1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان: طالب علم اور اس کے استاد پر توہینِ مذہب کا الزام

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک نو عمر پاکستانی لڑکے اور اُس کےدینی تعلیمات کے استاد پر توہینِ مذہب کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ مبینہ طور پر نو عمر لڑکے کو قرآن کے جلتے ہوئے صفحات کے ساتھ پکڑا گیا تھا۔

Symbolbild - Koran (Getty Images/AFP/M. Al-Shaikh)

پاکستانی قوانین کے تحت قرآن کی کسی قسم کی بے حرمتی پر عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع قصور میں سینیئر پولیس افسر عارف رشید نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ علاقے کے رہائشیوں نے مدرسے کے ایک طالب علم کو  قرآنی صفحات جلاتے ہوئے دیکھا۔ جب اُس سے پوچھا گیا کہ وہ ایسا کیوں کر رہا تھا تو اُس نےجواب دیا کہ اس کے استاد نے کہا تھا کہ قرآن کے پرانے صفحات کو تلف کرنے کا یہ درست طریقہ ہے۔

 دینی علماء قرآن کے ٹیکسٹ کو دو طریقوں سے تلف کرنا درست قرار دیتے ہیں۔ اوّل طریقہ یہ ہے کہ قرآن کو کپڑے میں بند کر کے زمین میں دفن کر دیا جائے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اسے بہتے پانی کے سپرد کر دیا جائے تاکہ الفاظ کی سیاہ مکمل طور پر مٹ جائے۔ پاکستانی قوانین کے تحت قرآن کی کسی قسم کی بے حرمتی پر عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ سن دو ہزار پندرہ میں صوبہ پنجاب میں ایک کارخانے کو مشتعل ہجوم نے آگ لگا دی تھی۔ فیکٹری کے ملازمین میں سے ایک پر الزام تھا کہ اُس نے بوائلر میں قرآن کے صفحات جلائے تھے۔

Asia Bibi, in Pakistan für Blasphemie zum Tode verurteilt (picture-alliance/dpa/Governor House Handout)

آسیہ بی بی پر سن 2010 میں توہین مذہب کا الزام عائد کیا گیا تھا

 مقامی پولیس افسر رشید کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر قرآن کی بے حرمتی کے مرتکب ہونے والے طالب علم اور استاد دونوں پر قانون کی دفع دو سو پچانوے بی کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جس کے تحت بے حرمتی کی سزا عمر قید ہے۔ یہ کیس ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صرف ایک دن قبل پاکستانی سپریم کورٹ نے توہین مذہب کے جرم میں سزا پانے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی جانب سے دائر کردہ اپیل پر اپنی سماعت مؤخر کی ہے۔

 اپیل کی سماعت کے لیے بنائے گئے تین رکنی بینچ میں شامل جج اقبال حمید الرحمان نے مقدمے کی کارروائی میں اپنے شریک ہونے سے معذوری ظاہر کی تھی۔ آسیہ بی بی کی اپیل کی سماعت کے لیے فی الحال سپریم کورٹ نے کسی نئے بینچ کے قیام کا اعلان نہیں کیا۔ آسیہ بی بی پر سن 2010 میں توہین مذہب کا الزام عائد کیا گیا تھا جس کے بعد اسے عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔

DW.COM