1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان طالبان کے خاتمے کے لیے ’مزید ‘ اقدامات کرے: امریکی وزیرِ خارجہ

آسٹریلیا کے مختصر دورے پر آئیں امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس نے پاکستانی حکومت پر ایک مرتبہ پھر زور ڈالا ہے کہ وہ اپنے قبائلی علاقوں میں طالبان کے خلاف مزید کارروائی کرے۔

default

امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس

پاکستانی وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی اگلے ہفتے امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں جہاں ان کی ملاقات امریکی صدر جارج ڈبلیو بش سے بھی ہوگی۔

دورے سے قبل انہوں نے پاکستانی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے یہ کہنا ضروری سمجھا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ سے ڈکٹیشن لینے نہیں جا رہے ہیں۔ مگر امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس نے یوسف رضا گیلانی کو پہلے ہی خبردار کردیا ہے کہ پاکستان کے شِمال مغربی قبائلی علاقوں میں طالبان کا منظّم ہونا امریکہ اور اتحادی ممالک کے لیے کسی طور پر قابلِ قبول نہیں ہے اور پاکستانی حکومت ’مزید‘ اقدامات کرے۔ اس سے مراد یہی لی جا سکتی ہے کہ پاکستان مناسب اقدامات نہیں کر رہا ہے۔


امریکی وزیرِ خارجہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے سیکیورٹی اجلاس میں شرکت کے بعد آسٹریلیا پہنچی تھیں جہاں آسٹریلیا کے وزیرِ خارجہ کے ہمراہ انہوں نے پاکستان کو یہ تنبیہہ کرنا ضروری سمجھا۔

اس سے قبل امریکہ کے اعلیٰ ترین فوجی عہدیدار یہ بات متواتر کہہ چکے ہیں کہ القاعدہ عراق کے بجائے اب اپنی توجّہ پاکستان پر مرکوز کیے ہوئے ہے۔ چند ہفتوں قبل کابل میں واقع بھارتی سفارت خانے پر خودکش حملے کے بعد تو پاکستان کے لیے صورتِ حال مزید خراب ہوگئی ہے۔ افغانستان اور بھارت کی حکومتوں نے بلا جھجک اس حملے کا الزام پاکستان کی خفیہ تنظیم آئی ایس آئی پر عائد کیا ہے۔


آسیان کے اجلاس میں امریکہ کی شمولیت کچھ عرصہ قبل تو حیران کن تھی مگر گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد جس طرح امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پہلے افغانستان داخل ہوا اور پھر عراق میں، ایشیا میں امریکی مفادات اتنے زیادہ ہو چکے ہیں کہ اس نوعیت کے اجلاسوں میں خود امریکی وزیرِ خارجہ کی شرکت اب ایک معمول کی بات ہے۔ اس کے علاوہ خود جنرب مشرقی ایشیائی ممالک میں بھی اسلام پسندی اور انتہا پسندی میں حالیہ برسوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔


بین الاقوامی زرائع ابلاغ میں یہ کہا جا رہا ہے کہ پاکستانی وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کو امریکہ کے دورے پر امریکی حکّام چند دو ٹوک احکامات جاری کریں گے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شاید اب امریکی انتظامیہ ، اور باراک اوباما کی ممکنہ اگلی انتظامیہ کا مرکز افغانستان ہوگا اور بہت سے مبصرین کے مطابق پاکستان کو اپنے علاقوں میں طالبان کے خلاف ایک ایسی پالیسی اختیار کرنی پڑے گی جو پاکستان کے تمام اداروں کے لیے بھی قابلِ قبول ہو، اور یہ کہ وہ امریکہ کے لیے قابلِ قبول ہو۔