahore Anzeige PIA in Zetungen

پی آئی اے کی جانب سے اخبارات میں شائع کروائے جانے والے اشتہار کا عکس

کئی دیگر ملکوں کو جانے والے مسافروں کو سو ملی لیٹر تک مائع اشیا (پرفیوم، طبی سیرپ اور باڈی لوشن وغیرہ) جہاز میں لے جانے کی اجازت ہے لیکن امریکہ جانے والے مسافروں سے دوائیوں سمیت ہر قسم کی مائع اشیا لے لی جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ امریکہ جانے والے طیاروں کو کیٹرنگ (کھانے پینے)کی سہولت فراہم کرنے والے اداروں سے کہا گیا ہے کہ امریکہ جانے والے جہازوں میں مسافروں کیلئے وہی کھانا جا سکتا ہے، جو ٹن پیک میں دستیاب ہو گا۔ امریکہ جانے والے مسافروں کی سیکیورٹی چیکنگ کیلئے زیادہ تجربہ کار اور اضافی سٹاف تعینات کیا گیا ہے۔ ایئر پورٹ سیکیورٹی فورس اور ایف آئی اے کے علاوہ بعض خفیہ اداروں کے ارکان اور امریکہ جانے والے جہازوں کا عملہ بھی مسافروں کی سیکیورٹی چیکنگ کرتا ہے۔

پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز کے ترجمان سید سلطان حسن نے ریڈیو ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ امریکہ کی ٹرانسپورٹ سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن نے دیگر ایئرلائنز کی طرح پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کو بھی حال ہی میں ایک سرکلر بھجوایا تھا، جس میں ایئر لائنز کے حکام سے کہا گیا تھا کہ وہ امریکہ جانے والے جہازوں پر سوار ہونے والے مسافروں کی مؤثر سیکیورٹی چیکنگ کو یقینی بنائیں۔ سرکلر کے مطابق اگر امریکہ پہنچنے پر جہاز میں سوار کسی مسافر کے بارے میں انہیں کوئی شکایت ملی تو وہ پورے جہاز کو واپس بھجوا سکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایئر لائنز کو پچیس ہزار ڈالر کا جرمانہ کر دیا جائے۔ یہ خط ملنے کے بعد پی آئی اے نے لاہور اور کراچی کے ایئر پورٹس (جہاں سے امریکہ کیلئے فلائٹس جاتی ہیں) پر سیکیورٹی چیکنگ کے انتظامات کافی سخت کر دئے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکہ سے پاکستان آنے والی تمام فلائٹس براہ راست پاکستان پہنچتی ہیں جبکہ پاکستان سے امریکہ جانے والے جہازوں کو پہلے مانچسٹر روکا جاتا ہے، جہاں پر مسافروں کو ایک مرتبہ پھر تلاشی کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔

Lahore Flughafen Abflughalle

لاہور ایئر پورٹ کے ڈیپارچر لاؤنج کا ایک منظر

ایک مقامی ٹریول ایجنسی کے مالک چوہدری احتشام الحق نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ امریکہ جانے والے مسافروں کے ٹکٹ کی بکنگ کرنے والے ٹریول ایجنٹس کو اس بات کا پابند بنا دیا گیا ہے کہ وہ مسافر کے بارے میں تمام معلومات بشمول امریکہ میں ان کی رہائش کے پتہ جات وغیرہ پیشگی طور پر فراہم کریں۔

پاکستان میں سیکیورٹی چیکنگ کے تازہ اقدامات پر امریکہ جانے والے مسافروں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ملک منظور نامی ایک مسافر کا کہنا تھا کہ ان سیکیورٹی اقدامات سے مسافروں کو کئی کئی گھنٹے ایئر پورٹس پر رکنا پڑے گا، جس سے اُن کا وقت ضائع ہو گا۔

پی آئی اے کے ٹاؤن آفس کے باہر موجود طاہر جاوید نامی ایک مسافر کا کہنا تھا کہ امریکہ ایسی سخت پابندیاں لگانے کی بجائے اپنی ان پالیسیوں کو تبدیل کرے، جو لوگوں میں اشتعال پیدا کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔

لاہور چیمبرز آف کامرس کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن، پاکستان کمپیوٹر ایسوسی ایشن کے صدر اور پاکستان امریکن بزنس فورم کے نائب صدر محمد ابراہیم قریشی نے کہا کہ امریکہ جانے والے مسافروں پر لگائی جانے والی حالیہ پابندیاں غیر منصفانہ ہیں۔ اس سے پاکستان کی کاروباری شخصیات کی مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان چودہ ملکوں سے تعلق رکھنے والے صاحب استطاعت لوگ اب چھٹیاں گزارنے، علاج کرانے اور تعلیم حاصل کرنے کیلئے امریکہ کی بجائے دیگر ملکوں کی طرف جانے کو ترجیح دیں گے، جس کی وجہ سے خود امریکہ کو بھی مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کے مطابق بعض امریکی ایئر پورٹس پر مکمل جسمانی تلاشی کیلئے لگائے جانے والے سکینرز مسافروں کے انسانی حقوق کے منافی ہیں۔

Umar Farouk Abdulmutallab

نائیجیریا کا نوجوان عمر فاروق عبدالمطلب، جس نے ایمسٹرڈم سے ڈیٹرائٹ جانے والی پرواز پر خود کو دھماکے سے اڑانے کی کوشش کی۔

ابراہیم قریشی کا یہ بھی کہنا تھا کہ پچھلے چند سالوں کا ریکارڈ اٹھا کر اگر دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ دہشت گردی کی بیشتر وارداتیں خود امریکہ یا یورپ کی سرزمین سے کی گئی ہیں۔ نائن الیون کا واقعہ ہو یا کرسمس کے موقع پر جہاز تباہ کرنے کی سازش، سارے ملزم امریکہ اور یورپ کی سر زمین پر جرم کا ارتکاب کرتے پائے گئے ہیں۔ پاکستان سے جانے والے مسافر کبھی بھی اس طرح کی وارداتوں میں ملوث نہیں رہے ہیں، اِس لئےامریکہ کو اپنی سر زمین پر سیکیورٹی کو بہتر کرنا چاہئے اور اپنی ذمہ داری دوسرے ملکوں پر ڈالنے سے گریز کرنا چاہئے۔

ابراہیم قریشی کہتے ہیں کہ چند ہفتے پہلے سرگودھا سے چند امریکی شہری دہشت گردی کی ایک واردات کا منصوبہ بنانے کے جرم میں پکڑے گئے۔ پاکستانی حکومت نے اپنی عدالتوں میں اُن کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی لیکن ایسا طرز عمل اختیار نہیں کیا کہ جس کے نتیجے میں امریکہ سے آنے والے سارے امریکیوں کو لائنوں میں کھڑا کر کے ہاتھ اوپر اٹھوا کر اور جوتے اتروا کر کئی کئی گھنٹے سیکیورٹی کے مراحل سے گزارا جائے۔ ان کے مطابق ایک فرد کے گناہ کی سزا ساری قوم کو دینا مناسب نہیں ہے۔

ابراہیم قریشی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک طرف امریکی وزیر خارجہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کاوشوں کو سراہتی ہیں اور اسے اپنا اہم اتحادی قرار دیتی ہیں جبکہ دوسری طرف دنیا کے ایک سو دو ملکوں میں سے خطرناک قرار دئے جانے والے چودہ ملکوں میں پاکستان کا شمار کر کے عالمی سرمایہ کاروں کو غلط سگنل بھیج رہی ہیں، جو کہ امریکہ کے دوستی کے دعووں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق پاکستان کی معیشت پر حالیہ پابندیوں کے اثرات اچھے نہیں ہوں گے اور ویزے اور سفر پر لگائی جانے والی پابندیوں اور رکاوٹوں کی وجہ سے امریکہ سے پاکستان آنے والی سرمایہ کاری میں کمی بھی واقع ہو سکتی ہے۔

ممتاز دانشور ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کا کہنا ہے کہ ایک طرف امریکہ پاکستانی وفاقی وزراء اور قومی رہنماؤں کی جوتے اتروا کر اور ہاتھ کھڑے کروا کر اپنے ایئر پورٹس پر تلاشیاں لیتا ہے جبکہ امریکہ سے پاکستان آنے والے بعض امریکی شہری پاکستانی قانون کا احترام نہیں کرتے ہیں۔ وہ اسلحے سمیت پکڑے جائیں یا ویزے کے قواعد کی پابندی نہ کریں، تو ان کے ساتھ بھی قانون کے مطابق سخت رویہ اختیار کیا جانا چاہئے۔ ان کے مطابق پاک امریکہ تعلقات کو دونوں ریاستوں کے باہمی احترام کے اصول پر آگے بڑھنا چاہئے۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: امجد علی